تعارف اور اب تک کے اہم کارنامے

راولپنڈی (ویب ڈیسک) خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس کے نئے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی چارج سنبھال لیا ہے۔وہ اس عہدے پر تعیناتی سے قبل کراچی کے کور کمانڈر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی

جگہ لیں گے جو تقریبا ڈھائی سال سے زیادہ عرصہ تک اس عہدے پر فائز رہے اور اب انھیں پشاور میں 11ویں کور کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔پاکستان فوج کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو آئی ایس آئی کا نیا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان چھ اکتوبر کو سامنے آیا تھا تاہم وزیر اعظم ہاوس کی جانب سے اس تقرری کا نوٹیفیکشن تین ہفتے بعد سامنے آیا۔واضح رہے کہ وزیر اعظم ہاوس کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کے لیے وزارتِ دفاع سے جو فہرست وزیراعظم کو بھیجی گئی تھی اس میں شامل تمام افراد کا وزیراعظم نے انٹرویو کیا اور پھر حتمی مشاورت کے بعد لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کا نام نئے سربراہ کے طور پر چنا گیا۔ 28 پنجاب رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے لیفٹینٹ جنرل ندیم انجم فوج میں ایک سخت گیر اور خاموش طبع افسر کے طور پر مشہور رہے ہیں۔ان کا تعلق 77ویں لانگ کورس سے ہے۔ انھوں نے بطور بریگیڈیئر فوجی مشنز کے دوران قبائلی علاقوں میں بریگیڈ کمانڈ کی جبکہ وہ کراچی کور میں چیف آف سٹاف بھی تعینات رہ چکے ہیں۔وہ رائل کالج آف ڈیفینس سٹڈیز سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ خیال رہے کہ جنرل پرویز مشرف اور جنرل راحیل شریف بھی اسی کالج کے فارغ التحصیل تھے۔اس کورس کے بعد وہ بطور میجر جنرل انسپکٹر جنرل ایف سی بلوچستان نارتھ مقرر ہوئے اور وہیں لیفٹننٹ جنرل کے طور پر کچھ عرصہ کمانڈنٹ سٹاف کالج بھی رہے۔کراچی میں فوج کے ہاتھوں آئی جی سندھ

کے مبینہ اٹھا لیے جانے کے واقعے کے بعد انھیں لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز کی جگہ کراچی کا کور کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔مبصرین کے مطابق آئی ایس آئی سیاسی اور عسکری دونوں سطح پر کام کرتی ہے اور اپنا اِن پُٹ دیتی ہے۔آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی لیفٹننٹ جنرل (ر) جاوید اشرف قاضی کے مطابق آئی ایس آئی کا ڈائریکٹر جنرل اپنے ادارے کی حد تک بہت طاقتور ہوتا ہے۔’ڈی جی آئی ایس آئی اپنے ادارے کے اندر لوگوں کو رکھ سکتا ہے، نکال سکتا ہے، واپس فوج میں بھیج سکتا ہے، پوسٹ آؤٹ کر سکتا ہے لیکن جہاں تک ادارے سے باہر کا تعلق ہے تو آئی ایس آئی کے سربراہ کی طاقت کا انحصار ان کے وزیر اعظم اور آرمی چیف کے ساتھ تعلق پر ہے۔ان کے مطابق ’وزیر اعظم انھیں عہدے سے ہٹا سکتے ہیں اور فوج کے اندر طاقتور تو فوج کا سربراہ ہی ہے۔‘لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کے پیشرو اور بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا بطور آئی ایس آئی چیف دور مختلف تنازعات کا شکار رہا ہے۔حال ہی میں افغانستان میں تالبان کی حکومت کے قیام کے بعد لیفٹینٹ جنرل فیض حمید نے پانچ ستمبر کو کابل کا اچانک دورہ کیا تھا جس کی تصاویر اور ایک ویڈیو میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ان تصاویر اور ویڈیوز میں انھیں ہوٹل کی لابی میں چائے کا کپ تھامے کھڑے دیکھا گیا جہاں انھوں نے صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے ‘پریشان نہ ہوں، سب ٹھیک ہو جائے گا’ کے الفاظ ادا کیے تھے۔

اس کے بعد بین الاقوامی خصوصاً انڈین میڈیا میں ان کے دورے کے متعلق قیاس آرائیوں نے جنم لیا تھا۔لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر عدالتوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔رواں برس اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت صدیقی نے اپنی برطرفی کے خلاف اپیل کے دوران عدالت میں جمع کروائے گئے اپنے جواب میں کہا تھا کہ جنرل فیض حمید ان کے گھر آئے اور ان سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی نیب عدالت سے ملنے والی سزاؤں کے خلاف اپیلوں کے بارے میں بھی دریافت کیا تو شوکت صدیقی نے انھیں جواب دیا کہ ’جب آپ قانونی معاملے سے پوری طرح آگاہ ہیں تو مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں؟‘مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے بھی حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر ایسے ہی الزامات عائد کیے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جنرل فیض حمید نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی ایسا بینچ نہ بنے جو 2018 کے الیکشن سے پہلے نواز شریف صاحب اور مریم نواز کو ضمانت دے کیونکہ اگر ضمانت دے دی اور انتخابات سے پہلے مریم نواز اور نواز شریف باہر آ گئے تو میری تو دو سال کی محنت خراب ہو جائے گی۔’مریم نواز نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ جب وہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوتی تھیں تو نیب کے نمائندے صرف ڈمی بن کر بیٹھے رہتے تھے اور اس کی کارروائی ’ایک بریگیڈیئر چلاتا تھا جس کے پیچھے جنرل فیض حمید تھے۔‘لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید یا فوج کی جانب سے ان الزامات پر براہِ راست کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

Comments are closed.