تجزیہ کاروں کی تہلکہ خیز پیشگوئی

کراچی (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان سلیم صافی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے محسن بیگ نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو سرپرائز ملے گا، اپوزیشن خاص طور پر پیپلز پارٹی سینیٹ میں اکثریت لانے کی کوشش کررہی ہے، سینیٹ انتخابات 2018ء میں پیسے بانٹنے

کی ویڈیو سوفیصد حقیقی ہے۔پی ٹی آئی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی سردار محمد ادریس نے کہا کہ میری ویڈیو حقیقی ہوسکتی ہے لیکن میرے آگے پیسے نہیں رکھے ہوئے تھے، پارٹی سے نکالے جانے پر پہلے الیکشن کمیشن پھر پشاور ہائیکورٹ گیا، پارٹی نے مجھے اپروچ بھی کیا کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے۔نمائندہ خصوصی جیو نیوز کوئٹہ سلمان اشرف نے کہا کہ 2015ء میں بعض امیدوار پیسے دے کر بھی سینیٹرز نہیں بن سکے2018ء میں ان کے پیسوں کے عوض انہیں اکاموڈیٹ کیا گیا۔شگفتہ ملک نے کہا کہ عمران خان نے 2018ء میں ویڈیوز دیکھ لی تھیں پھر سلطان محمد کو کیوں وزیرقانون بنایا گیا،اوپن بیلٹ کی نہیں حکومت کے طریقہ کار کی مخالفت کررہے ہیں۔سابق امیدوار سینیٹ نظام الدین خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے قیصر جمال نے قومی اسمبلی میں کہا کہ قبائلی علاقوں سے لوگ کتنے کتنے کروڑ میں سینیٹ میں آرہے ہیں اس لئے میں بھی ووٹ نہیں دے رہاحلقوں میں ترقیاتی کاموں کا اختیار مقامی حکومتوں کو اختیاردیا جائے ،سینیٹ اور اسمبلیوں میں صرف قانون سازی ہونی چاہئے۔محمد علی نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں اپنے ایم پی ایز کی فروخت کے پیش نظر ویڈیوز سامنے لائے ہیں، ووٹ خریدنے والے کہتے ہیں ایک ارب روپے میں ووٹ خرید کر پانچ سال میں پچاس ارب کمالیتے ہیں۔پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی محمد علی شاہ باچہ نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ انتخابا ت میں خرید و فروخت سے متعلق ویڈیو ایڈٹ شدہ ہے، ایک ویڈیو میں مجھے سگریٹ اور چائے پیتے دکھایا گیا ہے

جبکہ دوسری ویڈیو میں پیسے تقسیم ہورہے ہیں ایک ویڈیو ڈرائنگ روم کی ہے جبکہ دوسری ویڈیو ہال ٹائپ کمرے کی ہے،میں نہ پیسے دینے میں نہ پیسے لینے میں شامل ہوں، اگر پیسے اسی میز پر پڑے ہوتے جس میز کے سامنے میں بیٹھا ہوں تو ایک شخص کی شکل ضرور نظر آتی، غلط ویڈیو جاری کرنے پر عدالت سے رجوع کروں گا۔محمد علی شاہ باچہ کا کہنا تھا کہ 2018ء میں پی ٹی آئی کے لوگ پارٹی پالیسی کے خلاف تھے، اسمبلی میں بیس پچیس لوگوں کا گروپ بھی بنا ہوا تھا، ہم نے کسی کو پیسے دے کر ووٹ نہیں لیے لوگوں نے اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیئے،2018ء میں پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 30ارکان تھے گورنر پنجاب محمد سرور نے 52ووٹ کیسے لیے۔محمد علی شاہ باچہ نے کہا کہ عمران خان نے 2018ء میں یہ ویڈیوز دیکھی تھیں تو سلطان محمد کو تین سال وزیرقانون کیوں رکھا، جس ویڈیو میں مجھے دکھایا جارہا ہے شاید وہ حقیقی ہو لیکن میرے سامنے پیسے نہیں رکھے تھے، پیسے لینے والا قبول کررہا ہے اسپیکر ہاؤس میں پرویز خٹک اور اسپیکر کے سامنے اسے سینیٹر فدا نے پیسے دیئے ،میرے پیچھے پس منظر میں لوگ آتے جاتے نظر آرہے ہیں۔سینئر تجزیہ کار محسن بیگ نے کہا کہ کوئی کافی یا سگریٹ پیتے محمد علی شاہ باچہ کی ویڈیو کیوں بنائے گا اور وہا ں نوٹ کیوں رکھے گا، ایسی 20کے قریب ویڈیوز موجود ہیں، پی ٹی آئی نے اپنے کچھ لوگوں کی ویڈیوز ابھی چھپالی ہیں، اگر کوئی ویڈیوز کو جعلی کہتا ہے

تو عدالت چلا جائے، پیسے بانٹنے کی ویڈیو حکومت کو ہی مل سکتی تھی اور اس کا فائدہ بھی حکومت کو ہوا ہےیہ ویڈیو میڈیا میں جاری کرنے کیلئے نہیں بنائی گئی تھی بلکہ دیئے گئے پیسوں کی رسید تھی۔ محسن بیگ نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے 2018ء میں ان میں سے 15ویڈیوز دیکھی تھیں، عمران خان نے ویڈیوز دیکھنے کے بعد ہی ایم پی ایز کو نکالنے کا فیصلہ کیا تھاعمران خان نے اگلے دن پریس کانفرنس میں بھی کہا کہ میں نے ویڈیوز دیکھی ہیں، پرویز خٹک کو اپنے جن ایم پی ایز پر شک تھا انہیں روکنے کیلئے سیکرٹ فنڈز سے فنڈ دیئے اور آئندہ ٹکٹ دینے کا بھی وعدہ کیا تھا، خفیہ کیمرے اس طرح لگائے گئے کہ ہر شخص کو نوٹ گنتے دکھایا جائے۔محسن بیگ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں آج بھی سینیٹ انتخابات میں پیسے چل رہے ہیں، عمران خان نے 2018ء میں پیسے لینے والے اپنے چند لوگوں کو بچایا ہے، عمران خان پہلے دن سے انتخابی اصلاحات اور اوپن بیلٹ کے حامی رہے ہیں، سینیٹ میں دس پندرہ فیصد قابلیت پر سینیٹر بنے ہیں باقی ارب پتیوں کا کلب ہےپاکستانی سیاست میں پیسہ حقیقت ہے کوئی غریب شریف آدمی سیاست میں نہیں آسکتا، پاکستان میں ایک ہی پارٹی ہے جو سینیٹ میں اپنے غریب امیدواروں کیلئے پیسے خرچ کرتی ہے۔اے این پی کی رکن صوبائی اسمبلی شگفتہ ملک نے کہا کہ عمران خان نے 29اپریل 2018ء کو ویڈیوز دیکھ لی تھیں سلطان محمد کو قومی وطن پارٹی نے ووٹ فروخت کرنے پر نکالا تھا، عمران خان کو یہ بات معلوم تھی پھر بھی سلطان محمد کو پارٹی میں شامل کر کے پہلے ایم پی اے پھر وزیرقانون بنادیا گیا۔ شگفتہ ملک کا کہنا تھاکہ ہم سینیٹ الیکشن میں اوپن بیلٹ کی نہیں حکومت کے طریقہ کار کی مخالفت کررہے ہیں، پارلیمانی کمیٹی کے ذریعہ اتفاق رائے سے سینیٹ الیکشن میں اوپن بیلٹ کیا جاسکتا ہے 2018ء کے عام انتخابات میں دھاندلی اور چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر بات کیوں نہیں ہوتی۔جماعت اسلامی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی محمد علی نے کہا کہ 2018ء میں یہ ویڈیوز سامنے کیوں نہیں لائی گئیں، عمران خان سینیٹ انتخابات 2021ء میں اپنے ایم پی ایز کی فروخت کے پیش نظر ویڈیوز سامنے لائے ہیں پی ٹی آئی کے سینیٹرز میں بعض ارب پتی ہیں، پی ٹی آئی قیادت نے اپنے لوگوں کو پیسے دیئے کہ ہم سے پیسے لے لو کسی اور کے ہاتھ فروخت نہ ہو،2015ء میں بھی عمران خان کو پی ٹی آئی کے ایم پی ایز بکنے کا خدشہ تھا۔محمد علی نے بتایا کہ ایک امیر سینیٹر سے پوچھا آپ کو سینیٹ میں پیسے خرچ کرنے سے کیا فائدہ ہوتا ہے، اس کا کہنا تھا کہ میں بزنس مین ہوں اپنے کاروبار کو بڑھانے کیلئے سینیٹر بنتا ہوں ، میں سینیٹ انتخاب میں ایک ارب روپے لگاؤں گا تو پانچ سال میں پچاس ارب کا فائدہ ہوگا۔

Comments are closed.