تخت ڈانواں ڈول :

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار امتیاز عالم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔راج سنگھاسن تو ڈانواڈول ہی ہے، ملک کا سب کچھ تحلیل ہونے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ دست نگر معیشت کا لا ینحل بحران بے قابو ہوچلا ہے۔ پاکستان دنیا کا چوتھا مہنگا ترین ملک بن چکا ہے

اور مہنگائی ہے کہ ہر روز چھلانگیں لگا رہی ہے۔ 70فیصد آبادی کے لئے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل تر ہوچکا ہے۔ حساس اشیا کے انڈکس میں 14 فیصد سے زائد اضافہ اور ہول سیل انڈکس میں اضافہ 20فیصد تک پہنچنے کو ہے۔ روپیہ جولائی تا اکتوبر 28 روپے قدر کھو کر 175 روپے فی ڈالر سے آگے بڑھنے کو ہے۔ روپے کی قدر گری تو بھی برآمدات نہ بڑھیں، پیداواری عمل تیز ہوا تو کرنٹ اکائونٹ خسارہ پھر سے وبال جان ہوا چاہتا ہے۔ آمدنی میں اضافہ کیڑی کی چال سے بڑھ رہا ہے اور اخراجات کا بوجھ ہے کہ قرضوں کی قسطوں میں اضافے کے ساتھ ناقابل برداشت ہوچلا ہے۔ قرض کا بندھن اور سود کی ادائیگی جان لیوا۔ قرض کی قسطوں کی ادائیگی کے لئے اور زیادہ شرح سود پر قرض اور قرض کی قسطوں کی ادائیگی کے بعد ریاستی انتظام، دفاع اور عوامی ترقی (PSDP )کے لئے خزانہ خالی، پھر قرضے اور قرضوں پہ قرضے اور بالآخر ملک دیوالیہ، جس سے بچنے کے لئے پھر آئی ایم ایف کے آگے کاسہ گدائی اور سخت تر شرائط کے سامنے وزارتِ خزانہ کے کانپتے ہاتھ اور حکومت کا بڑا مخمصہ: آئی ایم ایف کی شرائط مانو تو مصیبت ، نہ مانو تو پلے کچھ نہیں اور دیوالیہ پن کا بھوت ہڑپ کرنے کو تیار۔ پالیسی بے یقینی اور بحران کی قوتوں کا اندھا کھیل مہنگائی سے تنگ عوام، تنگ آمد، بجنگ آمد کے مصداق سڑکوں پر آنے کو تیار۔ اپوزیشن کے بڑھتے مظاہرے اور پھر سے جاں نثاران رسالتؐ لانگ مارچ پہ روانہ۔ لبیک کی ہنگامہ پروری سے فیض پانے والے حکمران انہیں روکیں تو کس منہ سے۔

پورا پنجاب ہی انتظامیہ نے خود بند کردیا ہے اور ہنگامے۔ سیاسی اور عسکری قیادت کے ایک صفحہ کے ہوا میں اُڑتے پرزے۔ افغان طالبان کی تنہائی اور سختی عالمی شرائط اور افغانستان کے ہولناک انسانی و معاشی بحران کا لاوا طورخم کے اس پار اُمڈ آنے کو اور فنانشل ٹاسک فورس کی پاکستان کی مشکیں کسے رکھنے کو گرے لسٹ کی تلوار سر پر برقرار۔ آئی ایس آئی چیف کی تعیناتی میں تاخیر اور سول ملٹری تعلقات میں پھر سے بھونچال اور اپوزیشن کی حکومت کو گھر بھیجنے اور فوری انتخابات کے انعقاد کے لئے زبردست عوامی رابطہ مہم۔ اوپر سے نااہلوں، جھوٹوں، بدزبانوں، جاہلوں اور بوالعجموں کا ٹولہ ٹونے کام آرہے ہیں نہ فال سیدھے پڑرہے ہیں۔ حکومت جائے یا رہے، بحران ٹلنے والا نہیں اور کوئی آگے بڑھ کر ڈوبتی نیا کی پتوار سنبھالنے کو تیار نہیں۔ ایسی مشکل پہلے کبھی تو نہ تھی۔پہلے امریکہ کو ٹکا سا جواب، اب ہوائی راستہ دینے کی منت زاریاں۔ مشرق وسطیٰ میں بھی چار کے ٹولے میں بھارت، امریکہ، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کی شرکت اور عرب بھائیوں کے ہندتوا کی پرچارک حکومت سے بڑھتے معانقے اور مفت کے تیل کی فرمائشوں کے ساتھ بھارت کے ساتھ نامہ و پیام میں سہولت کاری کے لئے منت زاریاں۔ ابھی ابھی خبر آئی ہے کہ آئی ایم ایف کی بند مٹھی بالآخر کھل گئی ہے، لیکن گھونسا بن کے ساڑھے تین کروڑ خاندانوں کے منہ پہ لگے گی۔ ٹیکسوں میں اضافہ ہوگا، امدادی قیمتیں ختم، بجلی و گیس کے بلوں میں اور بڑا اضافہ، ترقیاتی پروگرام کی چھٹی، شرح سود میں اضافہ، روپے کی قدر میں آزادانہ کمی اور وزیراعظم کی سعودی عرب روانگی

اور ولی عہد شہزادہ محمد سے ثالثی کی ایک نہیں دو دو درخواستیں۔ریاست مدینہ ثانی کو جس طرح کا بحران درپیش ہے، وہ تاریخی اعتبار سے سماجی و ریاستی کایا پلٹ کے انقلاب کی تمام شرائط تو یقیناً پوری کرتا ہے، لیکن ایک سماجی انقلاب بپا کرنے والی تنظیم کی عدم موجودگی میں غیر منظم عوام استحصال و استبداد کی کچھ نشانیوں کو ملیا میٹ تو کرسکتے ہیں، تعمیر نو نہیں۔ایک مستقل بحران تھوڑی بہت پیوندکاری سے وقتی طور پر ملتوی یا تھوڑا بہت سہل کیا جاسکتا ہے، ختم نہیں ہوسکتا۔ فقط عمران حکومت کی نالائقیوں اور ناانصافیوں کے ازالے سے ملک کو درپیش پورے معاشی و سماجی و سیاسی نظام کے ہمہ گیر بحران سے نجات نہیں دلائی جاسکتی۔ ملک کو چہروں کی تبدیلی کی ضرورت نہیں نظام کی تبدیلی درکار ہے اور یہ کایہ پلٹ کرنے والی سماجی و سیاسی قوت کہیں منظر پہ نہیں، یہ علیحدہ بات ہے کہ تاریخ کا جوار بھاٹہ کسی انقلابی کایا پلٹ والی سماجی قوت کو میدان میں اتار دے۔ اندریں حالات، سیاسی قوتوں کے سامنے تین چار راستے ہیں۔ اول: عمران حکومت کو مجبور کریں یا اس کی جگہ ایک عبوری قومی حکومت قائم ہو جو پارلیمنٹ میں اتفاقِ رائے سے پورے معاشی، سیاسی، اداراتی اور آئینی ڈھانچوں میں ضروری اصلاحات کا آغاز کرے۔ سول ملٹری تعلقات اور اداروں کی آئینی حدود کا تعین کرے۔ نظام حکومت اور اداروں کی اصلاحات کرے، وفاق اور صوبوں میں تعلق کو اور زیادہ صوبوں اور مقامی حکومتوں کے حق میں مزید استوار کرے۔ عوامی نمائندگی اور انتخابی قوانین

میں موثر تبدیلیاں کرے، معیشت کی بحالی اور آمدنی و اخراجات کے توازن کے لئے بڑی اصلاحات کرے۔ انسانی حقوق اور مساوی شہریت کو یقینی بنائے اور ہر طرح کی مذہبی انتہا پسندی کو لگام دے۔ جیو اسٹریٹجک جنگی نظریات کی جگہ معاشی سلامتی اور علاقائی تعاون کو آگے بڑھائے اور خواص کے علاقوں کی بجائے عوام اور محروم علاقوں کی ترقی کا نظریہ اپنائے اور جمہوری تسلسل کو مضبوط کیا جائے۔ حکومت اور اپوزیشن کی موجودہ محاذ آرائی کے پیش نظر ایسا ہوتا ممکن دکھائی نہیں پڑتاالبتہ عدم اعتماد کے ووٹ سے موجودہ حکومت کی جگہ ایک وسیع قومی حکومت تشکیل دے کرایسا کیا جاسکتا ہے۔ دوم: اپوزیشن اور حکومت قبل از وقت انتخابات کے منصفانہ انعقاد پر اتفاق رائے پیدا کریں۔ سوم: ایک عوامی تحریک کے ذریعہ حکومت کو فوری انتخابات کے انعقاد کے لئے مجبور کیا جائے ۔ اب یہ کہنا مشکل ہے کہ سیاسی نظام کے انہدام کی کسی صورت سے کیا نتیجہ برآمد ہوگا؟ ان حالات میں سب سے غیر یقینی عنصر کوئی ہے تو وہ ہیں وزیراعظم عمران خان۔ وہ اسمبلی توڑنے سے لے کر کئی انتہائی اقدامات کرسکتے ہیں اور پورے سیاسی نظام کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ اُن کی بلا سے جو ہوتا ہے ہو جائے۔ البتہ ایک بات ظاہر ہے کہ اگر عمران حکومت ناکام ہوگئی تو اپوزیشن کے پاس بھی کوئی ٹھوس متبادل پروگرام نہیں۔ کسی کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔

Comments are closed.