تازہ ترین خبر

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے آغاز سے ہم انہی صفحات پر مسلسل لکھ رہے تھے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس موومنٹ کے ساتھ نہیں چل سکتی جلد یا بدیر انہیں اس سے الگ ہونا ہی ہے۔ ممکن تھا کہ یہ اتحاد یا اس میں شامل جماعتوں میں تعلق کچھ لمبا چل جاتا

نامور کالم نگار محمد اکرم چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ،،،،،، لیکن میاں نواز شریف نے چند دنوں میں سب کا ساتھ چلنا مشکل بنا دیا ہے۔ اس موومنٹ میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی دو ہی بڑی سیاسی جماعتیں تھیں اگر یہ بھی ساتھ نہ چل سکیں تو پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کا مستقبل خطرے میں ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا یہ کہنا کہ کمزور جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہے ان کا نظام پر اطمینان کا اظہار ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے کردار اور حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے سب کو پیغام دیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ایسی جمہوریت پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ نے میاں نواز شریف کے فوج مخالف بیانیے کے پرخچے اڑا دیے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت لانے کی ذمہ داری کسی شخص پر نہیں ڈالی جا سکتی۔  یہ بات کر کے انہوں نے میاں نواز شریف کی سب تقریروں کی نفی کر دی ہے۔ انہوں نے ناصرف  میاں نواز شریف کے خیالات کو ان کی ذاتی سوچ قرار دیا ہے بلکہ ساتھ ہی یہ کہہ کر بات واضح کر دی ہے کہ ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں شدید رویہ اختیار کریں یا رک کر سوچیں کہ آگے کیسے بڑھنا ہے۔ یہ پیغام بھی میاں نواز شریف کے انتہا پسندانہ رویے کے خلاف ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور ان کی جماعت بارے ہم مسلسل لکھ رہے تھے کہ وہ کبھی میاں نواز شریف کے

اس بیانیے کی حمایت نہیں کریں گے آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف کو سامنے کر کے ساری باتیں ان سے کروا دی ہیں اب پیچھے ہٹ رہے ہیں یوں ایک مرتبہ پھر میاں نواز شریف اپنی کم عقلی اور ضد کی وجہ سے بند گلی ہیں ساؤنڈ سسٹم میں نعرے گونج رہے ہیں قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں میاں نوز شریف قدم تو بڑھ چکے لیکن مڑ کر دیکھتے ہیں تو کچھ نظر نہیں آتا۔ میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی نے اپنے بیانیے سے ناصرف بیرونی دشمنوں کو خوش کیا ہے بلکہ اندرونی طور پر بھی کسی کے ساتھ چلنے کے قابل نہیں رہے۔ ن لیگ کی اعلیٰ قیادت یا میاں نواز شریف کے ہم خیالوں کو جیسے جیسے حقیقت کا اندازہ ہوتا جائے گا وہ جان جائیں گے کہ ان کے قائد نے ذاتی مفادات کے لیے کتنے مخلص لوگوں کو استعمال کرتے ہوئے بیرون ملک بیٹھ کر اپنے ملک پر حملے کیے ہیں۔ میاں نواز شریف کا بیانیہ ملک دشمن ہے، وہ کام جو بھارت کرتا ہے میاں نواز شریف سیاسی جلسوں میں کر رہے ہیں اب ان پر ثبوتوں کا وزن ہے بلاول بھٹو کو ثبوت پیش کریں۔ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ میں اب میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن بچے ہیں۔ مولانا کو اپنے حلوے کی تلاش ہے انہیں جہاں کہیں سے حلوے کی خوشبو آ گئی تو سمجھیں کہ وہ بھی اس خوشبو کا پیچھا کرتے کرتے منزل مقصود تک پہنچ جائیں گے اکیلے رہ جائیں گے میاں نواز شریف اب انہوں نے اپنے ساتھ ساتھ کس کس کا بیڑہ غرق کرنا ہے اس کا فیصلہ ان کی آنے والی تقاریر کریں گی۔ 

بلاول بھٹو نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے انہوں نے پی ٹی آئی پر کھل کر تنقید کی ہے وہ تمام مسائل جو عام آدمی کے مسائل ہیں ان ہر بات کی ہے۔ حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ عام آدمی کے مسائل کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔ حکومت کو خطرہ صرف حکومت سے ہے۔ حکومت کو خطرہ حکومت کے وزراء سے ہے۔ نالائق وزراء کے غلط فیصلوں اور نکمے مشیروں کے غلط مشوروں کی وجہ سے حکومت کی سبکی بھی ہو رہی ہے اور پاکستان تحریکِ انصاف کی مقبولیت کیں بھی مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ پی ٹی آئی خوش قسمت جماعت ہے کہ تمام اتحادی اس سے ناراض ہیں، ایم کیو یم ایک فیصد بھی حکومت کے ساتھ نہیں ہے ق لیگ مکمل طور پر کنارہ کشی یا علیحدگی اختیار کر چکی ہے ان کا تعلق یا اتحاد صرف حکومت کو ووٹ دینے کی حد تک ہے لیکن پھر بھی وہ حکومت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اس سے زیادہ تعاون کسی کو نہیں مل سکتا نا ہی ملک کی سیاسی جماعتیں اس سے زیادہ تعاون کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ کر سکتی ہیں۔ ق لیگ کے طارق بشیر چیمہ بہت واضح اور دو ٹوک الفاظ میں بات کرنے کے عادی ہیں انہوں نے اپنے مزاج کے خلاف حکومت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے نپے تلے الفاظ میں جماعت کا نقطہ نظر بیان کیا ہے۔چودھری پرویز الٰہی نے بھی حکومتی فیصلوں پر کڑی تنقید کی ہے بالخصوص انہوں نے کسانوں پر ہونے والے تشدد کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی ہے۔

جہانگیر ترین کی واپسی ہوئی ہے انہوں نے چینی بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت کو تعاون کی پیشکش کی ہے۔ حکومت اس بحران سے نکلنا چاہتی ہے تو پہلے نالائق مشیروں کی مشاورت سے نکلے اگر کسی نے غیر قانونی طور پر مال بنایا ہے تو اسے ضرور پکڑیں لیکن سنی سنائی باتوں یا داستانوں پر کسی کی کردار کشی درست عمل نہیں ہے۔ حکومت نے جہانگیر ترین کو ناصرف ضائع کیا ہے بلکہ اس سے جس شعبے میں کام کیا جا سکتا تھا اس سے دور کر کے صرف اور صرف نقصان کمایا ہے۔ چینی بحران پیدا کیوں ہوا حکومت آج تک اس کا سراغ نہیں لگا سکی جتنی بھی انکوائریاں ہوئی ہیں ان میں اتنی خامیاں اور کمزوریاں ہیں کہ کچھ سمجھ نہیں آتا اب اگر جہانگیر ترین نے حکومت کو پیشکش کی ہے تو اس پر مثبت جواب آنا چاہیے کیونکہ جے ڈی ڈبلیو اپنا کام کر رہی ہے، جہانگیر ترین بھی خوش ہیں مصیبت تو عام آدمی کے لیے ہے اگر کسی کی کوشش سے حکومت بحران سے نکلتی ہے تو درحقیقت وہ عام آدمی کے لیے سہولت پیدا ہو رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ شہزاد اکبر غلط مشورے دیتے ہیں یا انہیں مکمل معلومات ہی نہیں پہنچائی جاتیں دونوں صورتوں میں شہزاد اکبر پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں بھی حکومت کو بیک فٹ پر آنا پڑا ایسے مشورے دینے والوں کا بندوبست بھی کرنا ضروری ہے۔ ایسے غلط مشوروں سے نقصان صرف اور صرف عام آدمی کا ہوتا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *