تاریخ کے اوراق سے ایک انوکھا واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور مضمون نگار سکندر خان بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔یہ وہ دور تھا جب آہستہ آہستہ تحریک پاکستان زور پکڑ رہی تھی جس کی خبریں کسی نہ کسی طرح کیمپ میں مسلمان آفیسرز تک بھی پہنچ رہی تھیں۔ اب اطالویوں نے ہندوستانی ٹروپس کو آزادی کے نام پر

انگریزوں کے خلاف کرنے کی کوشش کی۔ اس دور میں سبھاش چندرا بوس کی انڈین نیشنل آرمی کی کاروائیاں انگریزوں کے خلاف بڑی مقبولیت حاصل کر رہی تھیں۔ اطالویوں نے اسے بلوا کر انڈین ٹروپس سے خطاب کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ہندو آفیسرز تو بڑے خوش ہوئے لیکن مسلمان آفیسرز خصوصاً یحییٰ خان نے سخت مخالفت کی۔ اس ناراضگی پر کیپٹن ناراونے نے ایک دن غصے سے پاکستان کو برا بھلا کہا۔ کیپٹن یحییٰ پاس تھا۔ اس نے زور سے اسکے منہ پر تھپڑ رسید کر دیا ۔ یہ پاکستان کی حفاظت کی پہلی لڑائی تھی۔ فوج میں کسی آفیسر کے منہ پر تھپڑ رسید کرنا بہت بڑا جرم ہے جس کی سزا کورٹ مارشل ہے۔ مگر یحییٰ خان نے بغیر نتائج کی پرواہ کئے پاکستان کے نام کی حفاظت کی۔ بعد میں بھارت کے مشہور جرنیل پرتاب نارائن نے اپنی کتاب” “Subedar to Field Marshalمیں یہ واقعہ درج کرتے ہوئے لکھا ہے ۔ “It is worth considering whether this camp was the real birth place of Pakistan “یحییٰ خان پیشہ ورانہ طور پر بہت اچھا آفیسر تھا ۔1947میں یہ واحد مسلمان آفیسر تھا جسے سٹاف کالج کوئٹہ میں بطور انسپیکٹر پوسٹ کیا گیا۔تقسیم ہند کے وقت ہندو آفیسر ز نے سٹاف کالج کی کتب بھارت لے جانے کی منصوبہ بندی کی۔یحٰی خان کو بھنک پڑ گئی تو یہ سد راہ بن گیا۔اس نے مسلمان سولجرز کو ساتھ ملا کر لائبریری کتب کی حفاظت کی۔ہندو آفیسرز نے کتب رات کو چرانے کی کوشش کی تو یحییٰ خان اس خطرے کے پیش نظر رات کو ہتھیار لے کر لائبریری میں سوتا تھا۔اس نے ایک کتاب تک بھارت نہ جانے دی۔پاکستان بننے کے بعد اس نے فوج کے لئے بہت کام کیا۔فوج کی تنظیم نو انہی کا کارنامہ ہے۔مگر افسوس کہ مے نوشی ، عورتیں اور بھٹو صاحب پر اندھا اعتماد اسے لے ڈوبے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *