تحریک انصاف کی تبدیلی اور نیا پاکستان عوام کے لیے مصیبت بن گیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔تحریک انصاف چونکہ دائیں اور بائیں بازو کے کھیل کو عوام کی نظروں میں گھسا پٹا کھیل بنتے دیکھ چکی تھی، اس لئے اس نے اس بحث میں پڑے بغیر نئے پاکستان کا نعرہ دیا۔ یہ نعرہ کلک کر گیا،

عوام اس کی طرف متوجہ ہو گئے۔ پرانے پاکستان کی ان کے سامنے اتنی خرابیاں تھیں کہ اب انہیں نئے پاکستان میں بڑی کشش نظر آ رہی تھی۔ اس نئے پاکستان کے کپتان نے اپنی تقریروں میں جو خدوخال بیان کئے تھے، انہوں نے عوام کو سنہرے خوابوں سے بھی زیادہ متاثر کیا۔ انہوں نے دائیں بازو کی علامت مسلم لیگ (ن) کو بھی مسترد کیا اور بائیں بازو کی دعویدار پیپلزپارٹی پر بھی خطِ تنسیخ پھیر دیا۔ لیکن تقسیم تو حقیقت میں موجود تھی ہی نہیں، اس ملک میں تو تقسیم طبقہء اشرافیہ اور عوام کے درمیان ہے۔ طبقہء اشرافیہ کبھی عوام کو ان کے حقوق نہیں دیتا اور نہ دے گا۔ وہ مختلف بھیس بنا کے سامنے آتا رہے گا اور عوام کے سینے پر مونگ دلے گا۔ کہنے کو عمران خان اپنے خوشنما نعرے نیا پاکستان کی وجہ سے اقتدار میں آ گئے، مگر وہ اشرافیہ کے چنگل سے آزاد ہو سکے اور نہ عوام کو آزاد کرا سکے، انہیں لولی لنگڑی حکومت دی گئی، جس میں پرانے پاکستان کے وہ تمام استحصالی چہرے موجود تھے، جو اس ملک کے عوام کو روپ بدل بدل کر بے وقوف بناتے رہے ہیں۔ انہوں نے جلد ہی عمران خان کے نئے پاکستان کی ہیئت بدل کر پرانے سے بھی زیادہ استحصالی پاکستان بنا دیا۔ ایک بار پھر وہ نظریہ جیت گیا جو عوام دشمنی پر مبنی ہے اور وہ ہار گیا جو عوام دوستی کا مظہر ہے۔ کپتان کو اپنی لولی لنگڑی حکومت بچانے کے لئے اتحادیوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر

ایسے عوام دشمن فیصلے کرنے پڑے کہ خلقِ خدا کی چیخیں نکل گئیں اور وہ دہائیاں دینے لگے، اے کاش انہیں پرانا پاکستان ہی لوٹا دیا جائے۔حقیقت یہ ہے اس ملک میں شروع دن سے لڑائی دو طبقوں کے درمیان رہی ہے۔ ایک وہ طبقہ جو اقلیت میں ہونے کے باوجود اس ملک پر قابض ہے اور دوسرا وہ طبقہ جسے عوام کہا جاتا ہے۔ عوام چونکہ اصل طاقت ہیں اور جس دن وہ متحد ہو گئے، استحصالی اقلیتی طبقے کو بہا لے جائیں گے، اس لئے انہیں منتشر رکھنے کے لئے سیاسی جماعتوں کے ذریعے مختلف نظریات کے ڈبے بنائے جاتے ہیں۔ ان کی چکاچوند سے عوام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب اس میں کیا راز رہ گیا ہے کہ ہمارا سیاسی نظام استحصالی طبقے کے ہاتھوں مقبوضہ بنا ہوا ہے۔ اقتدار میں چاہے مسلم لیگ (ن) ہو، پیپلزپارٹی یا پھر ان دونوں کو ہرا کر تحریک انصاف حکومت بنا لے عوام کے ہاتھوں میں کچھ نہیں آنا۔ ان کے لئے محرومیوں کے سوا اس سارے نظام میں کچھ بھی نہیں، بلکہ حالات پہلے سے بدتر ہو جاتے ہیں اور تبدیلی کے ہر غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے۔ آج کل پھر سیاسی جماعتیں عوام کے دکھ درد بانٹنے کے درد میں مبتلا ہو چکی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) بھی کہہ رہی ہے ایک موقع اور دیں، پھر دیکھیں ہماری عوام دوستی اور پیپلزپارٹی بھی عوام کو سبز باغ دکھانے کی پوری کوشش کر رہی ہے، عوام دریا کے کنارے کھڑے یہ سب تماشا دیکھ رہے ہیں۔

Comments are closed.