تحریک انصاف میں شامل ہوئے تو چوہدری نثار کے ساتھ کیا ہوگا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔سیاست کے مرکزی دھارے سے جب کوئی ایک بار باہر ہو جائے تو اس کی واپسی نہیں ہوتی۔ وہ سیاست میں واپس ضرور آ جاتا ہے مگر اس کی حیثیت ایک ثانوی درجے کے سیاستدان جتنی ہوتی ہے۔

پاکستانی سیاست میں ایسے ان گنت کردار مل جاتے ہیں، جنہوں نے ایک زمانے میں یہ سمجھا وہ اب بادشاہ گر بن گئے ہیں لیکن اس خوش فہمی نے انہیں کہیں کا نہیں رہنے دیا جن لوگوں نے پیپلزپارٹی چھوڑی، اپنی جماعتیں بنائیں وہ مرکزی دھارے سے نکل گئے۔ جو لوگ مسلم لیگ (ن) سے نکلے اور یہ دعوے کئے کہ ان کی وجہ سے پارٹی مضبوط تھی، وہ پتوں کی طرح بکھر گئے خود تحریک انصاف سے نکلنے والے بھی عمران خان کے بغیر صفر ہو گئے۔ اس ضمن میں سب سے اہم مثال جاوید ہاشمی کی ہے، جنہوں نے تحریک انصاف کے جہاز سے اس وقت یہ کہہ کر چھلانگ لگائی کہ وہ جمہوریت کے خلاف سازشیں کر رہی ہے، جب پارٹی اپنے عروج کی طرف بڑھ رہی تھی، ان کا خیال یہ تھا اس عمل سے تحریک انصاف کو شدید نقصان پہنچے گا، مگر اس کی بجائے اسے فائدہ ہوا، اقتدار ملا اور جاوید ہاشمی سیاسی طور پر تنہائی کا شکار ہو گئے، اس حوالے سے حالیہ زمانے میں ایک اور بڑا کردار چودھری نثار علی خان کا ہے۔ وہ آج کل بہتیری کوشش کر رہے ہیں کسی طرح سیاست کے مرکزی دھارے میں واپس آ جائیں مگر کوئی راستہ نہیں مل رہا۔ حال ہی میں انہوں نے ایک انٹرویو میں عمران خان کی کھل کر تعریف کی، آصف علی زرداری کے بارے میں بھی اچھے خیالات کا اظہار کیا۔ تاہم جو نقصان انہیں مشکل وقت میں نوازشریف سے بے وفائی کر کے پہنچا ہے، اس کی تلافی فی الوقت ممکن نظر نہیں آتی، نقصان تو انہیں اس وقت بھی پہنچا تھا

جب عام انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کے دو حلقوں میں شکست کھا گئے اور صوبائی اسمبلی کی ایک نشست بمشکل جیت سکے۔ حالانکہ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں صوبائی اسمبلی کا الیکشن کبھی نہیں لڑا تھا۔مخدوم جاوید ہاشمی نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے چودھری نثار علی خان نے مسلم لیگ (ن) میں ان کی جڑیں کاٹنے کے لئے بہت سازشیں کیں۔ نوازشریف کے کان بھرے اور اس زمانے میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ لیا جب یہ جاوید ہاشمی کا حق بنتا تھا کیونکہ انہوں نے نوازشریف کے جدہ جانے پر پارٹی کو زندہ رکھا، قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ اس زمانے میں جاوید ہاشمی مسلم لیگ (ن) کے ایک مقبول لیڈر بن کر ابھرے اور اس بات کو چودھری نثار علی خان نے نوازشریف کے سامنے ایک منفی عمل بنا کر پیش کیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے چودھری نثار علی خان ایک طرف نوازشریف کے اتنے بڑے خیر خواہ بنتے تھے، ان سے ہر عہدہ اور ہر منصب حاصل کر لیتے تھے اور کہاں وہ دن بھی آئے کہ نوازشریف کے سب سے بڑے ناقد بن گئے۔ نوازشریف کا نظریہ صحیح تھا یا غلط اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا۔ مسلم لیگ (ن) میں سوائے چودھری نثار علی خان کے کسی بڑے لیڈر نے نوازشریف کی مخالفت کی؟ کسی نے انہیں اس وجہ سے چھوڑا کہ انہوں نے اس کے کہے پر عمل نہیں کیا سیاست میں وفاداری شرطِ ایمان کی حیثیت رکھتی ہے۔ نوازشریف جب بھی اقتدار میں آئے انہوں نے چودھری نثار علی خان کو ہمیشہ سب سے اہم وزارت دی

اور اپنے سب سے قریب رکھا۔ کابینہ میں چودھری نثار علی خان ایک سینئر وزیر کی حیثیت سے کام کرتے تھے جن کی بات سب تسلیم کر لیتے تھے۔ یہ نوازشریف کا ان پر بھروسہ تھا، جس نے انہیں یہ مقام بخشا ہوا تھا۔ وزیر داخلہ کی حیثیت سے وہ ملک پر بادشاہی کر رہے تھے، سیاسی مخالفین پر ایسے گرجتے برستے جیسے اصل حاکم وہی ہوں۔ ظاہر ہے کوئی وزیر اپنے وزیر اعظم کی آشیر باد کے بغیر اتنا طاقتور کیسے ہو سکتا ہے۔ ایک طرف آپ اتنے اہم ہو جائیں کہ خود کو وزیر اعظم سمجھنے لگیں اور دوسری طرف جس کی وجہ سے آپ اتنے اہم بنے ہوں، اسے مشکل وقت میں حوصلہ دینے کی بجائے یہ باتیں سنائیں کہ میں نے تو پہلے ہی کہا تھا یہ بیانیہ اختیار نہ کریں وگرنہ مشکل میں پھنس جائیں گے تو اس سے زیادہ بے وفائی بلکہ بزدلی اور کیا ہو سکتی ہے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے چودھری نثار علی خان مستقبل کے سیاسی منظر میں اپنے کسی کردار کے متلاشی ہیں ان کے انٹرویو سے یہی لگتا ہے انہوں نے تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی دونوں کو یہ اشارہ کر دیا ہے وہ ساتھ چلنے کے لئے تیار ہیں۔ وہ جانتے ہیں ان کے لئے مسلم لیگ (ن) کے دروازے مستقلاً بند ہو چکے ہیں نوازشریف تو ان کا نام بھی نہیں سننا چاہتے، ایک شہباز شریف ہیں جن کے دل میں ان کے لئے نرم گوشہ ہے مگر وہ کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ وہ جان چکے ہیں نواز شریف نے چودھری نثار علی خان کا باب بند کر دیا ہے۔

ایسے میں چودھری نثار علی خان کی سیاسی حیثیت کیا رہ گئی ہے؟ وہ ایک صوبائی نشست کے مالک ہیں اگلے انتخابات میں انہیں یہ نشست بھی شاید نہ ملے۔ پھر یہ بھی ہے وہ جس سیاسی جماعت میں بھی شامل ہوں گے اس طرح کی اہمیت مانگیں گے جو انہیں مسلم لیگ (ن) میں حاصل تھی جبکہ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی میں کوئی ایسی جگہ نہیں جو انہیں دی جا سکے۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف میں تو ان کی شمولیت کے خلاف باقاعدہ ایک محاذ موجود ہے جس میں وفاقی وزراء اور سینئر پارٹی عہدیدار شامل ہیں۔ جو اپنے اس حوالے سے تحفظات بھی عمران خان کو پہنچا چکے ہیں، سب سے بڑی دلیل یہی دی جاتی ہے جو شخص اتنی زیادہ عزت و اہمیت دینے کے باوجود نوازشریف سے بے وفائی کا مرتکب ہوا وہ آپ کے ساتھ کیسے چل سکتا ہے جبکہ پیپلزپارٹی تو ویسے بھی ایسے لوگوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی جن کی ساری زندگی ایک خاص نظریئے کے ساتھ گزری ہو اور انہوں نے اس کی وجہ سے پیپلزپارٹی کو تنقید اور انتقام کا نشانہ بھی بنایا ہو۔سیاسی وفاداری تبدیل کر کے اقتدار کی کسی چلتی ٹرین میں سوار ہونے والوں کی بس اتنی اہمیت ہوتی ہے وہ ایک بار پھر اسمبلی میں پہنچ جاتے ہیں، گر ان کا سیاسی کردار وہ نہیں رہتا جو کسی زمانے میں ان کی پہچان ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ وہ کسی جماعت میں شامل ہوں تو اس کے نمبر ون بن جائیں۔ چودھری نثار علی خان کو دکھ یہ تھا کہ جب نوازشریف نا اہل ہوئے تو وزیر اعظم کا قرعہ فال ان کے نام کی بجائے شاہد خاقان عباسی کے نام کیوں نکلا۔ نوازشریف کی مردم شناس نگاہیں پہچان چکی تھیں یہ شخص اعتبار کے قابل نہیں۔ بعد میں ان کے اندازے درست ثابت ہوئے۔ سیاست میں تو پہچان ہی دورِ ابتلا میں ہوتی ہے۔ فرتاش سید مرحوم کا ایک شعر ہے{دورِ باطل میں حق پرستوں کی۔۔۔بات رہتی ہے سر نہیں رہتے۔۔چودھری نثار علی خان ایسے حق پرست ثابت نہیں ہوئے۔ انہوں نے مشکل وقت میں چلتی ٹرین سے چھلانگ لگا کر جو نقصان پہنچایا، شاید اس کی عمر بھر تلافی نہ ہو سکے۔

Comments are closed.