تازہ ترین

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان میں تالبانائزیشن کا آغاز مولوی نیک محمد اور ان کے ساتھیوں (مولوی نذیر، مولوی عباس اورجاوید کرمز خیل وغیرہ) نے کیا۔مولوی نیک محمد افغان تالبان کا حصہ رہے اور نائن الیون سے قبل کابل کے مغرب میں ایک علاقے(کارغہ) کے کمانڈر تھے۔

مولوی نذیر وغیرہ بھی افغان تالبان کے ساتھ رہے ۔ ان سب نے افغان تالبان کے امیرالمومنین ملا محمد عمر کی بیعت کر رکھی تھی۔ نائن الیون کے بعد انہوں نے اپنے علاقوں میں القاعدہ اور افغان تالبان کو پناہ دی جبکہ حکومت پاکستان ان پر زور دے رہی تھی کہ وہ ان لوگوں کو اپنے علاقوں سے نکالیں۔ دوسری طرف انہوں نے ریاست پاکستان کے خلاف ہتھیار اس بنیاد پر اٹھائے کہ پاکستان نے افغان تالبان کی حکومت گرانے کے لئے امریکہ کا ساتھ کیوں دیا؟ ان کی دیکھا دیکھی باجوڑ ایجنسی میں مولوی فقیر محمد، سوات میں مولانا فضل اللہ، مہمند ایجنسی میں عبدالولی عرف خالد خراسانی اور شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر وغیرہ متحرک ہوگئے۔ ان سب نے بھی اپنے ہاں القاعدہ اور افغان تالبان کو پناہ دے رکھی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف حصوں میں دیگر تنظیموں سے وہ لوگ ٹوٹ کر باغی ہوگئے جو القاعدہ اور تالبان کے حامی تھے۔ ان میں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ شامل تھے لیکن انہیں پنجابی تالبان کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔2007 میں بیت اللہ محسود، جو خود افغان تالبان کا حصہ رہے تھے اور کسی زمانے میں ملا داداللہ کے دست راست تھے، نے القاعدہ اور افغان تالبان کے بعض رہنمائوں (استاد یاسر وغیرہ) کے تعاون سے ان سب کو جمع کیا اور تحریک تالبان پاکستان کے نام سے ایک مشترکہ تنظیم بنائی جس کے بعد اس تنظیم نے شرپسندانہ کارروائیوں سے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا جس کے جواب میں پاکستانی فوج کو ان کے خلاف درجنوں ایکشن کرنے پڑے۔

افغان تالبان نے یہ حکمت عملی اپنا رکھی تھی کہ انہوں نے خود پاکستان میں کوئی کارروائی نہیں کی لیکن ٹی ٹی پی کے لوگ افغانستان کے اندر افغان تالبان کے شانہ بشانہ لڑتے رہے تاہم زیادہ تر توجہ انہوں نے پاکستان پر مرکوز رکھی۔ ٹی ٹی پی کے سینکڑوں فدائین نے افغانستان میں بھی اٹیکس کئے جبکہ خوست میں سی آئی اے کے نصف درجن اہم اہلکاروں کو اڑانے کے لئے ابودجانہ نے جو فدائی کارروائی کی، اس کا منصوبہ بھی حکیم اللہ محسود نے بنایا تھا۔ افغان تالبان نے اس دوران پاکستان کے اندر پاکستانی تالبان کی لڑائی کی کبھی اعلانیہ حمایت کی نہ کبھی مذمت کی۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ ٹی ٹی پی کے لوگ افغان تالبان کے امیرالمومنین کو اپنا امیرالمومنین مانتے تھے۔ پاکستانی فوج کے ملٹری ایکشنز کے بعد ٹی ٹی پی کئی دھڑوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔ مہمند ایجنسی کے عبدالولی عرف خالد خراسانی نے جماعت الاحرار کے نام سے الگ دھڑا بنا لیا تھا جبکہ پنجابی تالبان بھی الگ ہوگئے تھے لیکن گزشتہ سال جب افغانستان میں تالبان کی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا تو ان کا دوبارہ ادغام ہوگیا اور مفتی نور ولی محسود عرف ابو منصور عاصم کے ہاتھ پر سب نے بیعت کرلی اور اسی محفل میں انہوں نے ملا ہیبت اللہ کی بطور امیرالمومنین بیعت کی۔ اب ایک طرف یہ زمینی حقائق تھے لیکن دوسری طرف پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ نے گزشتہ پندرہ برس یہ بے بنیاد بیانیہ عام کیا کہ افغان اور پاکستانی تالبان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔

دوسری طرف یہ توقع وابستہ کرلی گئی کہ جس دن افغانستان میں تالبان حکمران بنیں گے تو وہ راتوں رات وہاں سے ٹی ٹی پی کا صفایا کردیں گے لیکن معاملہ الٹ ہوگیا۔ ٹی ٹی پی کے ہزاروں لوگ جو افغان قید خانوں میں بند تھے، رہا ہوگئے۔ تیسری طرف پاکستان سے ٹی ٹی پی کے کارکن یا پھر ہمدرد جو سلیپنگ سیلز کی صورت میں جگہ جگہ موجود تھے،افغانستان میں ٹی ٹی پی کے پاس جانے لگے۔ اسی طرح امریکی انخلا کے بعد افغان تالبان کے ساتھ ساتھ ٹی ٹی پی کو بھی بے تحاشہ مال غنیمت ہاتھ آگیااور ان کے وسائل بے تحاشہ بڑھ گئے۔ چنانچہ افغانستان میں تالبان کے فاتح بنتے ہی قبائلی اضلاع میں بھی ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں زور پکڑ گئیں۔ پشاور، مردان، دیر، باجوڑ، بنوں وغیرہ میں لوگوں کو خطوط آنے شروع ہوگئے۔ گزشتہ چھ سات سال میں ٹی ٹی پی کی قیادت امریکی ڈرون کے خوف سے کسی ایک موقع پر بھی جمع نہیں ہوسکی تھی لیکن گزشتہ دو تین ماہ کے دوران ان کی شوریٰ کے متعدد اجلاس منعقد ہوئے۔ اٹیکرز کی بڑی کھیپ کی تیاری کے ساتھ ساتھ ٹی ٹی پی نے پاکستان میں کارروائیوں کے لئے بھرپور تیاری بھی کررکھی ہے لیکن سردست انہیں افغان تالبان کی مداخلت پر معطل رکھا ہے۔ کابل پر تالبان کے قبضے کے بعد جب پاکستانی حکام نے ان کے ساتھ ٹی ٹی پی کے سلسلے میں بات کی تو جواب ملا کہ یہ لوگ بیس سال تک ہمارے میزبان رہے ہیں، انہوں نے ہماری لڑائی میں ہمارے ساتھ قربانیاں دی ہیں

اور ہمارے امیرالمومنین کو اپنا امیرالمومنین مانتے ہیں تو اب ہم کیسے ان کے خلاف کارروائی کریں؟ دوسرا عذر یہ پیش کیا گیا کہ ابھی تو ہم اپنی گرفت مضبوط کررہے ہیں جبکہ مسئلہ صرف ٹی ٹی پی کا نہیں بلکہ چین ای ٹی آئی ایم، عرب دنیا اور مغرب القاعدہ اور روس موومنٹ آف ازبکستان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ادھر ہمارے لئے اصل خطرہ آئسز ہے اور ہم اگر کسی کے خلاف طاقت استعمال کریں گے تو وہ آئسز میں جاسکتے ہیں۔ افغان تالبان کی طرف سے بتایا گیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ یہ کرسکتے ہیں کہ حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مفاہمت میں تعاون کریں اور ان کو روکیں کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ کریں۔میری معلومات کے مطابق افغان تالبان اور بالخصوص سراج الدین حقانی نے ٹی ٹی پی کو قابو کر رکھا ہے ورنہ خاکم بدہن ابھی تک وہ پاکستان کو ہلاچکے ہوتے۔ چنانچہ ان حالات میں پاکستان کے پاس دو آپشنز ہیں ایک یہ کہ وہ افغان تالبان کے اثرورسوخ کو استعمال کرکے ٹی ٹی پی کے قضیے کا مذاکرات کے ذریعے حل نکالے اور دوسرا آپشن یہ کہ افغان تالبان کے ساتھ بھی دشمنی مول لے لے۔ میں تو پہلے آپشن کا حامی ہوں کیونکہ دوسرا آپشن ہر حوالے سے پاکستان کے لئے خطرناک اور نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

Comments are closed.