تحریک انصاف کے حامیوں اور پاکستانیوں کی اکثریت کس کے ساتھ ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے کہ پی ٹی آئی میں کپتان کے جاں نثاروں کی کمی نہیں۔ اس کا اظہار پچھلے دو دن سے سوشل میڈیا پر ہو رہا ہے۔ ٹویٹر پر ”میں عمران خان کے ساتھ ہوں

“ ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے۔ کیا ارکان اسمبلی، کیا وزیر و مشیر سب اپنے کپتان سے اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔ ریلا اتنا شدید ہے کہ وہ ارکانِ اسمبلی جو جہانگیر ترین ہم خیال گروپ میں شامل ہیں، وہ بھی یہ کہتے پائے جا رہے ہیں کہ ہم تحریک انصاف اور عمران خان کے ساتھ ہیں، بس جہانگیر ترین کے ساتھ اس لئے کھڑے ہیں کہ ان سے ناانصافی نہ ہو۔ اُدھر کپتان نے بھی کسی قسم کی کوئی لچک یا کمزوری نہ دکھانے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ پشاور میں تقریب سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنا وہی بیانیہ دہرایا کہ کسی کو این آر او نہیں دیں گے۔ چاہے سارے گروہ ان کے خلاف اکٹھے ہو جائیں۔ ظاہر ہے ان کا اشارہ اپنی جماعت کے لوگوں کی طرف بھی ہوگا کیونکہ زیادہ دباؤ تو اب ان کی جماعت کے اندر سے آ رہا ہے۔ عوامی رائے عامہ بھی اس حوالے سے ان کے ساتھ ہے کہ وہ بے لاگ احتساب جاری رکھیں۔ جہانگیر ترین نے عمران خان کو ایک ایسی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے کہ جہاں انہیں سوچنا ہے کہ اپنا اقتدار بچانا ہے یا اپنی شہرت کو داغدار کرنا ہے۔کپتان کو چھوڑ کر اپنی سیاست داؤ پر لگانے والوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ جہانگیر ترین کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہو جائے گا۔ جہانگیر ترین نے اب یہ موقف اختیار کیا ہے کہ پنجاب حکومت ان کے خلاف سازش کر رہی ہے۔ پنجاب حکومت یا عثمان بزدار، اس کی وضاحت وہ نہیں کر رہے۔ گویا ایک طرح سے انہوں نے عمران خان کو کلین چٹ دیدی ہے۔

پھر یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ چینی کمیشن کی رپورٹ ایف آئی اے نے مرتب کی ہے۔ اس میں پنجاب حکومت کا کردار کہاں سے آ گیا۔ لگتا یہی ہے جہانگیر ترین بالواسطہ طور پر کپتان پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں، چونکہ وہ براہ راست عمران خان پر تنقید نہیں کر سکتے پھر وہ بھی مقدمات کی زد میں، جن سے کپتان انہیں چھٹکارہ دلانے کے لئے کوئی رعایت بھی دینے کو تیار نہیں۔ اس لئے راستہ یہ اختیار کیا گیا ہے کہ پنجاب حکومت کو ٹارگٹ کیا جائے، اسی میں علیحدہ نشستوں کے لئے درخواست دینے اور علیحدہ گروپ بنانے کی حکمت عملی بھی اس بات کا اشارہ ہے کہ وزیر اعظم پر ان کے احتساب بیانیئے کو گزند پہنچائے بغیر پنجاب اسمبلی کے اندر سے ایسا دباؤ ڈالا جائے جو عمران خان کو جہانگیر ترین کے لئے نرم گوشہ پیدا کرنے پر مجبور کر دے، لیکن وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے عمران خان اتنا بھی بھولا نہیں جتنا لوگ انہیں سمجھتے ہیں۔ انہیں سب معلوم ہے کون کیا کھیل کھیل رہا ہے، کل فیصل واوڈا بھی ایک ٹی وی پروگرام میں کہہ رہے تھے پانچ ہزار جہانگیر ترین بھی آ جائیں، وہ ایک عمران خان نہیں بن سکتے۔ عمران خان ایک ہی ہے اور جو اسے نہیں مانے گا، وہ تحریک انصاف سے بے آبرو ہو کر نکل جائے گا۔قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ جہانگیر ترین نے کبھی عمران خان کے بارے میں منفی خیالات کا اظہار نہیں کیا، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے ہم خیال گروپ میں بعض ایسے ارکانِ اسمبلی بھی موجود ہیں جنہوں نے یہ تک کہہ دیا کہ تحریک انصاف عمران خان کا نام نہیں،

تحریک انصاف ہماری بھی اتنی ہی جماعت ہے جتنی عمران خان کی ہے۔ ہم خیال گروپ میں چونکہ زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جو آزاد حیثیت سے جیت کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے، اس لئے وہ جہانگیر ترین کو جانتے ہیں، جو انہیں تحریک انصاف میں لائے۔ انہیں عمران خان کی اہمیت کا احساس ہی نہیں۔ وہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ تحریک انصاف ان کی بھی اتنی ہی جماعت ہے جتنی کہ عمران خان کی ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف تو لازم و ملزوم ہیں، دونوں کا علیحدہ ہونا بالکل ہی نا ممکن ہے اس لئے جہانگیر ترین اگر اپنے ہم خیال گروپ میں شامل ایسے ”باغیوں“ کی گرفت نہیں کریں گے تو سمجھا جائے گا انہیں ان کی حمایت حاصل ہے۔ شاید انہی باتوں کی وجہ سے تحریک انصاف کے اندر سے عمران خان کی حمایت کے لئے ہر سو آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ جہانگیر ترین سمیت ہم خیال گروپ کا تقریباً ہر رکن یہ ضرور کہتا ہے کہ وہ تحریک انصاف کا حصہ ہے۔ کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ اس نے تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ تحریک انصاف میں رہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے عمران خان کی لیڈر شپ قبول کر لی ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر جھگڑا کس بات کا ہے پھر تو وہ سب کچھ مانا جائے جو عمران خان کا بیانیہ ہے پھر جہانگیر ترین کے لئے بھی بالا بالا کوئی ریلیف نہ مانگا جائے۔ کیونکہ قانون سے ماورا ریلیف کپتان کے لئے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

جہانگیر ترین کو اب تک کے حالات سے یہ تو معلوم ہو ہی چکا ہوگا کہ رائے عامہ ان کے حق میں نہیں۔ رائے عامہ کپتان کے اس بیانیئے کے ساتھ ہے کہ کسی طاقتور کو وہ نہیں چھوڑیں گے۔ اس سے پہلے بھی انہی کالموں میں کئی بار لکھ چکا ہوں کہ جہانگیر ترین اپنی سرگرمیوں سے عمران خان کو نقصان نہیں فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ ان کے ایسے داغ دھو رہے ہیں جو اپوزیشن ان پر لگاتی ہے کہ وہ سیاسی انتقام میں جھوٹے مقدمات بنا کر اپوزیشن رہنماؤں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ جہانگیر ترین کے لئے بہتر یہ ہوتا کہ وہ کپتان کے بیانیئے کو سپورٹ اور کھلے دل سے انکوائری اور مقدمات کا سامنا کرتے۔ یہ مطالبہ ضرور کرتے کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے لیکن پریشر گروپ بنا کر کپتان پر دباؤ نہ ڈالتے۔ یہ تو ان کی ایک احمقانہ چال تھی۔ سیاسی محروم ان کے اردگرد اکٹھے ہو گئے۔ ان میں سے کوئی بھی حقیقی معنوں میں ان کے ساتھ مخلص نہیں، سب اپنے اپنے داؤ پر ہیں۔ پنجاب حکومت کی طرف سے انہیں فنڈز اور اختیارات مل گئے تو وہ ہم خیال گروپ چھوڑنے میں دیر نہیں لگائیں گے فیصل واوڈا نے تو یہ تک کہہ دیا ہے انہیں راہ راست پر لانے کے لئے ایک ایس ایچ او ہی کافی ہے۔ ایسے لوگوں کو ساتھ ملا کر جہانگیر ترین کپتان کو ”سیدھا“ کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کی سب سے بڑی حماقت ہے کیونکہ وہ کسی اصولی مؤقف پر نہیں لڑ رہے، صرف مقدمات میں ریلیف مانگ رہے ہیں۔ اب یہ بھی سیاسی تاریخ میں اپنی طرز کا پہلا واقعہ ہے کہ کسی با اثر شخص کو بچانے کے لئے ہم خیال گروپ تشکیل دیا گیا ہے۔ اتنی کمزور اخلاقی ساکھ والے اس اخلاقی ساکھ کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں جو کپتان نے کسی طاقتور کو رعایت نہ دینے کے حوالے سے اپنا رکھی ہے اور جسے عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں

Comments are closed.