تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے پاکستانیوں کو بڑی سیاسی بریکنگ نیوز دے دی

‘لاہور (ویب ڈیسک) تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈان لیکس کے بعد سے اب تک پاکستانی سیاست کی شکل تبدیل ہوئی ہے لیکن ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ صرف ڈان لیکس ہی مسلم لیگ ن اور ان کی حکومت کے لیے مشکلات کا سبب بنی۔

‘’بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔اس خبر کے منظر عام پر آنے سے پہلے ہی سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کئی اختلافات پائے جاتے تھے۔ تاہم ڈان لیکس سے دونوں کے مابین پائی جانے والی محاذ آرائی کھل کر سامنے آ گئی۔ کیونکہ ایسی میٹنگز تو ہوتی رہتی ہیں لیکن یہاں مسئلہ یہ بنا کہ اس میٹنگ کی خبر لیک ہو گئی جس پر فوج نے یہ کہا کہ یہ خبر حکومت نے لیک کروائی ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’شروع میں اس معاملے میں مریم نواز کا نام بھی سامنے آیا لیکن اس کے بعد چوہدری نثار اور جنرل راحیل شریف کے درمیان یہ طے ہو گیا تھا کہ ان کا نام نہیں لیا جائے گا اور بعد میں ان کا نام اسی وجہ سے نکال دیا گیا۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ ڈان لیکس ایک ’ٹرگر پوائنٹ‘ یا چنگاری تھی۔ کیونکہ اس سے پہلے ہی نواز شریف اور فوج کے درمیان انڈیا کے معاملے پر اختلافات تھے، ملک کے اندرونی معاملات سمیت خارجہ امور پر بھی اختلافات تھے۔‘وہ کہتے ہیں کہ ’اس کے علاوہ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جب ڈان لیکس کی انکوائری رپورٹ بھی ہو گئی اور اس پر عمل بھی ہو گیا تب بھی ان کے معاملات درست نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ موجودہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے ساتھ بھی ڈان لیکس کے معاملے پر نواز شریف کا مسئلہ سامنے آیا۔‘’اس ساری محاذ آرائی کا نتیجہ 2018 کے الیکشن میں دیکھا گیا جو مسلم لیگ ن کا الزام ہے۔ لوگوں کی وفاداریاں بدلی گئیں،

اس میں یقیناً کوئی نا کوئی تو خفیہ ہاتھ ملوث تھا۔‘انھوں نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تصادم ہونے کا خدشہ ہے جبکہ اسے روکنے والا کوئی نہیں ہے۔’یہاں اس بات کو بھی سمجھنا بہت ضروری ہے کہ آج کل جو ہو رہا ہے اس کی ٹائمنگ انتہائی معانی خیز ہے کیونکہ یہ ایسا پوائنٹ ہے کہ میاں نواز شریف حکومت کو زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘’جس طرح وہ کھل کر سامنے آئے اور تنقید کی اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں شاید کوئی امید ہے یا پھر انھوں نے یہ سوچا کہ آگے سینیٹ کے الیکشن ہیں تو اس سے پہلے پہلے عمران خان کی پارٹی کو روکنا ضروری ہے۔‘ڈان لیکس کی خبر سامنے آنے کے بعد افواج پاکستان کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔ جبکہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی انکوائری سامنے آنے بعد اس وقت کے افواج پاکستان کے ترجمان جنرل آصف غفور کی طرف سے ٹویٹ کی گئی، جس میں یہ کہا گیا کہ ہم اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔اس بارے میں مسلم لیگ ن کے رہنما پرویز رشید کا کہنا تھا ’مجھے عہدے سے ہٹا دیا گیا اس کے باوجود بھی فوج کی جانب سے اس قسم کا ردعمل آنا سمجھ سے بالاتر تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈان لیکس صرف کچھ مقاصد کے حصول کے لیے کی جا رہی تھی۔ جس میں سیاسی مقاصد کے ساتھ ساتھ جنرل راحیل کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ بھی شامل تھا۔

‘انھوں نے کہا کہ ’وہ چاہتے تھے کہ انھیں مدت ملازمت میں توسیع دی جائے جس پر میں نے خود اپنی پارٹی کے سامنے یہ پیشکش کی کہ ڈان لیکس کے معاملے پر میں اپنے عہدے سے استعفی دیتا ہوں تاکہ یہ لوگ اپنے مقاصد میں کامیاب نا ہو سکیں۔‘دوسری جانب سابق لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب کا اس بارے میں کہنا ہے کہ یہ درست نہیں ہے۔ کیونکہ جنرل راحیل شریف تو پہلے ہی یہ کہہ چکے تھے کہ میں مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتا ہوں۔ جبکہ یہ لوگ خود انھیں کہتے تھے کہ آپ نے بہت اچھے کام کیے ہیں اس لیے ہم آپ کو ترقی دینا چاہتے ہیں۔مسلم لیگ ن کے رہنما پرویز رشید کے مطابق آج بھی موجودہ حکومت کے وزیر داخلہ یہ بات کہتے ہیں کہ نواز شریف تین چار لوگوں کی باتوں میں نا آجاتے تو چوتھی دفعہ وزیر اعظم ہوتے۔’وہ یہ بتا رہے ہیں کہ اس ملک میں وزیر اعظم کا بننا اور ان کا ہٹائے جانا اس لیے نہیں ہوتا تھا کہ لوگ آپ کو منتخب کرتے ہیں یا نہیں بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ آپ نے کسی کی بات مانی یا نہیں مانی۔‘انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے سیاسی معاملات اس وقت تک درست نہیں ہو سکتے ہیں جب تک اس بات کا عہد نہ کر لیا جائے کہ اس ملک کے انتخابات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی ہو گی۔ان کا کہنا تھا کہ ’جب تک یہ نہ مان لیا جائے کہ تمام سیاسی جماعتیں محب وطن ہیں اور پاکستان کی عوام کی خدمت اور ان کی ترجمانی کرتی ہیں، اس کے بعد پاکستانی عوام جسے چاہیں حق حکمرانی دے دیں۔‘

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *