تعلیمی ادارے اگلے سال کس تاریخ تک بند رہنے کا امکان پیدا ہوگیا؟

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ملک بھر میں کورونا کی دوسری لہر کے شدت اختیار کرنے کے بعد سے ہی تعلیمی ادارے بند کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے ہونے والے اجلاس کو آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دیا گیا اور کہا گیا کہ تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے حوالے سے

فیصلے آئندہ اجلاس میں کیا جائے گا۔ تاہم اب مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں صحافی زاہد گشکوری نے اس حوالے سے خبر دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں سکول بند کرنے کا فیصلہ سوموار کو ہوگا۔اُن کا کہنا تھا کہ غالب امکان ہے کہ تعلیمی ادارے اگلے سال 31 جنوری تک بند رہیں۔خیال رہے کہ وفاقی وزرات تعلیم نے تعلیمی اداروں کی بندش کے حوالے سے مراسلہ تیار کرلیا ہے۔صوبائی حکومتوں کو بھجوائے گئے مراسلے میں تعلیمی اداروں کی بندش کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ پہلی تجویز یہ دی گئی کہ تعلیمی ادارے 24 نومبر سے 31 دسمبر تک بند رکھے جائیں، دوسری تجویز یہ دی گئی ہے کہ تعلیمی اداروں کو اگر 24 نومبر سے بند نہیں کیا جا رہا تو پرائمری سکولوں کو 24 نومبر سے بند کردیا جائے ، 2 دسمبر سے مڈل سکولوں کو بند کردیا جائے اور 15 دسمبر سے ہائیر سیکنڈری سکولوں کو بند کردیا جائے ۔تجاویز میں کہا گیا کہ تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو آن لائن تعلیم کی تربیت دی جائے اور ڈسٹنس لرننگ پر عمل کروایا جائے، اس سلسلے میں اساتذہ کو بلا کر ٹریننگ دینے کی تجاویز دی گئی ہیں، جبکہ تعلیمی سیشن کو 31 مئی تک ختم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے ، میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات جون 2021ء میں لینے کی بھی تجویز زیر غور ہے ۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں کورونا کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر آن لائن ایجوکیشن پر زور دیا جا رہا ہے۔بین الصوبائی وزرائے تعلیم کی کانفرنس 23 نومبر کو شیڈول ہے جس میں تعلیمی اداروں کے حوالے سے صوبے اپنی تجاویز پیش کریں گے۔ قبل ازیں بین الصوبائی وزرائے تعلیم کے اجلاس میں تعلیمی ادارے بند کرنے کی بجائے اسمارٹ لاک ڈاؤن پر غور کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ اجلاس میں تعلیمی سال یکم اگست سے شروع کرنے کا معاملہ بھی زیر غور آیا تھا جبکہ اجلاس کے شرکا کی جانب سے یونیورسٹیز اور کالجز بند نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد اجلاس کو ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ کورونا کے پیش نظر تعلیمی ادارے بند کرنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ بین الصوبائی وزرائے تعلیم کے آئندہ اجلاس میں ہو گا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *