تازہ ترین کالم میں حسن نثار نے حیران کن بات کہہ ڈالی

لاہور (ویب ڈیسک) سخت جان بلکہ ڈھیٹ آدمی ہوں اس لئے زندگی سے اکتایا تو نہیں کہ بچے بھی ابھی رستے میں ہیں لیکن زندگی بے کیف سی ضرور محسوس ہونے لگی ہے اور وجہ اس کی صرف یہ ہے کہ دوستوں کے بچھڑنے پر جن دوستوں کے کندھوں پر سر رکھ کر رولیا کرتا تھا

وہ بھی تیزی سے بچھڑ رہے ہیں۔نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ شروع سے شروع کروں تو آپ بیزار ہو جائیں گے۔ صرف گزشتہ دو تین سالوں کے دکھ آپ کےساتھ شیئر کروں گا کہ نہ کروں تو شاید برین ہیمرج ہو جائے کہ بوجھ میری اوقات بساط سے بہت ہی بڑھتے جا رہے ہیں۔ میری تاریخ پیدائش 5جولائی ہے یعنی میں کینسیرین ہوں اور دنیا بھر کے ’’ایکسپرٹس‘‘ اس بات پر متفق ہیں کہ کینسیرین لوگ بہت ہی ہمدرد، جذباتی، حساس، ماضی پرست اورمحبت کرنے والے ہوتے ہیں اور میری اپنی زندگی بھی سکول، کالج، یونیورسٹی کے دوستوں کے گرد ہی گھومتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ عملی زندگی شروع کرنے کے بعد میں نے بہت ہی کم دوست بنائے کہ زمانۂ طالب علمی سے ہی ’’ہائوس فل‘‘ جیسی کیفیت تھی اور ہے۔ آج نہ ہمارا پتافی ہے نہ مسعود داڑھو۔ دونوں ایک دوسرے سےمحبت میں مبتلا ایک دوسرے کو ’’جھوٹی بددعائیں‘‘ دیتے دیتے آگے پیچھے رخصت ہوگئے۔ چند ہفتے بھی نہیں گزرے کہ سرخ وسفید 6فٹ کا یوسف ہونڈا بھی حدود وقت سے آگے نکل گیا اور میں ان کی تصویریں تکتے تکتے خود تصویر بن گیا ہوں۔تازہ ترین زخم طارق چڑی کی رخصتی ہے جو اچانک نہیں کہ اک عرصہ تک کینسر سے لڑتا رہا۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ برسوں پر محیط ان رشتوں کا کیا کروں؟ انہیں کہاں لے جائوں؟میری عادت ہے سونے سے پہلے والدین سے لے کر سب بچھڑے ہوئے دوستوں کے لئے دعا کرتا ہوں جن میں منو بھائی اور عباس اطہر بھی شامل ہیں لیکن اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ ساری رات اسی قرض کی ادائیگی میں گزرا کرے گی لیکن خیر ہے، نیند جتنی کم ہوگی، ابدی نیند اتنی ہی قریب ہوتی جائے گی۔ کاش جولائی میں بچوں کی پیدائش پر پابندی لگ سکتی کیونکہ یہ مہینہ پیدا ہونے کےلئے انتہائی خطرناک ہے۔LINDA GOODMAN بھی یہی کہتی ہے جو SUNSIGNS پر اتھارٹی کا سا درجہ رکھتی ہے۔اصل دکھ موت کا نہیں، بچھڑنے کا ہے اور ’’ٹوٹی ہوئی قبروں سے صدا بھی نہیں آتی‘‘۔

Comments are closed.