بی بی سی کی رپورٹ میں انکشافات

لندن (ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کی نیوکلیئر مانیٹرنگ ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران کو بین الاقوامی جوہری معاہدے کے تحت جس قدر یورینیئم افزودہ کرنے کی اجازت تھی، اس نے اس سے 10 گنا زیادہ یورینیئم کا ذخیرہ کر لیا ہے۔بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے بتایا ہے کہ

ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخائر اب 2105 کلوگرام تک پہنچ چکے ہیں جبکہ 2015 کے معاہدے کے تحت یہ مقدار 300 کلو گرام سے تجاوز نہیں کر سکتی۔ایران نے پچھلے برس جولائی میں کہا تھا کہ اس نے یورینیئم کی افزودگی کے لیے نئے اور جدید ٹیکنالوجی کے سنٹر فیوج آلات کا استعمال شروع کیا ہے۔سنٹر فیوج ڈیوائسز یورینیئم کے کیمیائی ذرات کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ایران میں یورینیئم کی افزودگی دو جگہوں پر کی جاتی ہے۔ نتانز اور فورڈو۔ افزودگی کے بعد یہ جوہری ہتھیاروں کو تیار کرنے میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایران طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ایران نے آئی اے ای اے کے مبصرین کو اپنے دو مشتبہ جوہری اہداف میں سے ایک کی تحقیقات کرنے کی اجازت دی۔اب ایجنسی نے کہا ہے کہ وہ اس مہینے میں کسی اور مقام سے نمونہ لے گی۔گذشتہ برس ایران نے جان بوجھ کر 2015 کے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی شروع کردی تھی۔ اس جوہری معاہدے پر امریکہ، برطانیہ، روس، جرمنی، فرانس اور چین نے بھی ایران کے ساتھ دستخط کیے تھے۔ ایران نے 2019 میں اجازت سے کہیں زیادہ یورینیئم کی افزودگی شروع کر دی تاہم یہ مقدار جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے درکار سطح سے بہت نیچے تھی۔ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے 1050 کلو افزودہ یورینیم کے 3.67 فیصد کی ضرورت ہو گی لیکن ایک امریکی گروپ آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بعد میں اس میں 90 فیصد اضافہ کرنا پڑے گا۔ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہونے والا یورینیئم 90 فیصد یا اس سے زیادہ افزودہ ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کو افزدوگی کے اس عمل کو مکمل کرنے میں کافی وقت لگے گا۔ایران نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ اس نے ہتھیاروں کے مبصرین کو ’ہم آہنگی‘ میں ان کے اہداف کی تحقیقات کرنے کی اجازت دی ہے تاکہ جوہری سلامتی سے متعلق امور حل ہو سکیں۔آئی اے ای اے نے ایران پر تنقید کی کہ وہ دونوں اڈوں کی تفتیش کی اجازت نہیں دیتا اور چپکے سے رکھے گئے جوہری مواد اور اس کی سرگرمیوں کے بارے میں سوالوں کے جواب نہیں دیتا۔اب اس بین الاقوامی مانیٹرنگ ایجنسی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’ایران نے ایجنسی کے نگرانوں کو نمونے دیے ہیں۔ ان نمونوں کی جانچ ایجنسی کے نیٹ ورک کی لیبارٹریز میں کی جائے گی۔‘ایران نے گذشتہ سال بین الاقوامی جوہری معاہدے کی شرائط پر عمل کرنا چھوڑ دیا تھا۔ اس نے یہ قدم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معاہدے سے دستبرداری کے اعلان کے بعد اٹھایا تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.