تاریخ کا ایک ورق

لاہور (ویب ڈیسک) شاہ فیصل بن عبدالعزیز صفر 1324ھ مطابق اپریل 1906ء کو پیدا ہوئے۔ – 1395 1384ھ مطابق 1964ء کو بادشاہ بنے اور 1975ء تک حکمراں رہے،شہزادہ فیصل مکتب میں غیر منظم طریقے سے تعلیم حاصل کی، انہوں نے لکھنا پڑھنا سیکھا، قرآن کریم حفظ کیا، حدیث شریف کا علم حاصل کیا۔

نامور صحافی رضا مغل اپنے ایک خصوصی آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اُس زمانے میں نجد میں روایتی تعلیم کا یہی طریقہ رائج تھا تاہم شہزادہ فیصل نے ایک اور امتیاز حاصل کیا جو ان کے معاصرین میں کسی اور کو نصیب نہیں ہوا، اپنے نانا شیخ عبداللہ بن عبداللطیف کے ہاتھوں بحث مباحثہ کی صلاحیت اور متکلم کو قائل کرنے کی مہارت حاصل کی،شہزادہ فیصل نے گھڑ سواری ، تیر اندازی اور نشانہ بازی ایسے لوگوں سے سیکھی جن کا انتخاب اس مقصد کیلئے ان کے والد شاہ عبدالعزیز نے کیا تھا،شہزادہ فیصل اپنے نانا کے گھر میں مقیم رہے ۔ پھر وہ 1337 ھ مطابق 1919 ء کو پہلی بار تعلیم حاصل کرنے کیلئے یورپ گئے، وہاں سے واپسی پر انہوں نے اپنے آبائو اجداد کے گھر میں قیام کیا۔ شاہ عبدالعزیز کی بیگم شہزادی حصہ السدیری نے ان کی دیکھ بھال کی،وہ اس بات پر ہمیشہ زور دیتے رہے کہ اسلام ہی ملک کا آئین رہے گا،اعتراضات کے باوجود انہوں نے پہلا گرلز سکول کھلوایا ۔ انہو ںنے تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے نیز جامعات کے قیام کا دائرہ وسیع کرنے اور اعلیٰ تعلیم کیلئے سعودی طلبہ کو بیرون مملکت بھیجنے کے حوالے سے اپنے بھائی شاہ سعود کے کارواں کو آگے بڑھایا، 1975 ء میں بھتیجے کے ہاتھوں زندگی سے محروم ہوئے ،اس سانحہ کے بعد لوگوں کا خیال تھا کہ یہاں صدیوں سے نافذ اسلامی سزائوں کا قانون ختم ہو جائے گا لیکن شاہ خالد نے منصب سنبھالا اور بھائی کو زندگی سے محروم کرنے والے بیٹے کو بھی وہی سزا دی جو عام مجرم کیلئے تھی ۔

Comments are closed.