بی بی سی کی رپورٹ میں اصل وجوہات بیان کر دی گئیں

واشنگٹن (ویب ڈیسک) سب سے پہلے تو اپنے ذہن سے یہ غلط فہمی دور کر لیں کہ سنہ 2016 میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب کا نتیجہ محض ایک حادثہ تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے تین نومبر کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب میں سات کروڑ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ، جو کہ امریکی صدارتی انتخاب کی تاریخ

نامور صحافی نک برائنٹ بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔میں دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ڈالے گئے ووٹوں میں سے 47 فیصد سے زیادہ ان کا حصہ ہے اور اس بار کم از کم 24 ریاستوں میں جیت ان کے نام ہوئی ہے بشمول فلوریڈا اور ٹیکساس۔ملک کے بڑے بڑے حصوں پر ان کا بھرپور اثر رہا ہے جہاں لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں ان کے حامی ہیں۔ چار سالہ حکومت میں ان کے حامیوں نے ان کے دور ِ حکومت کو دیکھا، جانچا، پرکھا اور جب انتخاب کا وقت آیا تو کُھل کر ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیے۔اگر آپ ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی کمزوریوں کی بات کرنا چاہتے ہیں تو یہ نا انصافی ہوگی کہ ان کی سیاسی طاقت کی بات نہ کریں۔ لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ انھیں شکست ہو گئی ہے اور وہ عہدِ جدید میں چوتھے صدر بن گئے ہیں جو دوسرا دورِ صدارت حاصل نہ کر سکے۔اس کے علاوہ یہ پہلا موقع ہے جب کوئی صدر لگاتار دو بار مقبول ووٹوں کی دوڑ ہار جائے۔چار سال قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ اگر نیو یارک کی مشہور ففتھ ایوینیو سڑک پر کسی کو گولی مار دیں تو بھی ان کے ووٹ بینک پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور لوگ ان کی حمایت کرتے رہیں گے۔ لیکن ان کی اپنی پارٹی میں کئی لوگ ایسے ہیں جو ان کے جارحانہ مزاج سے خائف ہو گئے۔اگر امریکی الیکشن میں ڈالے گئے ووٹوں کا تجزیہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے

کہ ملک میں373 کاؤنٹیز میں جو بائیڈن نے ہلیری کلنٹن سے بہتر کارکردگی دکھائی جس کی مدد سے وہ پینسلوینیا، وسکانسن اور مشیگن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اس سال کے صدارتی انتخاب میں وہی ہوا جو 2018 کے وسط مدتی انتخاب میں ہوا تھا۔ پڑھے لکھے رپبلکن جنھوں نے چار سال قبل ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا، اس بار ان کو ووٹ دینے پر آمادہ نہ ہوئے کیونکہ وہ ان کے طرز عمل اور رویے سے نا خوش تھے۔وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحیت سے نالاں تھے۔ ادھر ڈونلڈ ٹرمپ کی بڑھکیں بھی عجیب نوعیت کی تھیں۔ کبھی خود کو ‘بہت مستحکم ذہین شخص’ کہنا۔ کبھی سازشی خیالات کا پرچار کرنا، اور کبھی ایسی زبان کا استعمال کرنا جو کسی صدر کے شایان شان نہیں تھی بلکہ کسی جرائم پیشہ خاندان کے افراد کی زبان لگتی تھی۔پھر اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ناقد ان کو آمرانہ طبیعت کا مالک قرار دیتے اور اس کی مثال دی کہ صدر نے انتخاب میں سامنے آنے والے نتائج ماننے سے انکار کر دیا۔میرے لیے اس صدارتی انتخاب کا اہم موقع اس وقت آیا جب میں پٹزبرگ شہر میں تھا اور ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی سے بات چیت کر رہا تھا۔چک ہاؤنسٹائین نے مجھے بتایا کہ 2016 میں انھوں نے ٹرمپ کو ووٹ دیا لیکن اس بار جو بائیڈن کو۔چک نے مجھ سے بات کرتے ہوئے کہا: ‘لوگ تنگ آ گئے ہیں۔ وہ حالات کو معمول پر لانا چاہتے ہیں۔ وہ اخلاقیات کو واپس دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اس نفرت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

وہ اس ملک کو متحد کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہ سب لوگ مل ک جو بائیڈن کو صدارت دلوائیں گے۔’صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک بڑی سیاسی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے اپنے سیاسی حامیوں کو بڑھانے کی کوشش ہی نہیں کی۔ 2016 میں وہ 30 ریاستوں میں کامیاب ہوئے تھے اور ان کے اقدامات سے لگتا تھا کہ وہ صرف ان لوگوں کے صدر ہیں جنھوں نے ان کو ووٹ دیا ہے۔انھوں نے تو ذرہ برابر بھی کوشش نہیں کی کہ ملک کی آبادی کی ایک بڑی تعداد جو ڈیموکریٹک تھی، ان کے لیے کچھ کریں۔لیکن اس سال کے انتخاب گذشتہ انتخاب جیسے نہیں تھے۔ اس بار صدر ٹرمپ غیر سیاسی شخص نہیں تھے، اس بار وہ صدر تھے۔ ان کا اپنی صدارت کا دفاع کرنا تھا۔ اور اس دورِ صدارت میں کورونا وائرس کی وجہ سے اب تک 230000 امریکیوں کا انتقال ہو چکا ہے ۔ایک اور عنصر یہ تھا کہ ان کے مدمقابل کوئی متنازع شخصیت نہیں تھی جنھیں لوگ ناپسند کرتے تھے، جیسا کہ 2016 میں ہلیری کلنٹن کی صورت میں ہوا تھا۔اس بار ان کا سامنا تھا سابق نائب صدر جو بائیڈن سے تھا جو کہ بہت اچھی شہرت کے حامل تھے اور شاید یہی وجہ تھی کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی خواہش تھی کہ وہ انتخاب میں حصہ لیں اور صدارتی امیدوار بنیں۔پارٹی کو توقع تھی کہ 77 سالہ جو بائیڈن سفید فام مزدوروں کے طبقے کے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو امریکہ کی ‘رسٹ بیلٹ’ کہلائے جانے والی ریاستوں میں رہتے ہیں۔لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخاب میں شکست پر اٹھنے والے سوالات

میں ایک بڑا دلچسپ سوال یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست ‘کب’ ہوئی؟کیا یہ ان کی 2016 میں جیت کے فوراً بعد تھا جب جن لوگوں نے ان کو ووٹ دیا تھا ان کا اندازہ ہوا کہ انھوں نے تو صرف اس لیے ووٹ دیا تھا کہ وہ واشنگٹن میں سیاسی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ووٹ ڈال رہے ہیں، بغیر یہ سوچے کہ ٹرمپ جیت بھی سکتے ہیں۔کیا یہ صدارت جیتنے کے 24 گھنٹوں بعد تھا جب انھوں نے اپنی پہلی تقریر میں امریکہ کا ایسا منظر پیش کیا تھا کہ پورا ملک تباہ ہو رہا ہے، فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، متوسط طبقے اور مزدور طبقے کو بھلا دیا گیا ہے۔اس دن جب انتخاب جیتنے کے 24 گھنٹے گزر گئے تو دنیا کو اسی وقت علم ہو گیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ خود کو نہیں بدلیں گے بلکہ صدارت کو تبدیل کر دیں گے۔ یا پھر یہ چار سالوں پر محیط ایک سفر تھا جس میں اتنے تنازعات سامنے آئے، اتنے لوگوں کو نکالا گیا یا انھوں نے خود نوکریاں چھوڑ دیں۔یا یہ شکست اس وقت ہوئی تھی جب امریکہ کورونا وائرس کی وبا میں گھِر گیا جو ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت کا سب سے بڑا بحران تھا۔ِجب وبا نہیں آئی تھی تو اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت 49 فیصد تھی اور ملک کی معیشت بھی کافی اچھی کارکردگی دکھا رہی تھی۔ انھوں نے اپنے خلاف ہونے والے مواخذے کو بھی شکست دے دی تھی اور یہ وہ تمام عناصر تھے جنھوں نے ماضی کے صدور کو دوسری بار صدر بننے میں مدد کی تھی۔

صدارتی انتخابات اکثر ایک سوال پر پلٹ جاتے ہیں۔۔۔ کیا ہمارے ملک کے موجودہ حالات چار سال قبل کے حالات سے بہتر ہیں؟جب امریکہ میں کووڈ آیا اور اس سے معیشت کو دھچکا پہنچا، تو اس سوال کا جواب نفی میں تھا۔بحرانی حالات نے ماضی کے چند صدور کے کردار کو ابھارا اور دکھایا کہ ایک مضبوط شخص کیسے مشکل حالات کا سامنا کرتا ہے اور ان سے باہر نکلتا ہے۔جب 1920 کی دہائی میں ملک میں معیشت کا بحران تھا تو فرینکلن روزویلٹ نے ملک کو مقابلے پر تیار کیا۔جب نائن الیون کا واقعہ ہوا تو جارج بش جونئیر نے اس کا بھرپور جواب دیا اور مقبولیت میں اضافہ کیا جس کی مدد سے وہ دوسرا عہد صدارت جیتنے میں کامیاب ہوئے۔تو کورونا وائرس کے بحران سے یہ واضح نہیں تھا کہ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اتنی مشکلات پیدا کر دے گا لیکن پھر سب نے دیکھا کہ انھوں نے اس کا کیسے سامنا کیا اور اس کا نتیجہ کیا نکلا۔لیکن یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ ڈونلڈ ٹرمپ اتنے بڑے بحران کے باوجود آخر وقت تک سیاسی طور پر بڑے مضبوط رہے۔امریکہ میں رپبلکن پارٹی، ان کے قدامت پسند حامی ان کی واپسی کے خواہشمند ہوں گے۔ وہ قدامت پسندوں کی تحریک میں ایک اہم شخصیت کے طور پر گنے جاتے رہیں گے۔ ٹرمپ ازم کا شاید امریکی قدامت پسندی پر اسی طرح گہرا اثر ہو سکتا ہے جو صدر ریگن کے دور صدارت نے چھوڑا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ ایک منقسم شخصیت کے حامل تھے اور ممکن ہے کہ 2024 کے انتخاب میں دوبارہ امیدوار بننے کی کوشش کریں۔لیکن یہ یقینی ہے کہ صدر ٹرمپ کا قصہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ امریکی تاریخ کے سب سے منفرد صدر کو ہم نے آخری بار دیکھا یا سنا ہو۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *