تبدیلی والے پاکستانی صحافیوں کے گرد گھیرا کیسے تنگ کر چکے ہیں ؟

اسلام آباد(ویب ڈیسک) نامور صحافی عمر چیمہ اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ گزشتہ دو سال کے دوران تقریباً دو درجن کے قریب صحافیوں پر مقدمات درج کیے گئے اور ان میں سے زیادہ تر کیخلاف پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت مقدمات چلائے گئے۔ یہ بات فریڈم نیٹ ورک کی ایک رپورٹ میں سامنے آئی ہے

جو صحافیوں کیخلاف کیے جانے والے اقدامات کیخلاف منائے گئے عالمی دن کے موقع پر سامنے آئی ہے۔ اکثر و بیشتر صحافیوں کیخلاف سیکشن 20؍ کے تحت کیسز درج کیے جاتے ہیں، اس میں آن لائن ہتک عزت کی بات کی گئی ہے اور اس کی سزا تین سال قید اور دس لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہے۔ فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے حوالے سے مختلف آراء اور تنقید اکثر و بیشتر پیش آنے والا وہ واقعہ ہے جو اس ایکٹ کی شق کے تحت عتاب کا شکار رہتا ہے۔ پیکا کے تحت عمومی طور پر ایگزیکٹو (سویلین اور ملٹری) کیخلاف کی جانے والی تنقید ہو یا پھر عدلیہ کیخلاف کوئی رائے، یہ معاملات اکثر پیکا قانون کے تحت صحافیوں کیخلاف کارروائی کا سبب بنتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ شکایت کی نوعیت مبینہ ہتک عزت بتائی جاتی ہے۔ فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک کہتے ہیں کہ پاکستانی صحافی تیزی سے آن لائن ذرائع استعمال کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی آزاد آراء شیئر کر سکیں اور تنقیدی تبصرہ کر سکیں جو عمومی میڈیا پر دبا دیا جاتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ آن لائن اظہار خیال کو بھی روکنے کیلئے ایک کوشش جاری ہے چاہے وہ قانونی ہو یا پھر صحافیوں کیخلاف منظم ڈیجیٹل مہم کے ذریعے۔ رپورٹ میں اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ کس طرح پیکا کو پاکستانی صحافیوں کو خاموش کرانے کیلئے حالیہ برسوں میں استعمال کیا گیا ہے کیونکہ اس قانون میں آن لائن اظہار خیال کو جرم بنا دیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ 23؍ صحافیوں اور انفارمیشن پریکٹیشنرز کے کیسز کا جائزہ لینے کے بعد مرتب کی گئی ہے جنہیں 2019ء تا 2021ء پیکا کے تحت ایف آئی اے کی طرف سے مختلف جرائم کے تحت نوٹس بھیجے گئے۔

یہ رپورٹ انہی رپورٹرز اور پریکٹیشنرز کی فراہم کردہ معلومات کے تحت تیار کی گئی ہے اور اس کا جائزہ لیا گیا ہے۔ تجزیے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ صحافیوں کیخلاف قائم کیے گئے 56؍ فیصد مقدمات پیکا کے تحت بنائے گئے۔ ان میں سے جن افراد پر باضابطہ مقدمات دائر کیے گئے، ان میں سے 70؍ فیصد کو گرفتار کیا گیا اور ان کی آدھی تعداد پر دورانِ قید زدوکوب کیا گیا۔ نیٹ ورک کی رپورٹ میں صحافیوں کو درپیش مسائل اور چیلنجز کا بھی احاطہ کیا گیا ہے جبکہ پاکستان میں حکام کی جانب سے اپنے اختیارات کے استعمال اور نظام انصاف کے رد عمل کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ پیکا کے تحت کی گئی کارروائیوں میں پنجاب سب سے زیادہ خطرناک ریجن ثابت ہوا، 23؍ میں سے 10؍ کیسز پنجاب کے تھے جبکہ اسلام آباد کے 8؍ کیسز تھے۔ مدعی افراد کی دو تہائی تعداد نجی شہری ہیں جبکہ فوج اور انٹیلی جنس کیخلاف کی گئی تنقید اور ان کے حوالے سے پیش کی گئیں آراء شکایت کا زیادہ تر موضوع بننے والا معاملہ رہا۔ پیکا کے تحت جن صحافیوں پر کیسز بنائے گئے ان کی آدھی تعداد کو گرفتار کیا گیا، گرفتار ہونے والوں میں سے دو تہائی ضمانت پر رہا ہونے میں کامیاب رہے جبکہ کچھ کو چند دنوں سے لیکر کچھ ہفتوں تک حوالات میں رہنا پڑا۔ جن صحافیوں کو ایف آئی اے نے پیکا کے تحت نوٹس بھیجے ان کی آدھی سے زیادہ تعداد نے ان نوٹسز کو چیلنج کرنے کیلئے عدالتوں سے رجوع نہیں کیا اور اس لئے انہیں انصاف کے قانونی راستے پر چلنے نہیں دیا گیا۔ صحافیوں کی ایک تہائی تعداد نے ان نوٹسز کو چیلنج کیا۔ صحافیوں کیخلاف پیکا کے تحت زیادہ تر شکایتیں سزائوں کے مقصد کے تحت درج کی گئیں اور ان سے معافی طلب کی گئی اور معافی نامے شائع کرائے گئے۔