بی بی سی کی رپورٹ میں انکشافات

سرگودہا (ویب ڈیسک) تین بچوں کی ماں 22 سالہ کنول پروین کو پاکستان کے شہر سرگودھا کے ایک نواحی علاقے میں حال ہی زندگی سے محروم کردیا گیا ۔ پولیس کے مطابق انھوں نے آٹھ برس قبل خاندان کی منشا کے خلاف اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی۔نامور صحافی عمر دراز ننگیانہ کی بی بی سی

کے لیے ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔تاہم کچھ عرصہ ناراضی رہنے کے بعد بظاہر ان کی خاندان والوں سے صلح ہو گئی تھی۔ چند روز قبل وہ اپنے شوہر محمد عمران کے ہمراہ اپنے بھائی معظم علی کو بیٹے کی پیدائش پر مبارکباد دینے کے لیے ان کے گھر چک 104 جنوبی پہنچی تھیں۔وہیں نو سالہ لڑکے نے جو خاتون کا بھتیجا ہے نے اسکو زندگی سے محروم کردیا ۔ تاہم اتنے کم عمر بچے کی ان سے کیا رنجش تھی؟ اس واقعہ کے محرکات کیا ہو سکتے تھے؟پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کو خاتون کے خلاف اکسایا گیا تھا۔ صدر پولیس سرگودھا کے سب انسپکٹر امان اللہ نے بتایا کہ بچے کو اکسانے کا الزام محمد وقاص نامی ان کے ایک پڑوسی پر عائد کیا جا رہا ہے۔’بظاہر محمد وقاص نے بچے کو نہ صرف ہتھیار چلانے کی تربیت دی تھی بلکہ اس موقع پر کنول پروین کو نشانہ بنانے کے لیے اسے اکسایا بھی تھا۔‘تاہم ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس پہلو سے بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ کہیں یہ عزت کے نام پر کی گئی واردات تو نہیں؟ پولیس کے مطابق محمد وقاص آٹھ برس قبل کنول پروین سے شادی کا خواہشمند رہا تھا۔کنول پروین کے شوہر محمد عمران نے مقدمہ درج کرنے کے لیے پولیس کو دی جانے والی درخواست میں بتایا تھا کہ جس روز وہ خاتون کے بھائی کے گھر پہنچے تو محمد وقاص پہلے سے وہاں موجود تھا اور نو عمر لڑکے کو ہتھیار چلانے کی تربیت دے رہا تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.