بی بی سی کی حیران کن رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) مذہبی اور سیاسی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کا دھرنا پیر کی رات وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وفاقی وزرا کے ساتھ ایک سادہ کاغذ پر طے پانے والے معاہدے پر دستخطوں کے بعد اختتام پذیر ہوا۔تحریک لبیک نے اس معاہدے کی سوشل میڈیا پر خوب تشہیر بھی کی۔

اس بار اس مذہبی تنظیم سے کیے گئے معاہدے پر کسی حاضر سروس جنرل کے دستخط تو نہیں تھے مگر وزیر داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ اور وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری کے دستخط ضرور ثبت ہیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔اس معاہدے پر دوسری طرف تحریک لیبک کے چند رہنماؤں کے بھی دستخط ہیں۔اس معاہدے کے چند نکات میں سب سے پہلا فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں کے نتیجے میں پاکستان میں مقیم فرانسیسی سفیر کو دو سے تین ماہ کے عرصے میں پارلیمنٹ سے فیصلہ سازی کے ذریعے ملک بدر کرنے کے بارے میں ہے۔اس معاہدے میں حکومت کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ جہاں سرکاری سطح پر فرانس کی اشیا کا بائیکاٹ یقینی بنائے گی وہیں اس معاہدے کی روح سے حکومتِ پاکستان فرانس میں اپنا سفیر تعینات نہیں کرے گی۔حکومت نے مذہبی تنظیم کے اسیر کارکنان پر مقدمات ختم کرتے ہوئے انھیں فوراً رہا کرنے کے احکامات دیتے ہوئے اس معاہدے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔اب ان نکات کو دیکھ کر چند سوالات ذہن میں آتے ہیں۔ پہلا تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی دوسرے ملک کے سفیر کو کن وجوہات پر ملک بدر کیا جاسکتا ہے اور کیا گلی محلے سے شروع ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں خارجہ پالیسی کے خدوخال میں اتنی بڑی تبدیلی رونما کی جا سکتی ہے۔چند ہزار افراد ایٹمی صلاحیت والی دنیا کی چھٹی بڑی افواج کی حامل ریاست، اس کے سول اداروں اور حکومت کو دباؤ میں لا کر جو چاہے منوا سکتے ہیں؟

کیا غیر ملکی سفیر کو اس طرح چند ہزار افراد کے مطالبے پر بے دخل کرنا بین الااقوامی قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں ہو گی؟کیا ایسے کاغذی معاہدے کی کوئی قانونی یا اخلاقی حیثیت بھی ہوتی ہے؟پاکستان اور فرانس کے تعلقات پر نظر رکھنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ اس کے دو پہلو ہیں۔۔۔ ایک معاشی اور دوسرا سیاسی۔ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے سے قبل حالیہ دنوں میں رونما ہونے والے چند اہم واقعات کو دیکھنا اور سمجھنا بھی ضروری ہے۔پہلی بات یہ کہ کسی سفیر کو نکالنے کا بنیادی حق ملک کی وزارتِ خارجہ پر ہوتا ہے نہ کہ پارلیمان پر۔۔۔ تو یہ کہنا کہ پارلیمان کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا، یہ کہنا بے جا ہوگا۔‘کسی سفیر کو نکالنا قانون کی خلاف ورزی نہیں مگر ایسے غیر معمولی اقدام دو ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کو نقصان ضرور پہنچا دیتا ہے۔ اور اس تمام تر عمل میں وزارتِ خارجہ کا کردار سب سے واضح ہوتا ہے کیونکہ اس فیصلے کی منظوری دفترِ خارجہ سے آتی ہے جس پر حکومت عمل کرتے ہوئے سفیر کو جلد از جلد نکلنے کا فرمان جاری کردیتی ہے۔لیکن یہاں پر غور طلب بات یہ بھی ہے کہ کسی سفیر کو نکالنے کا فیصلہ کم ہی لیا جاتا ہے کیونکہ اپنے ملک کے سفیر کی بے دخلی کو دوسرا ملک اپنی بے عزتی تصور کرتا ہے۔اس اختیار کا استعمال دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو اور حالات کو دیکھتے ہوئے لیا جاتا ہے یا پھر اس صورت میں جب دونوں ملکوں کے درمیان معاملات شدید تنازعات کا شکار ہوں۔

ایک اور صورت وہ ہوتی ہے جس میں کسی سفیر نے کوئی جرم کیا ہو، جس میں دیگر سنگین جرائم گاڑی کے حادثات شامل ہیں۔مثال کے طور پر کم و بیش ہی ایسا ہوا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کی باہمی صورتحال چپقلش کا شکار نہ رہی ہو۔ اس دوران کئی بار دیکھا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے اپنے اپنے ملک میں مقیم سفیروں کو بغیر کسی وجہ اور ثبوتوں کے بے دخل کر دیا۔اس کے علاوہ کسی بھی ملک کے سفیر کو ناپسندیدہ قرار دیا جا سکتا ہے، جس سے مراد یہ ہے کہ کسی بھی سفیر کے ملک میں رہنے پر پابندی عائد کردی جاتی ہے۔اسی لیے زیادہ تر کوشش یہی کی جاتی ہے کہ ایسا فیصلہ کرنے کی نوبت نہ آئے۔ لیکن جب فیصلہ لینے کا وقت آتا ہے تو فوراً اس پر عمل کیا جاتا ہے۔یہ فیصلہ دونوں ملکوں کی باہمی رضامندی سے ہوتا ہے اور سفیر کی سروس کی مدت اسی بنا پر بڑھائی یا کم کی جاتی ہے۔اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ٹی ایل پی کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے نکات پر عمل کرنے سے پاکستان اور فرانس کے تعلقات پر کیا اثر پڑے گا؟’اس وقت پاکستان کو اتحادیوں کی سخت ضرورت ہے اور اس معاہدے پر عمل کرنے سے فرانس کے ساتھ بنائے گئے سفارتی تعلقات متاثر ہوں گے۔‘اگر حالیہ دنوں میں رونما ہونے والے چند واقعات پر نظر دوڑائی جائے تو فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا اور سفیر کو بے دخل کرنا پاکستان کے فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات کو شدید متاثر کرسکتا ہے۔

حالیہ دنوں میں فرانس نے چند اہم مواقع پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے، جس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف کے مختلف اجلاسوں کا تذکرہ کرنا ضروری ہے۔’پلانیری اجلاس سے پہلے فرانس نے پاکستان کو تکنیکی مدد فراہم کی تاکہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی تجاویز پر عمل کرسکے اور ان کو پورا کرسکے۔اس کے علاوہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف سے منسلک تجاویز پر لابی کرنے کی سہولت مہیا کرنے میں بھی فرانس نے خاصی مدد کی اور پاکستان کے بیانیے کے لیے جگہ بنائی۔‘’اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق پر ہونے والی رائے شماری کے دوران فرانس نے پاکستان کا ساتھ دیا۔ جبکہ پاکستان کے لیے سفر سے منسلک ہدایات کو بھی ریڈ زون سے نکال کر اسے کم کر دیا گیا ہے تاکہ پاکستان سے منسلک منفی سوچ میں کمی آسکے۔‘پاکستان ایک وقت میں کئی ممالک سے جھگڑا مول لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ایک جانب سعودی عرب سے پہلے ہی حالات ’نازک ترین موڑ‘ پر پہنچ چکے ہیں اور اس دوران فرانس سے بھی جھگڑا مول لینا ملک کے مفاد میں نہیں ہوگا۔اگر اس معاہدے پر عمل کرنے کے معاشی اثرات دیکھیں تو اس وقت پاکستان میں فرانسیسی مصنوعات میں کاسمیٹکس برانڈ لورئیل کے علاوہ گیس سٹیشن ٹوٹل اور دوا ساز کمپنیاں شامل ہیں۔کشیدہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اگر ایک بھی بین الاقوامی کمپنی پاکستان سے کام لپیٹ کر اپنے ملک واپس چلی جاتی ہے تو باقی بین الاقوامی کمپنیاں بھی ایسا کرنے میں دیر نہیں لگائیں گی اور اس کا معاشی نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑے گا۔’اور جو کچھ وقت سے پاکستان خود کو عالمی سطح پر اکیلا نہیں دیکھنا چاہتا، اس بیانیے کو بھی نقصان پہنچے گا۔‘

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *