تفصیلات سامنے آگئیں

کراچی (ویب ڈیسک) حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی اسٹیئرنگ کمیٹی میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ جنوری کے آخری ہفتے میں حکومت کیخلاف لانگ مارچ ہوگا۔پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ سینیٹ کا الیکٹرول کالج توڑنے کی اسٹریٹجی بنا رہے ہیں، اسٹیبلشمنٹ ابھی بھی

حکومت کا تحفظ کررہی ہے۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہم ایک پیج اور اسٹیج پر ہیں، استعفوں پر پارٹی اجلاس بلایا ہے، مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ لاہور کا جلسہ ہوگا اور بھرپور ہوگا۔اے این پی کے رہنما اور پی ڈی ایم کے ترجمان میاں افتخار نے کہا کہ میاں افتخار نے کہا کہ جنوری کے آخری ہفتے میں لانگ مارچ ہوگا، حکومت خوفزدہ ہے گرفتاریاں شروع کردیں، لاہور جلسے میں مزید اعلانات کیے جائینگے۔  اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اس وقت پنجاب حکومت جلسہ گاہ مینار پاکستان کو ڈیم بنا رہی تاکہ وہاں جلسہ نہ ہوسکے جبکہ کہتے ہیں ہم جلسے کو نہیں روکیں گے لیکن اجازت بھی نہیں دے رہے، پھر جہاں ہم جلسہ کر رہے ہیں اس کو ڈیم بھی بنا دیا ہے تو اس کے متبادل پر بات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم طے کیا ہے کہ جلسہ ہو کر رہے گا اور ہر قیمت پر لوگ اس جلسے میں آئیں گے، ہر طرف سے لاہور لوگوں کا مرکز اور 13 دسمبر ایک تاریخی دن ہوگا۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اس پر اتفاق ہے کہ اگر انہوں نے ایک راستہ روکا تو دوسرا راستہ بنانا ہے اور دوسرا راستہ روکا تو تیسرا راستہ بنانا ہے۔استعفوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ چہ مگوئیوں سے تحریک کو تقویت ملتی ہے، اسٹیرنگ کمیٹی میں شٹر ڈاؤن، پہیہ جام ہڑتال، جلوس اور اسلام آباد کی طرف مارچ کس وقت کریں گے اس کا فیصلہ ہوگا اور ان تمام مراحل میں استعفوں کا ذکر ہوتا رہے گا.ان کا کہنا تھا کہ اگلے دنوں میں حکمت عملی بھی واضح کرینگے کہ استعفے کس وقت ڈھال بنا کر ان کے سر پر دے مارنا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج جمہوریت نہیں ہے بلکہ آمریت کا ایک مہرہ ہے، جس نے جمہوریت کو دفن کردیا ہے، ہم نے جمہوریت کی احیا، جمہوریت کی بقا اور آئین کے تحت حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندہ حکومت کی بات کرنی ہے۔

Comments are closed.