تازہ ترین سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) گلگت بلتستان میں انتخابات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں، مگر اس بار ان کی گھن گرج اور سج دھج کچھ زیادہ ہی ہے۔ ماضی میں عموماً یہی سمجھا جاتا تھا کہ جس جماعت کی مرکز اور خیبرپختونخوا میں حکومت ہو گی، وہی انتخابات جیتے گی، لیکن اب تو یوں لگ رہا ہے

نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ مرکزی حکومت کو گرانے کے لئے گلگت بلتستان کے انتخابات کو ٹیسٹ کیس بنا لیا گیا ہے۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری وہاں جا کر بیٹھ گئے ہیں اور اپنی اپنی جماعتوں کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ روزانہ پکے پکائے جلسے مل جاتے ہیں اور دونوں حکومت کے گھر جانے کی پیش گوئیاں کرتے ہیں۔ مریم نواز تو جلسے کے شرکاء سے باقاعدہ اپیل کرتی ہیں کہ وہ حکومت کی گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دیں۔ ان کا یہ بیانیہ بار بار سامنے آتا ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم جانے والا ہے، اب اس کے رہنے کا امکان ختم ہو چکا ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کے وزیراعظم کو دھکا کیسے دے سکتے ہیں یا ان کے فیصلے سے پاکستان کی حکومت کیسے تبدیل ہو سکتی ہے؟ اس کا جواب کون دے؟ بس ایک سیاسی نعرہ ہے جو مریم نواز ہر جلسے میں لگاتی اور گلگت بلستان کے عوام خوشی سے تالیاں بجانے لگتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ویسے تو مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری میں گہری ہم آہنگی ہے، حکومت کے خلاف دونوں ہم آواز ہیں، حتیٰ کہ دونوں نے یہ تہیہ بھی کر رکھا ہے کہ کسی نے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی سازش کی تو اسے مل کر ناکام بنائیں گے، لیکن گلگت بلتستان میں دونوں اکٹھے جلسے نہیں کر رہے، علیحدہ علیحدہ مہم چلائے ہوئے ہیں، ہدف دونوں کا ایک ہے، یعنی سلیکٹڈ حکومت کا خاتمہ، مگر گلگت بلتستان میں وہ اپنی اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

دونوں کا بیانیہ بھی ایک ہے کہ دھاندلی نہیں کرنے دیں گے۔ مریم نواز تھوڑا سا آگے نکل جاتی ہیں اور دھاندلی کا الزام اسٹیبلشمنٹ کو دیتی ہیں، جبکہ بلاول بھٹو حکومت کو پری پول دھاندلی کا مرتکب قرار دیتے ہیں۔ حکومت مخالف ووٹ تو خود مریم نواز اور بلاول بھٹو نے تقسیم کر دیا ہے۔ اب اگر اس کی وجہ سے دونوں کو خاطر خواہ نشستیں نہیں ملتیں تو الزام حکومت کو دیا جائے گا کہ وہ دھاندلی کرکے جیت گئی۔ جلسے تو تینوں جماعتوں کے بڑے بڑے ہو رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف سبھی کو گلگت بلتستان کے عوام سن رہے ہیں اور سر دُھن رہے ہیں، فیصلہ تو اپنے ووٹ سے کریں گے، البتہ منطقی بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن)ایک دوسرے کے متحارب کھڑی ہیں، ان میں کوئی انتخابی اتحاد نہیں، ایسے میں تحریک انصاف کو فائدہ تو ہو گا ہی، کیا اس کا الزام بھی بلاول بھٹو اور مریم نواز اپنے سر لیں گے کہ انہوں نے ایک دوسرے کے ووٹ توڑ کر تیسری جماعت، یعنی تحریک انصاف کو فائدہ پہنچایا۔بلاول بھٹو کو انتخابی ضابطہ ء اخلاق کے تحت گلگت بلتستان چھوڑنے کی تنبیہ کی جا چکی ہے، مگر وہ ہر قیمت پر انتخابات تک وہاں رہنا چاہتے ہیں۔ وہ بار بار یہ وارننگ دے رہے ہیں کہ انہیں گلگت بلتستان سے زبردستی واپس بھیجا گیا تو پورے ملک میں احتجاج کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ کوئی گرفتار کرنا چاہتا ہے تو کر لے، لیکن وہ خود نہیں جائیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری چونکہ ایم این اے ہیں، اس لئے ان پر ضابطہء اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام لگ رہا ہے، تاہم مریم نواز پر ایسی کوئی قدغن موجود نہیں۔ پھر یہ بات بھی کسی عجوبے سے کم نہیں کہ تحریک انصاف کے وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور مسلسل انتخابی جلسے کر رہے ہیں، انہیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔ ایسی دوعملی معاملات کو مشکوک بنا دیتی ہے۔مسلم لیگ (ن) کے لئے ان انتخابات کی اہمیت اس لئے بہت زیادہ ہے کہ نوازشریف نے جوبیانیہ اختیار کیا ہے اور جس کی وجہ سے خاصی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ سیاسی سطح پر بھی اور حکومتی سطح پر بھی اس بیانیہ کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مریم نواز اور مسلم لیگی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ نوازشریف نے ”ووٹ کو عزت دو“  کا جو نعرہ دیا ہے، وہ عوام کے دلوں کی آواز بن گیا ہے۔ اگر مسلم لیگ (ن) کو گلگت بلتستان کے انتخابات میں واضح شکست ہو جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ  لیا جائے گا کہ عوام نے اس نعرے کو مسترد کر دیا ہے، اس لئے مریم نواز بذاتِ خود گلگت جا کر بیٹھ گئی ہیں، تاکہ ایک موثر انتخابی مہم بھی چلائیں اور امکانی دھاندلی کو روکنے کے لئے پارٹی کو منظم کریں۔ان دونوں سیاسی جماعتوں نے پولنگ اسٹیشنوں کے اندر فوج کی تعیناتی کو مسترد کر رکھا ہے۔ شاید ان کا خیال یہ ہے کہ فوج کی تعیناتی کے باعث پولنگ اسٹیشن کے اندر دھاندلی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ بادی النظر میں یہ بڑی مضحکہ خیز بات ہے، کیونکہ فوج کا جوان صرف امن و امان کے لئے تعینات کیا جانا ہے، باقی سارا عمل پولنگ سٹاف کے ذمہ ہوتا ہے۔ شاید اس اعتراض کا مقصد بھی یہ ہے کہ اگر نتائج حق میں نہ آئیں تو دھاندلی کا الزام لگایا جا سکے۔ اس بار انتخابات کی اہمیت اس لئے بھی ہے کہ یہ گلگت بلتستان کو علیحدہ صوبہ بنانے کے دعوے پر ہو رہے ہیں۔ حکومت اور دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اس ضمن میں عوام کو یقین دہانیاں کرا رہی ہیں۔ صوبہ بنتا ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ تو مستقبل میں ہوگا، تاہم مجھے عام انتخابات میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے دعوے پر مبنی انتخابی مہم یاد آ رہی ہے، جس کی بنیاد پر تحریک انصاف نے وہاں سے برتری حاصل کی، مگر اقتدار ملتے ہی اس دعوے کو ایسے بھول گئی،جیسے کبھی کیا ہی نہیں تھا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *