تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کی 2 خواتین بلامقابلہ سینیٹر منتخب ۔۔۔۔

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینٹ انتخابات کے لیے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار پرویز رشید کے کاغذات نامزدگی مسترد جبکہ پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی‘ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ پروفیسر ساجد میر کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے ہیں۔ الیکشن کمشن نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ پرویز رشید

پنجاب ہاؤس کے واجبات جمع کرانے کا ثبوت نہیں دے سکے۔ اسلام آباد سمیت چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں ریٹرننگ افسروں نے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی۔ الیکشن کمشن کی جانب سے اسلام آباد میں سینٹ انتخابات کے لئے مقرر ریٹرننگ آفیسر نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے کاغذات نامزدگی پر تحریک انصاف کے اعتراضات پر سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے گزشتہ روز سنا دیا۔ جبکہ پنجاب سے سینٹ کی خواتین کی دو نشستوں پر پی ٹی آئی کی ڈاکٹر زرقا اور مسلم لیگ (ن) کی سعدیہ عباسی کامیاب ہو گئیں۔ ٹینکو کریٹ نشست پر پی ٹی آئی کے بیرسٹر علی ظفر اور مسلم لیگ (ن) کے اعظم نذیر تارڑ بھی بلامقابلہ منتخب ہو گئے۔ تحریک انصاف کی بلامقابلہ نو منتخب سینیٹر ڈاکٹر زرقا سہروردی تیمور نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرتی ہوں اور وزیراعظم عمران خان اور پارٹی قیادت کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ الیکشن کمشن کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے رہنما مشاہد اللہ خان کے بیٹے افنان اللہ کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے۔ پی ٹی آئی کی فرحت شہزادی اور نیلم ارشاد شیخ نے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے۔ شبلی فراز کے سینٹ کی جنرل نشست کیلئے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے گئے۔ مریم نواز نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ پرویز رشید کے کاغذات مسترد اور مجرموں کے منظور کر لئے گئے۔ دوہرے معیار کو بے نقاب کرنا پڑے گا۔ انصاف کی تضحیک کیخلاف آواز اٹھانا سب کا فرض ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما رؤف صدیقی کے کاغذات دوبارہ مسترد کر دیئے گئے۔

الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ رؤف صدیقی ٹیکنو کریٹ نشست کے اہل نہیں۔ ٹیکنو کریٹ نشست کیلئے پوسٹ گریجویٹ یا ماسٹر ہونا لازمی ہے۔ رؤف صدیقی گریجویٹ ہیں۔ ٹیکنو کریٹ کی ہی نشست پر ایم کیو ایم پاکستان کے خضر عسکری زیدی کے کاغذات مسترد ہوگئے۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز رشید کا کہنا تھا کہ جو کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں جن کی ایوان کے فلور پر کی گئی تنقید عمران خان سے برداشت نہیں ہوتی اور جن آوازوں کو وہ خاموش کرنا چاہتے ہیں انہیں انجینیئرڈ ڈیفالٹ کے ذریعے انتخاب سے باہر رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پیسے جمع کروانا چاہتا ہوں لیکن کوئی وصول نہیں کررہا کیونکہ انہیں عمران خان سے یہ ہدایات ملی ہوئی ہیں کہ کوئی پیسے وصول نہ کریں تا کہ تکنیکی بنیادوں پر الیکشن کمشن کے ذریعے مجھے انتخاب میں حصہ لینے سے روکا جاسکے۔ میں اپیل کروں گا۔ الیکشن کمشن میں سینٹ کے انتخابات کیلئے مجموعی طور پر ایک سو اکتالیس امیدواروں میں مقابلہ ہوگا۔ وفاق سے جنرل نشستوں پر چھ امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جن میں پانچ قبول ہوئے ایک مسترد ہوا۔ کسی نے واپس نہیں لئے اور نہ ہی کوئی غیر موثر ہوا ہے۔ خواتین چار امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے اور چاروں منظور ہوئے۔ علماء اور ٹیکنوکریٹ اور غیر مسلم کی سیٹ پر کسی نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے ہیں۔ پنجاب سے اکیس نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں سترہ منظور دو مسترد ایک نے واپس اور ایک غیر موثر ہوا۔ خواتین پانچ نے جمع کرائے تین کے منظور ایک مسترد اور ایک غیر موثر ہوا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *