تازہ ترین اطلاعات

لاہور (ویب ڈیسک) دنیا کی دوسری بلند چوٹی کے ٹو کو موسمِ سرما میں سر کرنے والے ملک کے عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما علی سد پارہ کی تلاش میں آج پھر سرچ کا کام شروع ہو چکا ہے۔ذرائع کے مطابق علی سدپارہ اور ٹیم کی تلاش میں مدد کے لیے ان کے گاؤں سدپارہ سے

2 کوہ پیما امتیاز اور اکبر کیمپ 2 روانہ ہوئے ہیں۔سدپارہ اور ان کی ٹیم کے ٹو کو موسمِ سرما میں سر کرنے کی کوشش کے دوران 1 روز سے لاپتہ ہیں اور ان سے تاحال کوئی رابطہ نہیں ہو سکا ہے، ان کی تلاش کے لیے گزشتہ روز بھی سرچ کا کام کیا گیا۔علی سدپارہ اور ان کی ٹیم کو گزشتہ روز ہیلی کاپٹرز کے ذریعے 7 ہزار میٹر کی بلندی تک تلاش کیا گیا۔کے ٹو پر موسم خراب اور ہوا تیز ہے، مہم جوؤں کے لیے کیئے گئے سرچ میں تیز ہواؤں کے باعث مشکلات کا سامنا رہا۔دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو سردیوں میں فتح کرنے کی کوشش کرنے والے پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ سمیت 3 کوہ پیماؤں کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے تینوں کوہ پیماؤں کی مہم کے منیجر اور الپائن کلب آف پاکستان نے بتایا ہے کہ علی سد پارہ، آئس لینڈ کے جان اسنوری اور چلی سے تعلق رکھنے والے جان پبلو موہر کا جمعے کے روز سے بیس کیمپ، ٹیم اور اہلِ خانہ سے رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔ان کی تلاش میں شروع کیئے گئے ریسکیو مشن کے دوران آرمی ہیلی کاپٹروں نے 7000 میٹر کی بلندی تک پرواز کی ہے تاہم ابھی تک تینوں کوہ پیماؤں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔سیون سمٹ ٹریکس کے مینیجر داوا شرپا جو کے ٹو بیس کیمپ پر موجود ہیں نے بتایا کہ گزشتہ 30 گھنٹوں سے تینوں کوہ پیماؤں کا رابطہ منقطع ہو چکا ہے جبکہ جی پی ایس ٹریکرز نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔

اپنے ایک اور بیان میں انہوں نے بتایا کہ آرمی کے ہیلی کاپٹرز نے تقریباً 7000 میٹر کی بلندی تک پرواز کی اور واپس اسکردو لوٹ گئے۔انہوں نے بتایا کہ بدقسمتی سے انہیں کوئی سراغ نہیں ملا اور پہاڑ حتیٰ کہ بیس کیمپ میں بھی موسم بہت خراب ہو رہا ہے، ہم مزید پیش رفت کے منتظر ہیں لیکن موسم اور ہوا چلنے کی اجازت نہیں دے رہے۔الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری کرار حیدری کے مطابق آرمی ایوی ایشن کے 2 ہیلی کاپٹرز نے ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا تھا اور انہوں نے اس سرچ میں محمد علی سدپارہ کے علاقے سے تعلق رکھنے والے 8 کوہ پیماؤں اور نیپال کے 2 کوہ پیماؤں کے شریک ہونے کی اطلاع دی تھی۔داوا شرپا نے بتایا کہ علی سد پارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ بحفاظت کیمپ ون میں پہنچ گئے ہیں اور وہ بہت جلد بیس کیمپ کی جانب بڑھیں گے۔انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ ساجد سدپارہ کی کسی بھی قسم کی مدد کے لیے انہوں نے اپنی ٹیم کے 2 شرپاؤں کو تیار رہنے کا حکم دے رکھا ہے۔واضح رہے کہ ساجد سدپارہ بھی اپنے والد کے ہمراہ کے ٹو سر کرنے کی مہم میں شامل تھے لیکن آکسیجن ریگولیٹر خراب ہونے کے باعث وہ نیچے کیمپ تھری پر آ گئے تھے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق انہیں محمد علی سدپارہ، ان کے ساتھی کوہ پیما آئس لینڈ کے جان اسنوری اور چلی کے جے پی موہر کے قریبی عزیزوں اور ٹیم نے بتایا کہ تینوں نے جمعے کی شام تک 8 ہزار میٹر کا سنگِ میل عبور کر لیا تھا جس کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ وہ جلد ہی اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے۔ٹورسٹ پولیس اسکردو کے مطابق ان تینوں کی تلاش کا کام شروع کیا جا چکا ہے اور تمام تر ممکنہ اقدامات کیئے جا رہے ہیں۔تینوں کوہ پیماؤں کے ساتھ رابطے کے لیے جان اسنوری کے پاس موجود ٹریکر کے علاوہ تینوں کے پاس موجود سیٹلائیٹ فون اور واکی ٹاکی کا استعمال کیا جاتا تھا۔رابطوں کے لیے جان اسنوری اپنے پاس موجود ٹریکر ہر 1 گھنٹے بعد آن کر کے اطلاع فراہم کر دیتے تھے، تاہم انہوں نے جمعے کے روز آخری مرتبہ اپنی موجودگی کی اطلاع 4 بجے فراہم کی تھی۔محمد علی سد پارہ اور ساجد علی سدپارہ باپ بیٹے ہیں جن کا تعلق گلگت بلتستان میں اسکردو کے علاقے سد پارہ سے ہے، سدپارہ کا علاقہ مہم جوؤں کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *