بی بی سی کی رپورٹ میں پیشگوئی کر دی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) عام انتخابات سے قبل ترقی کے پہیے کی رفتار میں اضافہ کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مشن کی تکمیل کے لیے وزیر اعظم عمران خان کی نظر کرم اب سینئر بینکر شوکت ترین پر پڑی ہے جن کو مشیر خزانہ کا قلمدان سونپا گیا ہے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔شوکت ترین اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی حکومتوں کے ساتھ کام کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔شوکت ترین کی پیدائش ملتان میں کرنل ڈاکٹر جمشید گھر میں ہوئی، مختلف کینٹونمنٹ سکولوں میں زیر تعلیم رہنے کے بعد انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔انھوں نے 1975 میں سٹی بینک میں ایک ٹرینی کے طور ملازمت اختیار کی اور سٹی بینک تھائی لینڈ کے صدر کے منصب پر فائز رہے، سٹی بینک کے ساتھ 22 سال منسلک رہنے کے بعد 1997 میں میاں نواز شریف کی حکومت کے کہنے پر وہ پاکستان آئے اور انھوں نے حبیب بینک کی کامیاب ری اسٹریکچرنگ کی جس کے نتیجے میں یہ بینک 230 ملین ڈالرز کے خسارے سے 30 ملین ڈالرز منافع میں آگیا۔ 2000 میں وہ حبیب بینک سے بطور صدر فارغ ہوئے اور یونین بینک میں ملازمت اختیار کی جس کے شیئرز سٹینڈرڈ چارٹرڈ کے حوالے کیے گئے۔2008 میں وہ کراچی سٹاک ایکسچینج کے صدر رہے، جہاں سے وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پہلے یوسف رضا گیلانی کے مشیر خزانہ اور بعد میں سندھ سے ٹیکنو کریٹ کی نشست پر سینیٹر منتخب ہوئے انہیں وزیر خزانہ کا منصب دیا گیا۔ان دنوں آئی ایم ایف کے قرضے کے ساتھ این ایف سی ایوارڈ کی تقسیم بھی مجوزہ تھی جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ این ایف سی ایوارڈ کی تقسیم کے معاملے میں چھوٹے صوبوں کی شکایات کو دور کریں اور ہر صوبے کو اس کا حق ملے۔ فروری 2010 میں وہ مستعفی ہوگئے، جس کی وجہ انہوں ذاتی مصروفیات بیان کیں۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سلک بینک میں شوکت ترین کے چھیاسی فیصد حصص تھے اور نئے سرمایہ کاروں کا یہ مطالبہ تھا کہ وہ بینک کے کاروبار کو مکمل وقت دیں۔ان دنوں وہ

ایوان بالا میں امیر ترین سینیٹر تھے ان کے پاس چوّن کروڑ پچپن لاکھ کی جائیداد، دو کروڑ اٹھارہ لاکھ روپے کی گاڑیاں اور مختلف مالیاتی ادراوں اور بینکوں میں تین ارب روپے کی سرمایہ کاری بھی ہے۔وہ گالف کا شوق رکھتے ہیں ان کے تین بچے ہیں، اس کے علاوہ چلڈرن ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بھی مالی معاونت کرتے ہیں۔شوکت ترین مشیر خزانہ جی ڈی پی گروتھ میں اضافہ چاہتے ہیں تاکہ ترقی کا پیہ تیزی رفتاری سے گھومے۔معاشی تجزیہ نگار مزمل اسلم نے گذشتہ روز شوکت ترین سے ملاقات کی تھی وہ بتاتے ہیں کہ انہیں شوکت ترین نے بتایا کہ وہ گروتھ پر فوکس کریں گے اس میں وہ ہاؤسنگ پر کام کریں گے۔’اس کے علاوہ جو وفاقی حکومت کا ترقیاتی فنڈ ہے وہ پچھلے دو سالوں میں بہت کم خرچ کیا گیا ہے اس کو ترقیاتی کاموں میں خرچ کریں گے، تیسرا چین اقتصادی راہدری کا پورا استعمال کریں گے اور چین کو کہیں کہ یہاں آکر کارخانے لگائیں خاص طور پر چمڑے اور ٹیکسٹائل وغیر کے شعبے میں تاکہ یہاں سے ایکسپورٹ میں اضافہ ہو اور ملک میں پیسہ آئے۔‘مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ شوکت ترین خوش قسمت ہیں کہ انہیں حفیظ شیخ اور اسد عمر سے بہتر حالات ملے ہیں، بقول ان کے گروتھ فطری ہوتی ہے، مصنوعی طور پر اس کو عارضی بنیادوں پر ہی بڑہایا جاسکتا ہے۔’حکومت اور آئی ایم ایف سب نے اس سال کا تخمینہ لگایا تھا کہ ڈیڑھ فیصد گروتھ ہوگی لیکن جیسے جیسے یہ مالی سال ختم ہو رہا ہے اس کا تخمیہ بڑھا دیا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک اور حکومت نے یہ شرح تین فیصد کردی ہے اور ہم کہہ رہے ہیں کہ چار سے پانچ فیصد آئے گی کیونکہ گندم کی بمپر فصل ہوئی ہے۔‘’اتفاق کی بات ہے کہ جو برا وقت تھا گذر گیا اور شوکت ترین ایک آئیڈیل ٹائم میں جب غیر ملکی ذخائر کھڑے ہوچکے ہیں، ترسیلات بہتر ہوچکی ہیں ایک بہترین صورتحال میں انہیں قلمدان ملا ہے اب آئی ایم ایف نے بھی شرح نمو چار فیصد کی بات کردی ہے اگر وہ اس شرح کو 6 فیصد تک لے کر جائیں گے تو بات بنے گی اگر یہ شرح چار سے ساڑھے چار فیصد آجاتی ہے تو وہ تو پہلے سے متعین ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *