تبدیلی ٹھس: کے پی کے میں تو ٹریلر چلا ۔۔۔اصل فلم چلنا ابھی باقی ہے اور یہ کہاں چلے گی ؟ سینئر کالم نگار نے دعویٰ کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) اس کی عمر کوئی 65 سال ہو گی۔ میں حیران تھا یہ اس عمر میں گدھا گاڑی کیسے چلاتا ہے۔ جبکہ اس عمر میں تو ہم جیسے لوگ ڈھنگ سے چل بھی نہیں سکتے۔ وہ میرے گھر فریج لایا تھا، جو مرمت کے بعد کمپنی نے بھیجا تھا۔ اس نے کہا بابو جی یہ وزنی ہے،

پھر اسے سیدھا رکھنا بھی ضروری ہے کیا کوئی بندہ ہوگا جو اسے اتارنے میں میری مدد کرے، میں نے ساتھ ہی تعمیر ہونے والے مکان سے دو مزدوروں کو بلایا اور ان کی مدد سے اس نے وہ فریج گھر کے اندر پہنچا دیا۔نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کمال کا آدمی تھا کہنے لگا آج میں عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے حلال روزی نہیں کر سکا، یہ فریج مجھے خود اتار کے اندر رکھنا چاہئے تھا۔ میں نے کہا ایسی بات نہیں، تم اسے اتنی دور سے لے آئے ہو یہ کافی ہے۔پھر میں نے اسے لان میں بٹھا کر پانی اور چائے پلائی تاکہ اس کے اوسان بحال ہو سکیں۔ پھر کہنے لگا بابو جی یہ عمران خان پشاور میں ہار گیا ہے۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے۔ میں نے کہا تمہیں خوشی کیوں ہوئی ہے، کہنے لگا عمران خان نے اس ملک کے غریبوں سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا ہے۔ میں نے کہا بابا جی وہ تو غریبوں کے لئے بہت کچھ کر رہا ہے۔ احساس پروگرام کے ذریعے راشن سستا مل رہا ہے۔ صحت کارڈ دے کر علاج معالجہ فری کر دیا ہے، غریبوں کو گھروں کے لئے قرضے مل رہے ہیں، اتنا کچھ تو کر رہا ہے اور کیا کرے۔ اس پر اس نے ایک ایسی بات کہی جس پر مجھے بہت ہنسی آئی، کہنے لگا لگتا ہے آپ پی ٹی آئی کے حامی ہیں۔ ہنسی اس لئے آئی کہ اب ہر بندہ یہ سمجھتا ہے، جو عمران خان کا حامی ہے وہ ضرور پی ٹی آئی کا ورکر ہوگا۔ وگرنہ باقی تو کوئی رہ نہیں گیا، میں نے کہا۔

”ہاں میں پی ٹی آئی کا حامی تھا اور میں نے ووٹ بھی تحریک انصاف کو دیا تھا اور سچی بات ہے خیال یہی تھا عمران خان ہی اس ملک کو مشکلات سے نکالے گا۔ اب ہنسنے کی باری اس کی تھی۔ ”غریبوں کے تو حالات بہت برے ہو گئے ہیں۔ زندہ رہے تو مشکلات سے نکلیں گے۔ میں نے اس ماہ بھی ساڑھے چار ہزار روپے بجلی کا بل دیا ہے۔ حالانکہ سردیوں میں بجلی کا صرف بلب جلتا ہے۔ میں سارا دن محنت و مشقت کرتا ہوں تو ہزار بارہ سو دیہاڑی نہیں بنتی۔ جمعہ کو مارکیٹیں بند ہوتی ہیں تو چھٹی ہو جاتی ہے۔ بیوی بیمار ہے پہلے مہینے میں دو ہزار کی دوائیاں آتی تھیں اب چار ہزار کی آتی ہیں۔ کرائے کا مکان ہے مہینہ ایسے ختم ہوتا ہے جیسے گھر کا راشن ختم ہو جاتا ہے۔ ایک بیوہ بیٹی ہے، جس کے تین بچے ہیں، وہ بھی میری ذمہ داری ہے، ان کے سکول اور خوراک کا خرچ مجھے اس بڑھاپے میں بھی سکون کی سانس نہیں لینے دیتا۔ بھلا بتائیں میں کیسے زندہ رہوں، اپنے ساتھ رہنے والوں کو زندہ رکھوں۔ میں نے اسے چھ سو مزدوری کی بجائے ایک ہزار روپے دیئے تو اس نے لینے سے انکار کر دیا۔ اس کا کہنا تھا میں نے اپنی غربت کے بارے میں اس لئے نہیں بتایا کہ آپ مجھے فقیر سمجھ لیں، آپ مجھے چھ سو روپے ہی دیں۔ میں اُسے حیرت زدہ نظروں سے دیکھتا رہ گیا۔ اس کے جانے پر میں دیر تک یہ سوچتا رہا ایسے خود دار غریبوں کی زندگی حکومت آخر کیوں اجیرن کر رہی ہے

پھر یہ خیال بھی آیا کم از کم خیبرپختونخوا کے عوام نے یہ بتا دیا ہے کہ یکطرفہ ٹریفک نہیں چل سکتی، یعنی یہ نہیں ہو سکتا آپ غریبوں کے ساتھ مہنگائی کے ذریعے ظالمانہ سلوک کرتے رہیں اور وہ جواب میں آپ کو اپنے قیمتی ووٹ سے بھی نوازیں۔میں جب بھی وزیر اعظم عمران خان سے یہ سنتا ہوں کہ ہماری حکومت کا سب سے بڑا فوکس غریب عوام ہیں، تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے وہ کہہ رہے ہوں ہم نے کسی غریب کو نہیں چھوڑنا۔ سوال یہ ہے زبانی جمع خرچ کے سوا غریبوں کے لئے کچھ کریں بھی تو، یہ احساس راشن پروگرام اور صرف کارڈ جیسے منصوبے غریبوں کی فوری ضرورت پوری نہیں کر سکتے۔ اعداد و شمار کے مطابق احساس راشن کارڈ کے ذریعے ایک خاندان کو مہینے میں زیادہ سے زیادہ ایک ہزارر روپے کا فائدہ ہوگا۔ آپ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ہر ماہ غریبوں پر دو تین ہزار کا زائد بل بھیجتے ہیں اور دوسری طرف راشن کے لئے ایک ہزار چھوڑ دیں وہ بھی مخصوص لوگوں کو تو اس سے عوام کو کیا ریلیف مل سکتا ہے۔ آمدنی بڑھتی نہیں اور ہر روز مہنگائی کی ایک نئی کلہاڑی چلتی ہے اور نیا عذاب نازل ہوتا ہے۔ جو حکومتی زعماء یہ سمجھتے تھے ان باتوں کا عوام پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور وہ پہلے کی طرح آج بھی عمران خان کے دیوانے ہیں انہیں کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج سے سبق سیکھنا چاہئے۔ اپنے ہی صوبے اور اپنی ہی بھاری مینڈیٹ والی صوبائی حکومت کی موجودگی میں تحریک انصاف کی بڑی بڑی شخصیات کے علاقوں میں شکست فاش اس بات کا ثبوت ہے

عوام اپنے حالات سے غافل نہیں۔ مہنگائی کے خلاف عوام کے مظاہروں پر چاہے حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگے لیکن عوام کے اندر نفرت کا لاوا ضرور پک رہا ہے۔ اسے جب بھی باہر آنے کا موقع ملے گا وہ پوری شدت سے باہر آئے گا اور کاخِ امراء کے درو دیوار ہلا دے گا۔ مہنگائی عالمی مسئلہ ہے کی گردان کرنے والے یہ بتائیں کہ انہوں نے حکومتی اخراجات کی مد میں کتنی بچت کی عوام کو ریلیف دینے کے لئے کیا اقدامات کئے، دنیا بھر میں مہنگائی اگر ہے بھی تو وہاں کی حکومتوں نے سارا بوجھ عوام پر نہیں ڈالا بلکہ اپنی پالیسیوں کے ذریعے اتنا بوجھ خود اٹھایا کہ عوام ایک سکھی اور خوشحال زندگی گزار سکیں۔وزیر خزانہ شوکت ترین سینٹر منتخب ہو گئے ہیں گویا اب وہ وزیر خزانہ پکے ہیں۔ مگر ان کی باتیں مایوسی پھیلانے والی ہیں۔وہ بھی یہی تکیہ کلام اختیار کئے ہوئے ہیں کہ مہنگائی، عالمی مسئلہ ہے کوئی اس بات کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں کہ حکومت کی بری معاشی پالیسیاں بھی ملک کے لئے نقصان دہ ثابت ہوئی ہیں وقت پر فیصلے نہ کرنے کی وجہ سے ہم نتائج بھگت رہے ہیں۔ آغاز میں ہی آئی ایم ایف کے پاس جاتے تو اتنی مشکلات پیش نہ آتیں اور نہ ہی اتنی کڑی شرائط کا سامنا کرنا پڑتا۔ ابھی تو آئی ایم ایف سے قسط لینے کے لئے مہنگائی کا ایک اور بڑا بم منی بجٹ کی صورت میں گرنا ہے۔ کھربوں روپے کے نئے ٹیکس عوام کی گردن پر انگوٹھا رکھ کر وصول کئے جائیں گے۔ وہ عوام جو پہلے ہی دہائی دے رہے ہیں کہ ان کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ اب طفل تسلیوں کے سوا وقت گزارنے کا ااور کوئی طریقہ باقی نہیں رہا۔ شوکت ترین بھی کہہ رہے ہیں اگلے تین چار ماہ میں مہنگائی کم ہو جائے گی اور دیگر وفاقی وزراء نے بھی تسلیم کیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں شکست مہنگائی کی وجہ سے ہوئی اسے کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایک طرف مہنگائی ہے اور دوسری طرف بری گورننس ہے۔ ڈیڑھ سو روپے تک جانے والی چینی آج سو روپے سے کم مل رہی ہے، کس نے اربوں روپے کی دیہاڑی لگائی۔ اب کسانوں کو کھاد نہیں مل رہی۔ حالانکہ کھاد کے کارخانے پوری طرح کام کر رہے ہیں، اس سے پیچھے کون سا گروہ ہے؟ ادویات کی کئی سو گنا قیمتیں کیسے بڑھ گئیں؟ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ جب عوام کو منافع خور گروہوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے تو وہ موقع ملنے پر اپنا غصہ حکمرانوں پر نکالتے ہیں اور اس کا چھوٹا سا ٹریلر خیبرپختونخوا میں چلا ہے، باقی پوری فلم چلنا باقی ہے۔