ترین گروپ کے قیام نے تحریک انصاف کے اندر ہلچل مچا دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) منگل کی شب جہانگیر ترین کی رہائش گاہ پر ہونے والے عشائیے کے حوالے سے جو خبریں منظرعام پر آئی تھیں جن میں تشکیل دیئے جانے والے ’’جہانگیر ترین ہم خیال گروپ‘‘ قومی اور پنجاب اسمبلیوں میں پارلیمانی لیڈرز کی نامزدگی ،جہانگیر ترین پر 30 ارکان کی جانب سے

مکمل اعتماد اور حلف اٹھانے کی خبریں بھی شامل تھیں، پھر عشائیے میں شریک بعض ارکان پنجاب اسمبلی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین کو پی ٹی آئی کا متبادل قائد بھی قرار دے دیا تھا، ان خبروں میں بظاہر سنجیدگی دکھائی دے رہی تھی اور پھر سیاسی ماحول میں قدرے بے یقینی بھی اس کی ایک وجہ بنی اور بظاہر دوراندیش اور دور کی کوڑی لانے والے تجزیہ کاروں نے بھی پی ٹی آئی کے دولخت ہونے اور اس صورتحال کو وزیراعظم عمران خان کیلئے ایک مشکل ترین صورتحال قرار دیا۔ وزیراعظم کے بارے میں تو کچھ علم نہیں لیکن امر واقعہ ہے کہ کئی وزراء اور حکومتی ارکان پارلیمنٹ نہ صرف اس حوالے سے باہمی رابطوں میں اپنی تشویش کا تبادلہ کر رہے تھے بلکہ متبادل صورتحال کے امکان پر غور کرنے کیلئے مل بیٹھنے کی باتیں کر رہے تھے بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ وزیراعظم جن کا بدھ کو پشاور کا دورہ شیڈول تھا اس بارے میں بھی بعض حکومتی شخصیات اور وزراء فون کرکرکے معلوم کر رہے تھے کہ ’’ دورہ منسوخ تو نہیں ہوا‘‘،پھر منگل کی شب الیکٹرانک میڈیا پر کوئی حکومتی نمائندہ اس صورتحال پر بات کرنے کیلئے دستیاب نہیں تھا وہ ترجمان جو اپوزیشن کے ایک بیان پر ردعمل دینے کیلئے ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرنے کیلئے بے چین رہتے ہیں ،ٹی وی سکرینوں پر ان کی عدم موجودگی نے صورتحال کو بڑھا دیا ۔

Comments are closed.