بریکنگ نیوز

دہلی (ویب ڈیسک) چین اور بھارت کے درمیان لداخ سرحدی تنازع پر پھر فوجی اقدامات شروع ہو گئے۔ بزدل بھارت نے چین سے شکست کھانے کے بعد 45 ہزار سے زائد فوجی لداخ میں تعینات کر دیئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق آئل ڈپو میں فیول کا سٹاک اور راشن بھی جمع کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعد سعودی عرب کے ساتھ بھی دو طرفہ روابط استوار کر لینا مستقبل میں اسرائیل کے لیے بہت بڑا انعام ثابت ہو گا۔ ابھی ایسا ہوا نہیں لیکن راہ ہموار ہونا شروع ہو چکی ہے۔سعودی عرب کی ایک اہم ترین مسلم مذہبی شخصیت نے حال ہی میں اپنے خطبے میں مسلمانوں کو یہودیوں سے متعلق ‘بہت زیادہ جذباتیت اور شعلہ بیانی‘ سے احتراز کرنے کی نصیحت کی۔ یہ ایک ایسے مذہبی رہنما کا بہت بدلا ہوا موقف تھا، جو ماضی میں اپنے خطبات میں فلسطین کا ذکر کرتے ہوئے رو پڑتے تھے۔ مسجد الحرام کے امام عبدالرحمان السدیس نے یہ بات پانچ ستمبر کو اپنے خطبے میں کہی، جسے سرکاری ٹیلی وژن سے نشر کیا گیا۔ اس وقت خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی اور تجارتی تعلقات کے قیام کے اعلان کو تین ہفتے ہی ہوئے تھے۔ اس خطبے کے چند ہی روز بعد سعودی عرب کے ایک اور اتحادی ملک بحرین نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔دنیا بھر کے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد عبدالرحمان السدیس کو امام کعبہ کے طور پر جانتی ہے۔ وہ ماضی میں جب اپنے خطبات میں فلسطینیوں کا ذکر کرتے تھے، تو ‘در انداز اور جارحیت پسند‘ یہودیوں کے خلاف فلسطینیوں کی فتح کی دعائیں بھی مانگتے تھے۔لیکن اس مرتبہ اپنے خطبے میں انہوں نے یہ حوالے دیے کہ پیغمبر اسلام اپنے یہودی ہمسایوں سے کتنی اچھی طرح پیش آتے تھے۔ ساتھ ہی السدیس نے یہ بھی کہا کہ یہودیوں کو اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ ‘اچھا سلوک‘ کیا جائے۔سعودی عرب کے بارے میں یہ توقع کم ہے کہ وہ جلد اپنے اتحادی ممالک کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لے گا۔ لیکن امام کعبہ کے بیانات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ سعودی بادشاہت اسرائیل کےحوالے سے اپنی سوچ بدل رہی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.