بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی شکیل اختر بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔متحدہ عرب امارات کے بعد اب بحرین نے بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے اور منگل کو واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے رہنما اسرائیل

کو تسلیم کرنے کے اس تاریخی معاہدے پر دستخط کریں گے۔یہ دونوں خلیجی ممالک سعودی عرب کے قریب ترین اتحادی ہیں اور بعض مبصرین کے مطابق سعودی عرب کی مکمل حمایت کے بغیر وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتے۔ ۔امارات اوراسرائیل کے حالیہ معاہدے کے اعلان کے بعد پاکستان میں بھی اسرائیل کے سوال پر بحث ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان اپنی حکومت کی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ پاکستان اسرائیل کو تب تک تسلیم نہیں کر سکتا جب تک کہ فلسطینیوں کے مسئلے کو منصفانہ طریقے سے حل نہیں کیا جاتا۔اسرائیل کو تسلیم کرنے کا خیال پاکستان میں آتا جاتا رہا ہے۔ دفاعی امور کی معروف تجزیہ کار عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ مختلف مرحلوں میں پاکستان کے اسرائیل سے غیر رسمی تعلقات بھی رہے ہیں۔’1970 کے عشرے میں پاکستان نے ایران کے توسط سے اسرائیل سے ہتھیار خریدے۔ اس وقت ایران کے شاہ پاکستان کے پیامبر کا کردار ادا کرتے تھے۔ جنرل ضیا الحق کے زمانے میں بھی ایسا ہوا تھا۔ اس وقت پاکستان کے توسط سے امریکہ اور اسرائیل سے ہتھیار خرید کر ایران پہنچائے گئے۔ اس طرح کے غیر رسمی تعلقات تو رہے ہیں لیکن روایتی سفارتی تقلعات قائم کرنے کے بارے میں بات چیت جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہوئی۔‘’پرويز مشرف نے امریکہ میں جیوز کانفرنس سے خطاب کیا تھا۔ انھوں نے اپنے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کو اسرائیلی نمائندوں سے بات چیت کے لیے ترکی بھیجا تھا لیکن بات چیت ایک حد سے آگے نہ بڑھ سکی۔‘ایک ڈیڑھ سال پہلے بھی اس سوال پر بات چیت چلی تھی۔‏

ایک دلیل یہ رہی ہے کہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی پالیسی عرب ممالک کی خاطر اختیار کی تھی اور اب چونکہ عرب ممالک ہی اسرائیل سے تعلقات استوار کررہے ہیں اس لیے پاکستان کو بھی کر لینا چاہیے۔‘جنوبی ایشیا کے خارجی امور کی تجزیہ کار نروپما سبرامنین کہتی ہیں ’خواہ وہ پاکستان کی سویلین حکومت ہو یا پاکستان کی فوج، وہ پیپلز پارٹی کی حکومت ہو یا نواز شریف کی، اندر ہی اندر سبھی یہی چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ سفارتی طریقے سے حل ہو جائے کیونکہ انھیں اب محسوس ہو رہا ہے کہ دنیا بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں اپنے لیے کوئی کردار نہیں دیکھ رہا۔‘پاکستان میں اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کے بارے میں عشروں سے جو بیانیہ رہا ہے اس میں مذہب کا عنصر غالب ہے۔ اس کے پس منظر میں یہودیوں اور مسلمانوں کے تعلقات پر بڑھ چڑھ کر بات ہوتی ہے۔عائشہ صدیقہ کہتی ہیں ’جس طرح ہم نے اپنے معاشرے کی تربیت کی ہے اس میں یہ مسئلہ بہت پیچیدہ ہے۔ یہ ایک دو دن میں نہیں حل ہو سکتا۔ خواہ وہ پاکستان کے عسکری ادارے ہوں یا حکومت، پاکستان کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال بہت بڑا سیاسی اور سفارتی چیلنج ہے۔‘نروپما سبرا منین کے خیال میں ایک برس قبل جب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کی گئی تھی اس وقت پاکستان کی عوام کو عمران خان کی حکومت سے یہ توقع تھی کہ وہ کشمیر کے لیے کسی حد تک جا سکتی ہے لیکن اس نے صرف زبانی لڑائی لڑی، جس سے عوام میں بہت حد تک حکومت سے مایوسی پیدا ہوئی۔’اگر اس وقت پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے یا اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے تو عوام میں یہ تاثر جائے گا کہ پاکستان نے فلسطینیوں کا ساتھ چھوڑ دیا۔ حکومت کے لیے اپنی پوزیشن کا جواز پیش کرنا مشکل ہو جائیگا۔‘عائشہ صدیقہ کہتی ہیں ’کشمیر اور فلسطین ایک طرح سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں ایک طرح کے مسئلے ہیں اگر پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر لیتا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کو کشمیر کے لیے کتنی بڑی قیمت ادا کرنی ہو گی۔‘عائشہ کہتی ہیں ’اگر آپ ایک ایسا قدم اٹھائیں گے جس سے معاشرے میں سخت بے چینی پیدا ہو سکتی ہے تو اس کی قیمت بہت زیادہ ہو گی۔ میرے خیال میں کوئی بھی اس وقت اس حالت میں نہیں جو یہ فیصلہ کر سکے۔‘جس طرح کے اشارے مل رہے ہیں ان سے ایسا لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں دوسرے عرب ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ ٹوٹے پھوٹے فلسطین کا دیرینہ مسلہ بھی کسی شکل میں حل ہو جائے۔اس بدلتی ہوئی صورتحال کا کشمیر کے تنازعے پر بھی براہ راست اثر پڑے گا اور پاکستان کو مستقبل کی اپنی حکمت عملی ابھی سے وضع کرنی ہو گی۔

Comments are closed.