تبدیلی والوں نے پاکستان اور پاکستانیوں کو کہیں کا نہ چھوڑا ۔۔۔ ہر شہری کی پریشانیوں میں اضافہ کر دینے والی خبر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔عمران خان نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں کہا تھا ’’ اسامہ بن لادن کو امریکنز نے آکر مار دیا اور پھر رک کر اس کی اصلاح کی اور کہا اسے SHAHEED کر دیا‘‘ لہٰذا اگر یہ سلپ آف ٹنگ تھی

تو یہ پہلے تھی بعد میں اس کی اصلاح کی گئی تھی اور یہ اصلاح ریاست کے بیانیے سے متصادم ہے لہٰذا ہم نے گڑھا مردہ اکھاڑ کر سیدھا سادا اپنا منہ نوچ لیا‘ ہوا بازی کے وفاقی وزیر غلام سرور خان نے 24 جون کو قومی اسمبلی میں فلائیٹ پی کے 8303 کے حادثے کی رپورٹ پیش کی‘ خان صاحب نے اچانک رپورٹ سے ہٹ کر اعلان فرما دیا‘ پاکستان کے 30 فیصد پائلٹس کی ڈگریاں اور لائسنس جعلی ہیں اور ان میں سے بے شمار نے اپنے فلائنگ آورز بھی پورے نہیں کیے۔پاکستان میں ٹوٹل 860 کمرشل پائلٹس ہیں اور حکومت نے ان میں سے 262 کو مشکوک قرار دے دیا‘ یہ سول ایوی ایشن کی ایک سو 15 سال کی تاریخ کا انوکھا واقعہ تھا‘ آج تک دنیا کے کسی ملک کے کسی وزیر نے یہ اعتراف نہیں کیا لہٰذا پوری دنیا میں کہرام مچ گیا‘ آپ سوچیے کیا اس کے بعد دنیا ہمارے جہازوں کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے دے گی‘ کیا یہ ہمیں اپنی زمین پر لینڈ اور ٹیک آف کی اجازت دے گی لہٰذا ہم نے خود اپنی زبان سے اپنی سول ایوی ایشن کا بیڑا غرق کر دیا‘ ہم نے ثابت کر دیا ہمارے ملک میں جہاز اڑانے کے لائسنس بھی جعلی مل جاتے ہیں‘ یہ اگر سچ بھی تھا تو بھی یہ پارلیمنٹ کے فلور پر بولنے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ خاموشی سے پائلٹس کے بارے میں تحقیق کرتے اور انھیں چپ چاپ فارغ کر دیتے یا پھر انھیں مستعفی ہونے کا آپشن دے دیتے‘ ہمیںعالمی دنیا کے سامنے کھڑا ہو کر اپنا منہ نوچنے کا کیا فائدہ ہوا؟

آپ آٹے‘ چینی اور پٹرول کے بحران کو بھی دیکھ لیجیے‘ دنیا میں غذائی بحران‘‘ سرحدوں کی حفاظت سے بڑا ایشو ہے۔کسی ملک کے پاس اگر گندم ہی نہیں ہو گی تو وہ کیسے سروائیو کرے گا؟ ہمارے ملک میں آٹے کا بحران پیدا ہوا اور دو ہفتوں میں قیمت 40 روپے سے 75 روپے ہو گئی‘ ہم نے ثابت کر دیا ریاست میں آٹے پر نظر رکھنے کی اہلیت بھی نہیں‘ ہم پچھلے تین ماہ سے اپنے منہ سے یہ بھی بول رہے ہیں‘ پاکستان میں شوگر مافیا موجود ہے اور یہ مافیا اپنی مرضی سے چینی کی قیمت اوپر نیچے کرتا رہتا ہے‘ یہ حکومتوں سے سبسڈی لے لیتا ہے اور حکومت نے دو ہفتے قبل خود اپنے منہ سے تسلیم کر لیا پٹرولیم کمپنیاں بھی ریاست کے کنٹرول میں نہیں ہیں اور ریاست پٹرول کی سپلائی بھی بحال نہیں کرا سکتی۔یہ کیا ہے؟ کیا ہم خود اپنے ہاتھوں سے اپنا منہ نہیں نوچ رہے‘ آپ 245 ملکوں میں سے کوئی ملک بتایے جس میں پچھلے دس برسوں میں آٹا‘ چینی اور پٹرول جیسی ضروریات کے مافیاز نے جنم لیا ہو یاکسی ریاست نے اپنے منہ سے ان شعبوں کے بارے میں اپنی بے بسی کا اعتراف کیا ہو اور آپ کرپشن کی داستانیں بھی لے لیں‘ ہم پچھلے آٹھ سال سے خود اپنے منہ سے مسلسل کہہ رہے ہیں پاکستان کے حکمران کرپٹ ہیں‘ یہ منی لانڈرنگ بھی کرتے ہیں اور سرکاری خزانے پر ڈاکے بھی ڈالتے ہیں لیکن ہم آج تک ان ’’چوروں‘‘ سے ایک دھیلا وصول نہیں کر سکے۔

الٹا ہم نے ان مقدمہ بازیوں پر اربوں روپے خرچ کر دیے‘ ہمارے اس پروپیگنڈے کا کیا نتیجہ نکلا؟دنیا میں ہماری رولنگ ایلیٹ بھی کرپٹ مشہور ہو گئی اور ہمارا احتساب اور انصاف کا نظام بھی کم زور ثابت ہو گیا اور ہم یہ ثابت کرنے کے بعد دنیا کو دعوت دے رہے ہیں یہ یورپ‘ امریکا‘ جاپان اور گلف سے اپنا سرمایہ نکال کر پاکستان میں لگا دے۔آپ یہ بھی دیکھیے ریکوڈک کا پراجیکٹ ہو‘ کارکے کا ایشو ہو‘ ایران پاکستان پائپ لائین ہو یا پھر سی پیک ہو ہم خود انٹرنیشنل معاہدوں سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پھر اپنے چہرے کی خراشوں کا رونا بھی روتے ہیں اور ملک میں ادویات اور ماسک کی اسمگلنگ تک نکل آتی ہے‘ ہم کیا ہیں؟ کیا پاگل پن کی کوئی انتہا بھی ہوتی ہے اور اگر ہوتی ہے تو پھر وہ کب آئے گی! ہم کب تک اپنا چہرہ نوچتے رہیں گے؟خدا کے لیے ان لوگوں کو روکیں‘ یہ لوگ صرف شغل میں‘ یہ اپنے آپ کو بہادر ثابت کرنے یا ’’خان کسی سے نہیں ڈرتا‘‘ کا ٹائٹل لینے کے لیے جوہری جنگ تک چھیڑ دیں گے‘ یہ اپنا چہرہ نوچنے والے لوگ ہیں‘ یہ خود کسی دن دنیا کو اطلاع دے دیں گے ’’خبردار پاکستان اور پاکستانی کورونا بم ہیں‘ آپ ان سے بچ جائیں‘‘آپ یقین کریں یہ لوگ کچھ بھی کر سکتے ہیں‘ ہمیں اگر اب بھی یقین نہیں آ رہا تو پھر آپ جان لیں قدرت ہم سے ناراض ہو چکی ہے اور جب قدرت ناراض ہوتی ہے تو یہ قوموں کی عقل ساقط کر دیتی ہے‘ یہ ان سے اچھے اور برے کی تمیز چھین لیتی ہے اور ہم مانیں یا نہ مانیں قدرت ہم سے یہ تمیز چھین چکی ہے‘ ہمیں چہرے نوچنے والے ہیرو لگ رہے ہیں۔(ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.