تحریک انصاف کے ساتھ اگلے الیکشن میں کیا انہونی ہونے والی ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی مانے یا نہ مانے انتخابی ریٹنگ میں مسلم لیگ (ن) اس وقت سب سے آگے ہے۔ خوشاب کے صوبائی حلقے 84میں اس کی فتح پہلے سے بھی زیادہ ووٹوں سے ہوئی ہے، لیکن جو بات زیادہ اہم ہے۔ وہ مسلم لیگ (ن)

کا چاروں صوبوں میں ووٹ بینک ہے، حال ہی میں جب کراچی کے حلقے 249میں ضمنی انتخاب ہوا تو وہاں بھی مسلم لیگ (ن) کو اتنے ووٹ پڑے کہ وہ دوسرے نمبر پر آ گئی، اس سے پہلے نوشہرہ کے انتخاب میں اس نے پی ٹی آئی کی خالی کردہ نشست جیتی۔ پنجاب میں تو خیر اسے ہرانا آسان نظر نہیں آتا۔ پیپلزپارٹی آج کل یہ دعویٰ کرتی ہے کہ آئندہ انتخابات میں اس کا مقابلہ مسلم لیگ (ن) سے ہوگا۔ ہاں شاید سندھ میں تو یہ مقابلہ ہو سکے، باقی صوبوں میں پیپلزپارٹی کا حال بہت پتلا ہو چکا ہے۔ مثلاً خوشاب کے الیکشن میں اس کے امیدوار کو صرف 235ووٹ ملے، جو ان جماعتوں سے بھی کم ہیں، جو علاقائی یا مذہبی جماعتیں کہلاتی ہیں۔ پنجاب میں پیپلزپارٹی کے وجود کا صفایا ہو چکا ہے۔ جب بلاول بھٹو زرداری پنجاب کو فتح کرنے کی بات کرتے ہیں تو واقعی لگتا ہے کہ وہ ابھی بالغ نظر سیاستدان نہیں بنے۔ پنجاب میں پیپلزپارٹی کی مقبولیت کیسے صفر سے سو ہو جائے گی، کوئی نہیں بتاتا، یہاں ایسے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے کہ عوام پیپلزپارٹی کی طرف مستقبل میں دیکھیں گے۔ پھر جس طرح پی ڈی ایم میں رہ کر پیپلزپارٹی نے حکومت مخالف تحریک کو نقصان پہنچایا، اس نے یہ مزید واضح کر دیا ہے کہ پیپلزپارٹی صرف سندھ کی جماعت ہے جو اپنی سندھ حکومت کو بچانے کے لئے کسی حد تک بھی جا سکتی ہے۔مسلم لیگ (ن) کی انتخابی ریٹنگ اس لئے بھی زیادہ نظر آتی ہے کہ اس نے حکمران جماعت کو بھی بار بار شکست دی ہے۔

وگرنہ عموماً ہوتا یہ ہے کہ حکومت کبھی اپنی خالی کی ہوئی نشستوں پر نہیں ہارتی، بلکہ ضمنی انتخاب میں تو دوسری جماعتوں کی خالی کردہ نشستیں بھی جیت جاتی ہے۔ اصولاً تو اس وقت انتخابی ریٹنگ میں تحریک انصاف کو سب سے آگے ہونا چاہیے تھا۔ وہ حکومت میں ہے اور سارے وسائل بھی اس کے پاس ہیں، مگر وہ کراچی میں پانچویں نمبر پر رہی اور خوشاب میں صوبائی نشست دس ہزار سے زائد ووٹوں کے مارجن سے ہاری۔ حالانکہ 2018ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) سات ہزار ووٹوں سے جیتی تھی اور ووٹ بھی کم کاسٹ ہوئے تھے۔ حکومتی وزراء اور مشیران اس شکست کے حوالے سے بھی تاویلیں تلاش کر چکے۔ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر رہے کہ ایک طرف حکومت کی گورننس اور معاشی حوالے سے ناکامی اس شکست کا سبب بنی ہے اور دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کی جیت ہو رہی ہے، یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ پنجاب کے عوام خصوصاً اس چوری اور بدعنوانی کے بیانیے کو مسترد کر رہے ہیں جو حکومت نے تین سال سے نوازشریف اور شہبازشریف کے خلاف جاری رکھا ہوا ہے۔ خوشاب میں بھی انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ (ن) کے کسی بڑے رہنما نے وہاں کا دورہ نہیں کیا، اس کے باوجود عوام کا متحرک ہونا اور کورونا نیز رمضان المبارک کے باوجود بڑی تعداد میں ووٹ کاسٹ کرنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ پنجاب کا سیاسی پارہ خاصا گرم ہے اور لوگ اپنا ابال نکال رہے ہیں۔مسلم لیگ (ن) اگر صرف پنجاب تک بھی محدود رہے تو ملک کی

بڑی اکثریتی جماعت بن سکتی ہے، کیونکہ پنجاب کی نشستیں زیادہ ہیں، لیکن اس نے کبھی خود کو پنجاب تک محدود نہیں کیا۔ خاص طور پر خیبر پختونخوا اور سندھ میں اس نے اپنے وجود کو برقرار رکھا ہے۔ بلوچستان سے بھی مسلم لیگ (ن) کو ہر انتخاب کے بعد نشستیں ضرور ملتی ہیں، یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت چاروں صوبوں میں اگر کوئی جماعت اپنا زندہ وجود رکھتی ہے تو وہ مسلم لیگ (ن) ہے۔ کبھی یہ پوزیشن پیپلزپارٹی کی تھی۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں تو یہ نعرہ بھی لگتا تھا چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر بے نظیر، پیپلزپارٹی پنجاب میں دوسری بڑی جماعت ہوتی تھی اور صوبائی اسمبلی میں بھی اس کی نشستیں قابل ذکر ہوتی تھیں۔ اب یہ سب باتیں خواب و خیال نظر آتی ہیں۔ پیپلزپارٹی پنجاب کا کارکن مایوس ہو چکا ہے اور عوام میں پارٹی کی پذیرائی نہیں رہی، سندھ کی چھاپ کچھ ایسی لگی ہے کہ پیپلزپارٹی قومی سے صوبائی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کے حامی اس بات کو تسلیم نہیں کریں گے، تاہم تلخ حقیقت یہی ہے جس سے زمینی حقائق کو دیکھ کر انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب کو اہمیت ہی کتنی دی ہے،لاہور اور ملتان میں بلاول ہاؤسز بنا دینے سے جن میں ملازمین اور خدمت گاروں کے بسیرے ہیں، پارٹی تو مقبول نہیں ہو جاتی۔ بے نظیر بھٹو پنجاب کی اہمیت کو سمجھتی تھیں اور خود کو سندھ تک محدود نہیں رکھنا چاہتی تھیں، حالانکہ اس وقت پنجاب میں کوئی بلاول ہاؤس نہ تھا۔

انہوں نے ضیاء الحق کے دور میں جلاوطنی کے بعد واپسی کے لئے بھی کراچی کی بجائے لاہور کو منتخب کیا تھا۔ اب مستقبل میں ایسا نہیں لگتا کہ پنجاب کی حد تک مسلم لیگ(ن) کا مقابلہ پیپلز پارٹی سے ہو گا۔ پیپلزپارٹی کی حالت وہی ہو گی جو خوشاب کے ضمنی انتخاب میں نظر آئی، اصل مقابلہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف میں ہوگا، گویا تحریک انصاف کو اپنا پنجاب مضبوط رکھنا چاہیے، مگر وہ اپنا پنجاب کمزور کر رہی ہے اور اس کی بڑی وجہ پنجاب میں عثمان بزدار کی کمزور حکمرانی ہے۔ ان کی پنجاب پر مضبوط گرفت ہوتی اور گورننس کے حالات بہتر ہوتے تو ڈسکہ اور خوشاب میں یوں شکست کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ کپتان اب بھی اگر یہی سمجھتے ہیں کہ ضمنی انتخابات مقبولیت جانچنے کا پیمانہ نہیں ہوتے تو یہ حالات سے بے خبری کے مترادف ہے۔ایک بار کسی سیاسی جماعت کی مقبولیت کم ہو جائے تو اسے دوبارہ مقبول ہونے کے لئے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔مسلم لیگ (ن) دعویٰ تو یہی کرتی ہے کہ نوازشریف کا ووٹ کو عزت دو والا بیانیہ مقبول ہو رہا ہے، لیکن معاملہ صرف یہی نہیں، حکومت کی بُری کارکردگی بھی عوام کے اندر اس عدم مقبولیت کا باعث بنی ہے۔ جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے تو سندھ میں اس کی بُری گورننس کے آئے روز شواہد سامنے آتے رہتے ہیں۔ مالی سکینڈلز بھی معمول کی بات ہے، یوں ان دونوں جماعتوں کی اس بُری حالت نے مسلم لیگ (ن) کو فائدہ پہنچایا ہے، مسلم لیگ (ن) چونکہ اس وقت خالص اپوزیشن کی جماعت ہے، یعنی پیپلزپارٹی کی طرح اس کے پاس کسی صوبے کی حکومت نہیں، اس لئے اس کی پوزیشن عوام کی نظر میں واضح ہے۔ پھر آئے روز حکمران جماعت کی طرف سے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں پر تابڑ توڑ تنقیدی اٹیکس بھی اسے تقویت پہنچاتے ہیں، اب پیپلز پارٹی بھی اس کے خلاف صف بستہ ہو چکی ہے۔یہ سارے عوامل مسلم لیگ (ن) کے لئے پلس پوائنٹ ہیں۔ وہ عوام کی نظروں میں اس کا قد اور مقبولیت بڑھا رہے ہیں کہ صرف ایک ہی جماعت ہے جو ان کے حقوق کی بات کر رہی ہے۔ ضمنی انتخابات کے بیرومیٹر سے سیاسی جماعتوں کی مقبولیت کو جانچا جائے تو مسلم لیگ (ن) کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔ اس کی یہ برتری آنے والے دنوں میں قائم رہتی ہے یا کم ہو جاتی ہے، اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا۔ تاہم حکومت کی کارکردگی یہی رہی اور پیپلزپارٹی نے اپنی سندھ پر مبنی خود غرضانہ سیاست نہ چھوڑی تو مسلم لیگ (ن) کے لئے آئندہ انتخابات میں میدان جیتنا آسان ہو جائے گا۔

Comments are closed.