تحریک انصاف ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں سے کونسی جماعت آزاد کشمیر الیکشن میں میدان مار لے گی؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔آج سے چند دن قبل لیکن مجھے کئی دوستوں کی جانب سے آزادکشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کے ایک خطاب کی وڈیو بھیجی گئی۔انتخابی مہم کے لئے ہوئے ایک جلسے کے دوران وہ انتہائی جذباتی نظر آرہے تھے۔

وہ وڈیو دیکھتے ہی میں نے میزبان خاتون کو فون کیا۔نہایت خلوص سے اعتراف کیا کہ ہنر ابلاغ کی طالب علم کا مشاہدہ قابل تعریف تھا۔ میں نے دانشورانہ رعونت سے مگر اس پر توجہ نہیں دی تھی۔مذکورہ کلپ دیکھنے کے بعد ہی میں نے وہ کالم لکھا تھا جس کے ذریعے فکر مندی سے گلہ کیا کہ میرے کئی نوجوان ساتھی اپنی توانائی کو آزادکشمیر جاکر برسرزمین حقائق کے مشاہدے کے لئے استعمال نہیں کررہے۔ہم سب نے فرض کرلیا ہے کہ 25جولائی کے روز وہاں ہوئے انتخاب میں تحریک انصاف ہی کامیاب ہوگی کیونکہ آزادکشمیر کے ووٹر اسی جماعت کی حمایت میں ووٹ ڈالنے کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وفاق میں بھی حکومت ہو۔ سیاسی عمل میں روایت کی اہمیت کو ہرگز نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔بھرپور انتخابی مہم اگرچہ بسااوقات حیرتوں کے در بھی کھول دیتی ہے۔صحافیانہ تجسس تقاضہ کرتا ہے کہ ’’روایت‘‘ کی وجہ سے نمودار ہوئے ’’حقائق‘‘ کا مسلسل جائزہ لیا جائے۔اقبال نے ویسے بھی کہہ رکھا ہے کہ زندگی میں ثبات فقط تغیر کو نصیب ہوتا ہے۔بہرحال اخبارات کو بغور پڑھنے کی عادت ریٹائر ہوئے رپورٹر کو یہ دہرانے کو مجبور کررہی ہے کہ آزادکشمیر میں جاری انتخابی مہم کا پیشہ وارانہ نگاہ سے تازہ سوالات اٹھاتے ہوئے جائزہ نہیں لیا جارہا۔میرے چند دوست بلکہ برسرزمین جائے بغیر 25جولائی کے روز ہونے والے انتخابات کے ’’نتائج‘‘ کا اعلان بھی کرچکے ہیں۔ان کی دانست میں تحریک انصاف اکثریتی جماعت بن کر اُبھرے گی۔ دوسرے نمبر پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نون) تیسرے نمبر پر رہے گی۔چند ساتھیوں کی جانب سے آزادکشمیر کے 25جولائی کے روز ہونے والے انتخابات کے ’’نتائج‘‘ کی تصدیق یا تردید کے لئے میرے پاس کوئی ٹھوس دلیل موجود نہیں ہے۔تاہم اگر وہ درست ثابت ہوئے تو سیاسی اعتبارسے ان کا سب سے زیادہ نقصان محترمہ مریم نواز صاحبہ کو ہوگا۔حال ہی میں پنجاب میں جو ضمنی انتخابات ہوئے تھے انہوں نے مریم صاحبہ کی Vote Pullingکشش کو بھرپورانداز میں اُجاگر کیا تھا۔یہ اثر ہمیں پرویز خٹک کے آبائی شہر یعنی نوشہرہ میں بھی نظر آیا۔ڈسکہ میں دوبار انتخاب کا انعقاد اور اس کے نتیجے میں کانٹے دار مقابلے کے بعد محترمہ نوشین افتخار کا انتخاب مذکورہ بالا تناظر میں اہم ترین رہا۔ آزادکشمیر میں مریم نوازصاحبہ کے بھرپور جلسوں کے باوجود اگر 26جولائی کی صبح نواز شریف کے نام سے منسوب جماعت تیسرے نمبر پر نظر آئی تو ووٹروں کو متحرک کرنے کے حوالے سے مریم نوازصاحبہ کے امیج کو خاصہ دھچکا لگے گا جس کے اثرات مسلم لیگ (ن) کی اندرونی سیاست پر بھی تیزی سے اثرانداز شروع ہوجائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *