تحریک انصاف کے 3 اہم رہنماؤں کی تاحیات نااہلی :

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ایس اے زاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی بھی نیت پر کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہئے لیکن کالعدم تحریک تالبان پاکستان کو عام معافی دینے کا اعلان بھی نہیں کرناچاہئے تھا۔ یہ اعلان نہ تو پاکستانی قوم کو تسلیم ہے

اور نہ ہی پاکستانی اداروں کے لئے قابلِ قبول ہوگا۔ زمینی حقیقت وزیر خارجہ کے اس اعلان کے بالکل اور قطعی برعکس ہے۔حکومتی اکابرین کے لئے قوم، اہم اداروں اور سیاستدانوں سے مشاورت کے بعد متفقہ بیان دینا زیادہ بہتر اور مناسب ہوتا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ اس خطے میں حالات تیزی سے تبدیل ہونیوالے ہیں اور زمینی حقائق کو تسلیم کرنا ہی ملک کی بہتری ہے۔ بھارت امریکہ اور اسرائیل نہیں چاہتے کہ افغانستان میں امن قائم ہو۔تالبان کوبھی ان حقائق کو دیکھنا چاہئے اور فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے چاہئیں کہ ان کے لئے نہ صرف دنیا کے دروازے کھل جائیں بلکہ وہاں امن دشمنوں کے ارادے اور منصوبے بھی خاک میں مل جائیں۔پاکستان کے اندر بھی بڑی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ حکومت شیخ چلی کی طرح ہر اس شاخ کو کاٹنے پر لگی ہوئی ہے جس پر اس کا قیام ہے۔ حکومتی اقدامات زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یاتو وہ ان حقائق سے بے خبر ہے یا وہ زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اگر بے خبری ہے تو باخبر ہوناچاہئے اور اگر وہ حقائق کو تسلیم کرنانہیں چاہتی تو پھر وقت تو لازمی تسلیم کراتا ہے۔ ملک میں مہنگائی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ وفاقی اور صوبائی وزرا کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی ہے تو لوگوں کی قوت خرید میں بھی تو اضافہ ہوا ہے۔ اس پر کیا کہا جائے اگر محترم وزرا یہ بھی بتا دیں کہ لوگوں کی قوت خرید میں کس طرح اضافہ ہوا ہے تو یہ بھی عوام پر احسان ہوگا

کیونکہ عوام کو تواس خوشخبری اور اتنی بڑی ’’تبدیلی‘‘ کاعلم ہی نہیں ہے۔ یہ بالکل ایسی بات ہے جس طرح کچھ عرصہ قبل وزیر دفاع پرویز خٹک نے بطور دعویٰ فرمایا تھا کہ صوبہ کے پی کے میں نہ تو کوئی بے روزگار ہے نہ کوئی کچا مکان ہے بلکہ وہاں کے ہر باشندے کے پاس موٹر سائیکل اور گاڑی بھی ہے۔ خود ان کا تعلق بھی اسی صوبہ سے ہے۔ ملک میں مہنگائی کا طوفان اب جلد سونامی میں تبدیل ہونیوالا ہے۔علم الاعداد کے مطابق ملک میں بہت بڑا معاشی طوفان آسکتا ہے اور مہنگائی میں ناقابل توقع اضافہ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح ملک ایک آئینی اور سیاسی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آنیوالے چند ایک ماہ میں حکومتی مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔حکومتی خواہش کے باوجود چیئرمین نیب موجودہ عہدے پر برقرار نظر نہیں آتے بلکہ اگر حکومت اپنی ضد پر قائم رہی تو یہ اُس کے لئے سبکی کا باعث بنے گا۔تحریک انصاف کے تین اہم عہدیدارتاحیات نااہل ہوسکتے ہیں اور بعض کےخلاف کارروائی کا آغاز ہوسکتا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر فی الحال موجودہ عہدے پربراجمان نظر آرہے ہیں۔ میاں نواز شریف کی اپنی طرف سے وطن واپسی کا عندیہ اور مسلم لیگ(ن) کے بعض عہدیدار ان کی طرف سے بیانات پر فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آتا ۔سال رواںکے آخر تک نواز شریف کی وطن واپسی نظر نہیں آرہی۔ الیکشن میں ووٹنگ مشین کا استعمال بھی نظر آتا ہے نہ ہی الیکشن کے امکانات،البتہ نظام کی تبدیلی واضح طور پر نظر آرہی ہے۔ یہ بھی نظرآرہا ہے کہ حالات گھمبیر صورت اختیار کریں۔ مذکورہ بالا تمام اشارے علم الاعدادکے مطابق ہیں۔ باقی اللہ عظیم جب اور جوچاہے کرے۔

Comments are closed.