بی بی سی کی رپورٹ میں پول کھول دیا گیا

لاہور(ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے پیر سے عوامی رابطے کی ایک مہم کے سلسلے میں ٹیلیفون کے ذریعے عوام سے براہ راست بات چیت کا آغاز کیا ہے ۔ پاکستان میں ماضی میں اس طرح کی مثالیں موجود ہیں جب وزرائے اعظم یا صدور نے لوگوں سے ٹیلیفون یا کھلی کچہریوں کے ذریعے

رابطہ رکھنے کی کوشش کی۔کچھ حلقوں میں تو اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے۔ نامور صحافی عزیز اللہ خان بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ لیکن بعض مبصرین کے مطابق عوامی مسائل حل کرنے کا یہ کوئی پائیدار طریقہ نہیں ہے بلکہ یہ تشہیر کا ہی ایک ذریعہ ہے۔مگر ٹیلیفون پر عوامی مسائل سننا کوئی نیا طریقہ کار نہیں ہے بلکہ پہلے بھی اس طرح کی رابطہ مہم کی گئی ہیں۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں وفاقی وزیر اطلاعات رہنے والے مشاہد حسین سید نے بی بی سی کو بتایا کہ سنہ 98-1997 میں نواز شریف نے عوام سے ٹیلیفونک رابطے کا سلسلہ شروع کیا تھا، اور اس وقت ٹال فری نمبر عوام کو فراہم کیا گیا تھا، جس کے ذریعے لوگ رابطے کرتے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے احکامات جاری کیے جاتے تھے۔نواز شریف کے دور اقتدار میں صحافی مطیع اللہ جان پاکستان ٹیلی ویژن میں رپورٹر تعینات تھے۔انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ نواز شریف جب بحیثیت وزیر اعظم لوگوں کے مسائل سنتے تھے تو اُن (مطیع اللہ) کی ڈیوٹی تھی کہ وہ متعلقہ ادارے، جس کے بارے میں شکایت ہوتی تھی، کے سربراہ کا انٹرویو کریں اور اس شکایت کے بارے میں سوالات کریں، پھر یہ سوالات اور جواب نشر کر دیے جاتے تھے۔مشاہد حسین سید بتاتے ہیں کہ اگرچہ سابق فوجی آمر ضیا الحق کے دور میں آمریت تھی لیکن وہ پاکستان میں مارشل لا نافذ کرنے والے چاروں جرنیلوں سے زیادہ عوام میں رہنے والے حکمران تھے۔

انھوں نے کہا کہ ضیا الحق براہ راست تو کوئی ٹیلیفونک رابطے اس طرح نہیں کیا کرتے تھے لیکن وہ رات گیارہ بجے سے ایک بجے تک ٹیلیفون کے ذریعے موصول ہونے والے پیغامات یا سوالات کے جواب دیا کرتے تھے۔انھوں نے بتایا کہ ضیا الحق کے دور میں وہ صحافی تھے تو انھوں نے ایک مرتبہ پوچھا کہ ’آپ کے پاس وقت ہے کہ آپ شادیوں اور جنازوں میں شرکت کرتے ہیں‘ تو ضیا الحق نے کہا کہ وہ چونکہ عوامی نمائندے نہیں ہیں تو اس طرح کے مواقع پر وہ لوگوں سے باتیں کر کے ان سے تجاویز لیتے ہیں اور عوامی رائے معلوم کر لیتے ہیں۔مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہفتے میں ایک دن پارلیمان میں سوالات کے جوابات خود دیں گے۔ ’کاش کہ وہ اپنا وہ وعدہ پورا کر دیں۔‘پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے بتایا کہ نواز شریف کے 1997 کے دور کے آخری دنوں میں ٹیلیفون کے ذریعے اس طرح کے عوامی رابطے کی کوشش کی تھی جس کے بعد اُن کی حکومت ہی چند روز میں ختم ہو گئی تھی۔انھوں نے بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں کھلی کچہریاں باقاعدگی سے منعقد کی جاتیں تھیں ’جو عوامی رابطے کا سب سے موثر ذریعہ تھیں۔‘ قمر زمان کائرہ نے بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ڈویژنل یا ضلعی سطح پر عوامی منتخب نمائندوں کے ذریعے لوگوں سے رابطہ رکھا جاتا اور ان کھلی کچہریوں میں لوگوں کے مسائل سُنے جاتے اور انھیں حل بھی کیا تھا۔

مشاہد حسین نے بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو پہلے ایسے سیاستدان تھے جو ’سیاست کو ڈرائئنگ روم سے نکال پر باہر لائے اور خود کھلی کچہریوں میں جاتے جہاں فوری احکامات جاری کیے جاتے تھے۔‘بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پشاور کے ایک شہری محمد اسماعیل نے بتایا کہ عوام سے رابطہ ایک منتخب وزیر اعظم کا حق ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے اور اگر اس سے لوگوں کے اجتماعی مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے تو اچھی بات ہے۔’لیکن بظاہر ایسا ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ چند ایک ہی منتخب افراد کے فون کال پر لیے جائیں گے اور ان کی تشہیر کر دی جائے گی۔‘قمر زمان کائرہ جو ماضی میں وفاقی وزیر اطلاعات رہ چکے ہں کا کہنا ہے کہ اس طرح ٹیلیفونک رابطے سے درحقیقت حکومت اپنی ناکامی تسلیم کرتی ہے کیونکہ حکومت کے عوامی رابطے کے اصل ذرائع بیوروکریسی، میڈیا اور عوامی نمائندے ہوتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ بے نظیر بھٹو کے دور میں اس طرح کی کوئی کوشش نہیں کی گئی بلکہ عوامی اور منتخب نمائندوں کے ذریعے ہی لوگوں سے رابطے رکھے گئے تھے۔صحافی مطیع اللہ کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے دور میں ہونے والی ایسی ہی مشق کی بنیاد پر وہ کہہ سکتے ہیں کہ ’یہ کوئی موثر طریقہ کار نہیں ہے‘ بلکہ ایک تشہیری مہم ہوتی ہے۔’اگر لوگوں کے مسائل حل کرنے ہیں تو ادارے مضبوط کیے جانے چاہییں جہاں لوگوں کو احساس ہو کہ سب کچھ ایک فرد واحد کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ وہ نچلی سطح پر جہاں جائیں گے تو ان کے کام ہو سکیں گے۔‘

Comments are closed.