تدفین کب اور کس شہر میں کی جائے گی؟

‏لاہور (ویب ڈیسک) تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ بعد نماز ہفتہ کو صبح دس بجے مینار پاکستان لاہور میں ادا کی جائے گی۔ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ میں تحریک لبیک کے ہزاروں کارکنان شریک ہوں گے اسلئے انکی نماز جنازہ وسیع و عریض گراؤنڈ مینار پاکستان میں ادا کی جائے گی۔

قبل ازیں اعلان کیا گیا تھا کہ نماز جنازہ آج جمعہ کو ادا کی جائے گی لیکن انکے کارکنان کی ملک بھر سے آمد کے پیش نظر اب نماز جنازہ کا وقت ہفتہ کا رکھ دیا گیا ہے۔ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد انکی میت آبائی گاؤن منتقل کی جائے گی، خادم رضوی کی دفین انکے ضلع اٹک کے آبائی گائوں نکا توت میں کی جائے گی۔ علامہ خادم رضوی 2017میں ملک کے سیاسی منظرپرنمودار ہوئے ، جب انہوں نے راولپنڈی میں فیض آباد دھرنے سے شہرت حاصل کی، ا س دوران اپنے اندازِ خطابت اور سیاست کے باعث سیاسی ایوانوں میں ہلچل مچائے رکھی۔ انہوں نے 2017 میں تحریک لبیک پاکستان کی بنیاد رکھی۔الیکشن 2018 میں ان کی جماعت حیران کن طور پر ملک کی چوتھی بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ۔ نومبر 2017 میں اسلام آباد کے طویل دھرنے اور اپنے منفرد انداز خطابت کے باعث انہوں نے شہرت کی بلندیوں کو چھوا۔ تحریک لبیک نے چند روز قبل فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کیخلاف اسلام آباد میں فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا دیا تھا جس کی قیادت علامہ رضوی نے کی تھی تاہم حکومتی ٹیم سے کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کردیا تھا ۔ دھرنے میں انہوں نے کارکنوں سے خطاب میں کہا تھا کہ میری طبیعت 5 روز سے ناساز ہے لیکن اسکے باوجود دھرنے میں شرکت کے لیے آیا ہوں۔ علامہ خادم حسین رضوی لاہور میں محکمہ اوقاف کے زیر اہتمام پیر مکی مسجد میں امامت کے فرائض سرانجام دیتے رہے ۔ ممتاز قادری کی سزا پر عملدرآمد کے بعد انہوں نے کھل کر حکومت وقت پر تنقید کی جس کی وجہ سے انہیں محکمہ اوقاف نے ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ علامہ رضوی روحانی طور پر سلسلہ نقشبندیہ میں خواجہ محمد عبد الواحد المعروف حاجی پیر صاحب کالا دیو، جہلم سے مرید تھے ۔ مرحوم دو عشروں سے جامعہ نظامیہ رضویہ میں تدریس کر رہے تھے ۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *