بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

گوجرانوالہ (ویب ڈیسک) پہلوانوں کے شہر’ گوجرانوالہ میں جمعہ کے روز پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ یعنی پی ڈی ایم کا پہلا جلسہ میلے کا سا سماں پیش کر رہا تھا۔شہر کی مرکزی شاہراہ سے چند فرلانگ کے فاصلے پر واقع جناح سٹیڈیم میں قائم جلسہ گاہ تک

جانے والی سڑکوں کو کنٹینر رکھ کر بند کیا گیا تھا۔ نامور صحافی عمر دراز ننگیانہ بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اس لیے شرکا کو وہاں تک پہنچنے کے لیے یا تو ایک طویل چکر کاٹ کر عقبی گیٹ تک پہنچنا تھا۔یا پھر دوسرا راستہ سیدھا تھا مگر اس کے لیے ریلوے لائن عبور کرنا تھی جو زیادہ مشکل کام نہیں تھا۔ اس لیے زیادہ تر عوام وہیں سے داخل ہوئے۔ ریلوے لائن عبور کرنے پر سامنے ڈھول والے کھڑے تھے۔ جو توجہ اپنی طرف مبذول کروانا چاہتا تھا وہ ان کی خدمات لے سکتا تھا۔وہ تقریباً آدھ کلومیٹر دور واقع سٹیڈیم کے گیٹ تک انھیں ڈھول کی تھاپ پر چھوڑ کر آتے تھے۔ ورنہ راستے میں رک کر جوس کی دکانوں اور کھانے پینے کی اشیا کے اسٹال پر بھی رکا جا سکتا تھا۔ لیکن سٹیڈیم کے گیٹ پر پہنچ کر منظر یکسر بدل گیا تھا۔لوگوں کی لمبی قطاریں دوپہر ہی سے بننا شروع ہو گئیں تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید طویل ہوتی چلی گئیں۔ ان میں زیادہ تر افراد نے پی ڈی ایم میں شامل بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔شام تک ان میں جمیعت علما اسلام (ف) عوامی نیشنل پارٹی، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور دیگر کے پرچم بھی شامل ہو چکے تھے۔ لوگوں کو واک تھرو گیٹ سے گزار کر سٹیڈیم میں بھیجا جا رہا تھا اور پولیس یہ یقینی بنا رہی تھی کہ کم از کم وہاں سے گزرنے والے ہر شخص نے ماسک پہنا ہو۔جو لوگ ماسک ساتھ نہیں لائے تھے انھیں سٹیڈیم کے باہر موجود

ماسک بیچنے والوں سے خریدنے پڑے۔ حکومت نے سٹیڈیم میں جلسے کی اجازت کو کورونا کے حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد سے مشروط کیا تھا۔شام کے ڈھلتے سائے کے ساتھ سٹیڈیم کے اندر جگہ بھرنے لگی تھی۔ جناح سٹیڈیم بنیادی طور پر کرکٹ کا گراونڈ ہے جس میں شائقین کے بیٹھنے کے لیے سٹینڈز بنے ہوئے ہیں۔ جلسے کا سٹیج وی آئی پی پویلین کی طرف لگایا گیا تھا جبکہ پنڈال اس کے عین سامنے بنایا گیا تھا۔تماشائیوں کے سٹینڈ کے اوپر دائرے میں پی ڈی ایم کے قائدین کی قدِ آدم تصاویر کھڑی کی گئیں تھیں اور سپیکر سے اتحاد میں شامل جماعتوں کے ترانے بجائے جا رہے تھے۔سٹیڈیم کے اندر ابتدا ہی سے جو سوال سب سے زیادہ گردش کرتا سنائی دیا وہ یہی تھا کہ ‘کتنے لوگ ہوں گے؟’ہر کسی کا اپنا اپنا جواب تھا۔ ن لیگ اور سیاسی جماعتوں کے کارکنان ‘اپنے اندازے کے مطابق چالیس سے پچاس ہزار لوگ بتاتے تھے۔’ کوئی تو لاکھوں میں چلا جاتا تھا۔ گوجرانوالہ کو نون لیگ کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے اور توقع کی جا رہی تھی کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد جلسے میں دیکھنےکو ملے گی۔ایسا ہوا بھی، تاہم اس نوعیت کے سیاسی جلسوں میں ایسے مقامات پر لوگوں کی تعداد کا بالکل درست اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہ کہا جائے کہ سٹیڈیم مکمل طور پر بھر چکا تھا اور باہر بھی لوگوں کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی تو غلط نہ ہو گا۔جس وقت تک نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز کا قافلہ قریباً سات گھنٹے کے سفر کے بعد پہنچا، پنڈال تقریباً پورا بھر چکا تھا۔ صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے جن کے لیے جگہیں مختص کی گئیں تھیں۔سٹیڈیم کے باہر بھی لوگ موجود تھے جن کے لیے ایک بڑی سکرین مرکزی گیٹ کے باہر بھی آویزاں کی گئی تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری لالہ موسٰی سے قافلہ لے کر جب پنڈال میں پہنچے تو پی ڈی ایم کے رہنماؤں کی طرف سے تقاریر کا سلسلہ جاری تھا۔تاہم شرکا میں زیادہ جوش و خروش اس وقت دیکھنے میں آیا جب نون لیگ کے قائد نواز شریف سکرینوں پر دکھائی دیے اور بتایا گیا کہ وہ جلسے میں ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہو چکے ہیں۔ چند تقاریر کے بعد جمیعت علما اسلام (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمان کے پہنچنے کا انتظار کیا گیا تاہم ان کی آمد سے چند لمحے قبل نواز شریف نے اپنے خطاب کا آغاز کیا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *