ترین گروپ کو گاجر ملے گی یا لاٹھی انکا مقدر بنے گی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔سیانے کہتے ہیں کہ سیاست میں بسااوقات ایک دن برسوں پہ بھاری ہوتا ہے۔حکومتوں کے پاس ’’ناراض‘‘ لوگوں کو راہِ راست پر لانے کے لئے انگریزی محاورے میں بیان کردہ ’’گاجر اور لاٹھی‘‘ جیسے بے شمار وسائل واختیارات موجود ہوتے ہیں۔

ان کی بدولت عمران حکومت نے اگست 2018سے قومی اسمبلی میں برسوں سے ہمارے سیاسی منظر نامے پر چھائے اور ان دنوں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے کئی قد آور رہ نمائوں کو بے بس بنارکھا ہے۔جہانگیر ترین اور ان کے حامی تو ’’اپنے‘‘ ہیں۔انہیں ’’چھائوں‘‘ میں بٹھاکر بھی ’’بندے کا پتر‘‘ بنایاجاسکتا ہے۔بجٹ پاس کروانے کے لئے ویسے بھی حکومت کو ایوان میں موجود اراکین کی اکثریت درکار ہوتی ہے۔فرض کیا کہ ’’فنانس بل‘‘ کی حتمی منظوری کے لمحات کے دوران اپوزیشن سمیت اگر قومی اسمبلی میں 342کے بجائے 200کے قریب اراکین بھی موجود ہوں تو محض 101نمبر دکھا کر بھی حکومت اپنا بجٹ منظور کرواسکتی ہے۔اس مرحلے سے فارغ ہوجانے کے باوجود اٹھارویں ترمیم کی بدولت عمران حکومت کو یہ آئینی اختیار حاصل ہوگا کہ تحریک انصاف کی ٹکٹ پر منتخب ہونے والے جو اراکین حتمی گنتی کے دوران ’’دانستہ‘‘ انداز میں غیر حاضر نظر آئیں انہیں فلورکراسنگ کے الزامات کے تحت قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل کروانے کی کارروائی کا آغاز کرے۔اس تناظر میں نااہلی کی درخواست سپیکر قومی اسمبلی کی وساطت سے الیکشن کمیشن کو بھیجی جاتی ہے۔اس منصب پر ان دنوں اسد قیصر براجمان ہیں۔ان پر ’’غیر جانب داری‘‘ کا الزام ان کا بدترین دشمن بھی نہیں لگائے گا۔ بدھ کے روز انہوں نے اپنے منصب کے تقدس کی پرواہ کئے بغیر وہ ٹویٹ بھی لکھ ڈالا ہے جس کے ذریعے کپتان کے حامیوں کی جانب سے ’’عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے ‘‘کا اعلان کیا جارہا تھا۔عمران حکومت کی جانب سے ’’باغی‘‘ اراکین کی نااہلی والی درخواست کو الیکشن کمیشن بھجوانے میں شاید وہ ایک دن بھی نہ لگائیں۔

مجھے کامل یقین ہے کہ جہانگیر خان ترین کی حمایت میں کھڑے ہوئے آٹھ اراکین قومی اسمبلی میں سے ایک بھی ان کی محبت میں اپنی نشست گنوانے کو تیار نہیںہوگا۔ ’’اسی تنخواہ‘‘ پر گزارہ کرتے رہیں گے۔جہانگیر ترین کی حمایت درحقیقت محض ’’رحم ظلِ الٰہی‘‘ والی فریاد ہے۔اس کے سوا کچھ نہیں۔وزیر اعظم عمران خان صاحب ایسے ماحول میں قومی اسمبلی کی تحلیل کے بارے میں سوچنے کی زحمت کیوں گوارہ کریں۔’’میں کسی کے ہاتھوں پریشرائز نہیں ہوں گا‘‘ کی تکرار کے ساتھ بلکہ ا پنے ’’اصولوں‘‘ پر ڈٹے ہوئے ’’نظر آناچاہیں گے۔جہانگیر خان اوران کے حامیوں کی جانب سے ٹی وی سکرینوں پر لگائی رونق کئی حوالوں سے عمران حکومت کی مدد گار بھی ثابت ہورہی ہے۔اس کی بدولت ہم وقتی طورپر بھول چکے ہیں کہ نواز شریف کا پھیلایا ایک ’’بیانیہ‘‘ بھی ہے۔جاوید لطیف اس کی والہانہ حمایت کے اظہار کے سبب ان دنوں ’’غداری‘‘ کا مقدمہ بھگت رہے ہیں۔’’ایک بہادر آدمی‘‘ کی آبائی زمین پر’’نقشے کے بغیر بنائی عمارتیں‘‘ مسمار ہوئی ہیں۔عمران خان صاحب ’’بھولے تو ہیں مگر اتنے بھی نہیں‘‘۔ جبلی طورپر جانتے ہیں کہ ’’قبل از وقت‘‘ انتخابات کے امکانات درحقیقت کن ’’حلقوں‘‘ کے لئے پریشانی کا باعث ہیں۔ایسے انتخابات فی الوقت پاکستان پیپلز پارٹی کے مددگار بھی نظر نہیں آرہے۔چائے کی پیالی میں اُٹھے طوفان کی طر ح جہانگیر ترین کے حامیوں کی ’’بغاوت‘‘ بھی بالآخر ہوا میں تحلیل ہوجائے گی۔میڈیا کو رونق لگانے کے لئے مگر بہلاوے درکار ہوتے ہیں۔ جہانگیر ترین کے حامیوں کی رچائی ’’بغاوت‘‘ قانون تقلیل افادہ کے تحت اپنی اصل اوقات دکھانا شروع ہوگئی تو ’’بینڈ باجہ بارات‘‘ کے ساتھ ٹی وی سکرینوں پر ’’بریکنگ نیوز‘‘ یہ چلنا شروع ہوگئی کہ بالآخر چودھری نثار علی خان صاحب نے طویل عرصہ خاموش رہنے کے بعد پنجاب اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ان کے مبینہ فیصلے کی بابت ڈرامائی تجسس بڑھایا جارہا ہے۔چودھری نثار علی خان اقتدار کے کھیل کے بہت زیرک کھلاڑی رہے ہیں۔ان کی شہرت کو ذہن میں رکھتے ہوئے صحافیوں کی اکثریت یہ فرض کرنے کو بے چین ہے کہ چودھری صاحب محض صوبائی اسمبلی کے ایک ’’عام‘‘ رکن بننے کے لئے حلف نہیں اٹھائیں گے۔غالباَََ کوئی گہری ’’گیم‘‘ لگی ہے جس کا حتمی نشانہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ہوں گے۔میں فی الوقت اس ضمن میں خاموش رہنے کو ترجیح دوں گا۔

Comments are closed.