بی بی سی نے حقائق بیان کردیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی تنویر ملک بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ڈھائی سالہ دورِ حکومت میں پاکستان نے 20 ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ واپس کیا ہے جو بیرونی قرضوں کی ریکارڈ واپسی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے اپنے ڈھائی سالہ دور حکومت میں 20 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے تو واپس کیے ہیں تاہم ان کے دور اقتدار میں ملک کا مجموعی بیرونی قرضہ تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق حکومت نے قرض تو واپس کیا ہے لیکن اس بیرونی قرض کو اتارنے کے لیے اس نے نیا قرض لے کر ملک پر قرضوں کا مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔پاکستان کے ذمے واجب الادا مجموعی رقم اس وقت 115 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 31 دسمبر 2020 تک ملک کا مجموعی قرض 115.756 ارب ڈالر تھا۔ایک سال پہلے یعنی 31 دسمبر 2019 کو 110.719 ارب ڈالر تھا یعنی پاکستان کے ذمے مجموعی طور پر واجب الادا قرض میں ایک سال میں پانچ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔پاکستان کی فنانس ڈویژن میں قائم ڈیبٹ آفس کے ڈائریکٹر جنرل عبد الرحمن وڑائچ نے بی بی سی کو بتایا کہ سٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار میں ملک کے مجموعی طور پر بیرونی قرض کی بات کی گئی ہے۔اس قرض میں حکومت پاکستان کی جانب سے لیے جانے والے قرضے کے علاوہ حکومتی تحویل میں چلنے والے اداروں کی جانب سے لیا گیا قرض بھی شامل ہے تو اس کے ساتھ ملک کے نجی شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے بیرون ملک سے لیا گیا قرض بھی شامل ہے۔ یہ رقم صرف حکومت نہیں بلکہ پورے پاکستان کی واجب الادا رقم ہے۔عبد الرحمان وڑائچ نے

بیرون ملک سے لیے جانے والے حکومتی قرضے پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ قرضہ اسی ارب ڈالر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت بیرونی اور داخلی ذرائع سے قرض حاصل کرتی ہے۔ حکومتی قرضے کو دیکھا جائے تو اس میں سے ایک تہائی قرض بیرونی ذرائع سے حاصل کیا گیا اور دو تہائی قرضہ داخلی ذرائع یعنی مقامی بینکوں سے لیا جانے والا ادھار ہے۔انھوں نے کہا کہ ملک کے جی ڈی پی اور قرض کے درمیان تناسب پر بات کی جائے تو یہ تقریباً تیس فیصد ہے۔وزیر اعظم عمران خان کے دعویٰ کے مطابق موجودہ حکومت نے اپنے ڈھائی سالہ دور اقتدار میں 20 ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ واپس کیا ہے۔ڈارسن کے ہیڈ آف ریسرچ یوسف سعید نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے واپس کیے گئے بیرونی قرض کی واپسی کی تصدیق سرکاری اعداد و شمار سے ہوتی ہے۔انھوں نے بتایا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلے گا کہ موجودہ حکومت کی مدت شروع ہونے سے لے کر 31 دسمبر 2020 تک اس حکومت نے 20.454 ارب ڈالر کا بیرونی قرض واپس کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان مسلم لیگ نواز کے پہلے ڈھائی سالہ دور حکومت میں بیرونی قرض کی واپسی کو دیکھا جائے تو اس کی مالیت 9.953 ارب ڈالر تھی۔ ان کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی حکومت کے پہلے ڈھائی سالوں میں 6.454 ارب ڈالر کا بیرونی قرض واپس کیا تھا۔عبد الرحمن وڑائچ سے جب پوچھا گیا کہ کیا موجودہ

حکومت نے بیرونی قرضے کی واپسی کا ریکارڈ قائم کیا ہے تو اس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اگر اعداد و شمار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو یقینی طور پر یہ سب سے زیادہ ادا کیا جانے والا قرضہ ہے لیکن اسے ہمیں معیشت کے حجم کے تناظر میں بھی دیکھنا ہوگا کیونکہ معیشت کا سائز بڑھا ہے تو اس لحاظ سے قرض بھی زیادہ لیا گیا ہے اور اسی حساب سے اس کی واپسی بھی زیادہ ہوئی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قرض اور اس کی واپسی کو معیشت کے حجم سے دیکھنا ہی مناسب ہوتا ہے۔عبد الرحمان وڑائچ نے بتایا کہ واپس کیے جانے والے قرضے میں نوے فیصد سے زائد حصہ تو پرنسپل اماونٹ یعنی اصل رقم ہے اور سود کی ادائیگی بہت کم ہے۔انہوں نے بتایا کہ بیرونی ملک سے حاصل کیے گئے قرض پر شرح سود بہت کم ہوتا ہے اور یہ دو تین فیصد تک ہونے کے ساتھ اس کی واپسی بھی طویل مدتی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کی پاکستان کی بیرونی قرض کی واپسی کا میچورٹی دورانیہ اوسطاً سات سال بنتا ہے جو بہت اچھا دورانیہ سمجھا جاتا ہے اور بیرون ملک قرضے دینے والے ادارے بھی اسی وجہ سے پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں کہ ملک قرض لینے اور واپس کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔انھوں نے کہا کہ ہر سال پاکستان کے ذمے بیرونی قرض میں سے آٹھ سے دس ارب ڈالر ادائیگی کے لیے میچور ہوجاتا ہے۔ ان کے مطابق اس کی ادائیگی کے لیے نیا قرض لینا پڑتا ہے تو اس کے ساتھ بجٹ خسارے کے لیے مزید قرض بھی حاصل کرنا پڑتا ہے جو تقریباً پانچ ارب ڈالر کے لگ بھگ ہوتا ہے۔ماہر معیشت قیصر بنگالی نے اس سلسلے میں کہا

کہ وزیر اعظم کی جانب سے 20 ارب ڈالر قرضے کی واپسی کی تصدیق اگر سرکاری اعداد و شمار سے ہوتی ہے تو اسے جھٹلانے کی کوئی ضرورت نہیں تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ بیرونی قرضہ پاکستان نے اپنے وسائل پیدا کر کے ادا کیا یا پھر بیرون ملک سے نیا قرض اٹھا کر پرانا قرض ادا کیا۔قیصر بنگالی نے کہا کہ اب تک یہی ہوتا آرہا ہے اور اب بھی یہی ہوا کہ بیرونی قرضوں کی واپسی کے لیے نیا قرض اٹھایا گیا جو حکومتی اعداد و شمار سے ظاہر ہے کہ بیرون ملک سے لیے جانے والے قرض کی مالیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے 20 ارب ڈالر کے بیرون ملک قرضے کی واپسی کے باوجود 31 دسمبر 2019 سے 31 دسمبر 2020 کے درمیان ملک کے ذمے بیرونی قرضے میں پانچ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا جو 110 ارب ڈالر سے 115 ارب ڈالر تک بڑھ گیا۔عبد الرحمن وڑائچ نے کہا کہ یہ ملک میں حکومتوں کی پالیسی رہی ہے کہ اندرونی و بیرونی ذرائع سے قرض لے کر اپنے بجٹ خسارے کو پورا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں بین الاقوامی اداروں سے لیے گئے قرضے کے علاوہ مقامی طور پر بینکوں سے لیا جانے والا ادھار بھی شامل ہے۔ انھوں نے کہا یہ حکمت علمی مختلف حکومتوں نے اپنائی ہے۔عبد الرحمان وڑائچ نے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں کو قرضہ لینا پڑتا ہے اور قرضہ لینا کوئی بری بات نہیں تاہم یہ ضروری ہے کہ یہ قرضہ کیسے خرچ ہوتا ہے۔’اگر یہ قرضہ پیداواری شعبے کو بڑھانے کے لیے خرچ ہو رہا ہے اور اس سے معیشت کا حجم بڑھ رہا ہے تو یہ بہت اچھی پالیسی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ قرضہ ایک دو دھاری تلوار ہے اسے آپ اپنے فائدے اور نقصان کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اسے کیسے استعمال کرتے ہیں۔قیصر بنگالی نے اس سلسلے میں کہا اگر ملک بیرونی قرضہ لے کر اپنی آمدنی بڑھاتا ہے اور اثاثے بناتا ہے تو ایسا قرضہ لینے میں کوئی مسئلہ نہیں جیسا کہ ہم نے پاکستان میں ساٹھ اور ستر کی دہائی میں دیکھا کہ قرض لے کر میگا پراجیکٹس یعنی ڈیم وغیرہ بنائے گئے۔’تاہم نوے کی دہائی سے قرض جس پالیسی کے تحت لیا جارہا ہے وہ ‘لون پروگرامز‘ ہوتے ہیں کہ جب میں بیرون ملک سے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے قرض لیا جاتا ہے تو اس کا معیشت اور ملک پر بہت منفی اثر پڑتا ہے اور ملک قرضوں کے چنگل میں پھنسا چلا جاتا ہے۔‘

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *