تحریک انصاف ایک بار پھر ناکام

پشاور(ویب ڈیسک )پاکستان تحریک انصاف نے 2018 کے سینیٹ انتخابات میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے اپنے 20 ارکان پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام عائد کیا لیکن تین سال گزرنے کے باوجود کسی بھی ایم پی اے کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں کرسکی ،پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ

بدعنوانی میں ملوث ایم پی ایز کے خلاف مقدمات قومی احتساب بیورو کو بھجوائے جائیں گے لیکن کسی ایم پی اے کے خلاف کوئی کیس نیب کو نہیں بھجوایا گیا ،بعض سابق ایم پی اے نےوزیر اعظم عمران خا ن کے خلاف مختلف عدالتوں میں ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا لیکن تحریک انصاف نے کسی کیس میں شواہد یا جواب جمع نہیں کرایا ،ہتک عزت آرڈیننس 2002 کے تحت دائر دو درخواستیںاب بھی زیر سماعت ہیں،وزیراعظم کے وکلاء مختلف درخواستوں کے ذریعے کیس میں تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں، وزیراعلی کےسابق معاون خصوصی برائے قانون عارف یوسف کوجرگہ کے ذریعے راضی کیا گیا ،عدالت نے دونوں فریقوں کے مابین مفاہمت کے بعد کیس خارج کردیا،سابق اراکین اسمبلی قربان علی خان، زاہد درانی، عبید اللہ مایار اور یاسین خلیل کو بھی جرگہ کے ذریعے منایا گیا۔پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان اور صوبائی وزیر محنت شوکت یوسفزئی نے جنگ کو بتایا کہ پچھلے سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کی بنیاد پر 20اراکین کو پارٹی سے نکالا گیا تھا تاہم اس قسم کے معاملات میں کرپشن میں ملوث اراکین کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد ملنا ممکن نہیں تاہم صوبائی حکومت نے مختلف ذرائع اور اداروں کی رپورٹوں کی روشنی میں کاروائی کی تھی ۔انھوں نے کہاکہ تحریک انصاف کے دو امیدوار وں کو شکست ہوئی اور پیپلز پارٹی کے سات ایم پی ایز نے کس طرح دو اراکین سینٹ کو منتخب کرایا۔شوکت یوسفزئی نے عارف یوسف کے دعوی کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے بابر اعوان سے درخواست کی تھی

کہ وہ اپنی درخواست واپس لیناچاہتے ہیں لیکن بابراعوان ان کے گھر چائے پر تشریف لائیں اسی بنا پر بابر اعوان انکے گھر گئے تھے۔انھوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کسی سے معافی نہیں مانگی اگر کسی نے سابق ممبران سے رابطہ کیا ہے تو وہ انفرادی طورپرکیا گیا ہوگا2018کے سینٹ انتخابات میں پی ٹی آئی کے بعض ممبران اسمبلی نے صوبے سے پیپلز پارٹی کے دو امیدواروں کو کامیاب کروایا تھا جیکہ پیپلز پارٹی کے پاس صرف سات ایم پی اے تھے،ٹیکنوکریٹ کی نشست کے امیدوارمرحوم مولانا سمیع الحق نے صرف4ووٹ حاصل کئےتھے،سابق وزیر اعلی پرویز خٹک نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی جس کی رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا ا کہ کم از کم 20 ─ ایم پی ایز نے پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ نہیں دیاجس کے باعث تحریک انصاف کے دو امیدوار خیال زمان اور مولانا سمیع الحق الیکشن ہار گئے تھے جبکہ پیپلز پارٹی کے دو امیدواربہرہ مند تنگی اور روبینہ خالد کامیا ب ہوئی تھیں ،پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے 18 اپریل 2018 کو ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا تھا کہ ہارس ٹریڈنگ میں حصہ لینے والے 20ایم پی ایز کے خلاف کاروائی کی جائے گی ، عمران خان کا کہنا تھا کہ پارٹی ملزمان کے نام قومی احتساب بیورو کو بھیجنے سے پہلےانھیں وضاحت دینے کا ایک موقع فراہم کرے گی،تحریک انصاف نے ایم پی ایز کو پارٹی سے نکال دیاتھاتاہم کوئی قانونی کاروائی نہیں کی گئی ،پی ٹی آئی کےسربراہ نےاعلان کیا تھا

کہ ممبران نے چار چارکروڑ روپے وصول کیے ہیں ۔ پارٹی انہیں شوکاز نوٹس جاری کرے گی اور پارٹی سے نکال دیا جائے گا، عمران خان نے کہاتھا کہ ایم پی ایز نے اپنا ووٹ فر وخت کیا بلکہ یہ پچھلے 30 یا 40 سالوں سے ہورہا ہے،پی ٹی آئی نے دینا ناز ، نرگس علی ، نگینہ خان ، سردار ادریس ، عبید مایار ، زاہد درانی ، فوزیہ بی بی ، نسیم حیات ، قربان خان ، عارف یوسف ، امجد آفریدی ، عبدالحق ، جاوید نسیم ، یاسین خلیل ، فیصل زمان ، سمیع علی زئی پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگایا تھا جبکہ اتحادی جماعت قومی وطن پارٹی سے منسلک معراج ہمایون اور عوامی جمہوری اتحاد کی خاتون بی بی اور بابر سلیم پر بھی مبینہ طورپر ووٹ فروخت کرنے کاالزام عائد کیا تھا،سابق ایم پی اے عارف یوسف نے جنگ کو بتایا کہ مجھ پر جھوٹا الزام عائد کیا گیا جس پر میں نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پشاور عبدالمجید کی عدالت میں وزیراعظم کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا،عدالت نے دونوں فریقوں کے مابین ایک جرگے کے ذریعے عدالت کے باہر مفاہمت کے بعد معاملہ نمٹا دیا ہے، عارف یوسف نے جنگ کو بتایا کہ وفاقی وزیر بابر اعوان کی سربراہی میں ایک وفد ان کے گھر آیا اور اس نے وزیراعظم کی جانب سے غیر مشروط معافی مانگی،انہوں نے جرگہ قبول کرلیا اور کیس نمٹا دیا گیا، بعد میں انہیں پی ٹی آئی نے پارٹی عہدہ بھی دیا ،سابق ایم پی اے یاسین خلیل سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے ان کا کیس خارج کردیا تھا تاکہ

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت سے رجوع کیا جائے لیکن موجودہ وزیر دفاع پرویزخٹک کی سربراہی میں ایک جرگہ ملنے آیا جس کے باعث مجھ سمیت کئی ایم پی ایز نے کیس دائر نہیں کیا ،دوسرا دلچسپ مقدمہ سابق خاتون ایم پی اے فوزیہ بی بی اور معراج ہمایون کا ہے جوپشاوراور صوابی کی عدالتوں میں زیر سماعت ہے لیکن تحریک انصاف کے وکلاء مختلف درخواستیں دائر کرکے کیس کو تاخیر کا شکار کررہے ہیں ، فوزیہ بی بی نے جون 2018 میں دائر کیا تھا،کیس میں عمران خان کی دو درخواستیں خارج ہو چکی ہیں جبکہ کیس تاحال زیر التوا ہے، فوزیہ بی بی کا تعلق چترال سے ہے اور وہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر کامیا ب ہوئی تھیں ،انھوںنے پی ٹی آئی کے سربراہ کو ہتک عزت کا نوٹس بھجوایا تھانوٹس پر کوئی جواب نہ ملنے پر انھوں نے ہتک عزت آرڈیننس 2002 کی شق اٹھ کے تحت مقدمہ دائر کیا، خاتون ایم پی اے نے دعوی کیا کہ مذکورہ ہتک آمیز بیانات نے ان کی شخصیت کو تباہ کرنے کے علاوہ مدعی کی سیاسی ، معاشرتی اور خاندانی زندگی کو بھی نقصان پہنچایا ہے،کیس خارج کرنے کیلئے عمران خان کی جانب سے درخواست دائر کی گئی جس میں کہا گیا کہ اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کیا گیا جو موجودہ عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہے،تاہم عدالت نے 30 جنوری ، 2019 کودرخواست خارج کردی ،عمران خان کے وکلاء نے موقف اختیار کیا تھا کہ فوزیہ بی بی کے خلاف عمران خان نے پارٹی کی انضباطی کمیٹی کی رپورٹ نیک نیتی سے پیش کی تھی ۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *