تم میں اور شکر گڑھ کے کسی اور بچے میں کوئی فرق نہیں ، تم ان کی خدمت کے لیے پیدا ہوئے ہو ان پر حکومت کے لیے نہیں ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور پاکستانی سیاستدان انور عزیز جو کچھ ہفتے پہلے انتقال کر گئے تھے ، کے پوتے میکال جعفر عزیز اپنے ایک خصوصی کالم میں رقمطراز ہیں ۔۔۔۔۔۔حال ہی میرے دادا نے مجھے نصیحت کی ’’پتر سچائی ،انصاف ،شیریں زباں اور اخلاص سے اپنے لوگوں کی خدمت کرتے رہنا اسی طرح تم

شکر گڑھ کے محبت کرنے والے لوگوں کے دل جیتو گے ’’اسی دوران انہوں نے مجھے یہ بھی کہا کہ ہمیشہ اپنے لوگوں کی بات تحمل سے سننا اور ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کرنا ، یہی تمہاری اور شکر گڑھ کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ میرے داد نے مجھے بتایا کہ جب انہوں نے 1962ء میں سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا تو وہ اپنے آبائی گاؤں شکر گڑھ آئے اور گورداس پور کی سرحد پر واقع خوبصورت وادی کو دیکھتے ہوئے درخت کے سائے کے نیچے اکیلے کھڑے ہو کر عہد کیا کہ آخری دم تک اپنے علاقے کے مظلوم اور غریب لوگوں کے مسائل حل کر کے خدمت کرتا رہوں گا۔اس خدمت کے مشن کو بڑھانے کے لیے جب انہوں نے آواز لگائی تو رفتہ رفتہ ان کی حمایت میں ’’قافلہ‘‘ تشکیل پاتا گیا۔ اور پھر وقت نے ثابت کیا کہ وہ ہرغم اور خوشی میں بلا امتیاز شکر گڑ ھ کے لوگوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہے۔’’ میری دادی کیتھی نے بھی دادا کے خدمت کے مشن کو آگے بڑھایا اور ہر مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔ وہ ایک تعلیم یافتہ خاتون تھیں انہوں نے مشی گن یونیورسٹی سے گریجویٹ کی ڈگری مکمل کی اور دادا کی معاونت کے لئے ماری پور میں مقیم رہیں۔ میرے تایا اور پھوپھو بھی اپنے علاقے سے بے حد محبت رکھتے ہیں ۔ دادا بتاتے ہیں کہ جب یہ دونوں چھوٹے تھے تو گھوڑے پر بیٹھ کر مقامی پرائمری سرکاری سکول جایا کرتے تھے۔ ’’دادا مجھے اکثر کہتے پتر مجھے شکر گڑھ کی مٹی سے محبت ہے‘‘ اور یہ محبت میرے ، آپ کے والد اور اب آپ کے خون میں ہے اسے ہمیشہ قائم رکھنا۔

میرے دادا کے گھر ’’ڈیرہ انور عزیز‘‘ کا کوئی دروازہ نہیں ہے۔ ستونوں سے گزرتا ایک بڑا راستہ ہے جو کہ شکر گڑھ کے تمام لوگوں کے لئے ہر وقت کھلا رہتا ہے۔ یہاں پر آنے والے تمام لوگوں کے لئے وسیع دستر خوان بھی لگا رہتا ہے۔ جبکہ دادا کے کمرے میں آنے والے ہر شخص کو بڑی چاہ اور گرم جوشی سے چائے پلائی جاتی۔اکثر لوگ خراب ٹرانسفارمر ، پولیس کیسز، سکول میں داخلے ، صحت کی ہنگامی صورتحال ، اور خاندانی تنازعات سے متعلق مسائل لے آتے اور ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کہتے۔جب کہ دادا کی ہر ممکن کوشش ہوتی کہ جو بھی مسئلہ ہو وہ جلد از جلد حل ہو جس کے لیے وہ ہر ممکن کوشش کرتے۔ میرے دادا اپنے آخری دم تک لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کے بارے میں پر جوش رہے اور مخلص کوشش کرتے رہے۔مجھے اپنے دادا کے ساتھ وقت گزارنا بہت اچھا لگتا۔ جب کبھی بھی تعزیت ، پیدائش ، شادی اور بیمار بزرگوں کی تیمارداری پر جانا ہوتا تو وہ مجھے نہایت نفیس آواز کے ساتھ جگاتے چوہدری صاحب لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں جلدی سے آجائیں۔میرے دادا نے اللہ کی مدد ،محنت اورروحانیت سے اپنی طاقت حاصل کی۔ میں نے بھی اپنے دادا کے ساتھ عظیم بزرگوں داتا دربار ، کرتار پور گوردوارہ، بری امام اور گولڑہ شریف کے درباروں پر حاضری دی۔ دادا کی وفات سے ایک ماہ پہلے ہم پیر خانہ علی پور سیداں عرس جو کہ شکر گڑھ کا سالانہ بڑا ایونٹ ہے پر اکٹھے تھے۔

دادا ، میں اور بابا رات دیر تک تلاوت کر تے رہے۔ گھر واپسی پر گاڑی چلاتے ہوئے وہاں آئے لوگوں کی طرف مڑتے ہوئے بولے، ’’ہن میرا پوتا مینوں لاندا، لے جاندا اے‘‘۔میرے دادا نے ہمیشہ مساوات اور انصا ف کا علم بلند رکھا۔ مجھے یاد ہے جب میں سات سال کا تھا اور میں نے اپنے دیہاتی دوست کو سخت دھکا دیا اور وہ گر پڑا شاید وہ زخمی ہو گیا تھا۔ جب دادا کو اس واقعہ کا علم ہوا تو وہ ڈیرے کے باغ میں اپنے دیگر دوستوںاورعملہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے مجھے اور میرے دوست کو وہیں بلا لیا۔آپ نے تھپڑ رسید کرنے کے بہانے میرے رخسار کو ہلکا سا چھوا اور بولے جلدی سے اپنے دوست کے ساتھ گلے ملو اور دوستی کرو ’’تم انور عزیز کے پوتے ہو تم میں اور شکر گڑھ کے کسی بھی بچے میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے یہاں کوئی کسی سے اعلیٰ نہیں، ہم نے اپنے علاقے کی لوگوں کی خدمت کرنی ہے نا کہ مقابلہ‘‘۔میرے دادا ہمیشہ مجھے کہا کرتے تھے کہ سچائی اور حق گوئی کے ساتھ پر اعتماد اور نڈرہونا آپ کا اولین مقصد اور منزل ہے۔ انہوں نے بتایا جب میری عمرصرف آٹھ ماہ تھی تو وہ اور بابا مجھے اپنے ساتھ تیراکی کیلئے ایک بڑے تالاب پر لے گئے تھے۔ یہاں میں بتاتا چلوں کے میرے دادا نے 1948ئ میں اولمپکس کے تیراکی مقابلہ میں بھی حصہ لیا تھا ، انہیں تیراکی سے بے حد لگائو تھا۔ جیسے جیسے میں بڑا ہوتا گیا تو مجھے بھی تیراکی کا شوق ہونے لگا۔میں نے عہد کیا کہ اب چاہے وہ ہمارے گاؤں کا ٹیوب ویل ہو

یا اسلام آباد کلب کا سوئمنگ پول، میں تیراکی کرتا رہوں گا۔ میں نے بھی تیراکی کے کئی مقابلوں میں حصہ لیا ہر موقع پر دادا نے مجھے مقابلہ کے دوران درست اسٹروکس کے ساتھ ہمیشہ بہتر کرنے کی تربیت دی اور میں نے خوف کو دل سے نکال کر ہمیشہ دادا کی امید پر پورا ترنے کی کوشش کی۔ وہ اکثر کہتے خوف انسان کو بزدل اور چھوٹا بناتا ہے اس لئے ہر معاملہ میں نڈر رہنا چاہیے۔یہاں میں آپ کو بتاتا چلوں کہ پڑھائی میں محنت کے باوجود اگر میں کلاس میں اول نہیں آتا تھا تو میرے والد مجھے رہنمائی کرنے کے ساتھ ساتھ ڈانٹ ڈپٹ میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے جبکہ دادا مجھے مزید محنت کرنے ، علم سے آگے بڑھنے اور نام روشن کرنے کا درس دیتے ، بابا اور دادا کی رہنمائی سے میں سخت محنت کرنے کا عادی ہوگیا ہوں اور انشاء اللہ میں اپنے دادا اپنے بابا اپنے علاقے اور پاکستان کا نام ضرور روشن کروں گا۔ اور دادا کے دئیے درس کے مطابق اپنے علاقے شکرگڑ ھ کے لوگوں کی خدمت کرتا رہوں گا۔ ہم نے ان کی 90ویں سالگرہ خاموشی سے منائی کیوں کہ یہ پھوپھو کرن کی وفات کے فوری بعد تھی۔ اس شام وہ معمول کی طرح عمر سے بڑے دکھائی دے رہے تھے اور گہرے سوٹ میں بہت خوبصورت لگ رہے تھے۔ انہوں نے خاندان اور دوستوں کے چھوٹے سے گروپ کو اپنی زندگی کی کہانیوں ، شاعری اور پیار سے محظوظ کیا۔ بات ہی بات میں مجھے مخاطب کر کے بولے ’’تگڑے رہنا چوہدری صاحب‘‘’’ چند دن بعد جب میں بابا اور ہزاروں سسکیوں سے روتے سوگوار پن کے ساتھ انہیں قبر میں اتار رہا تھا تو میں سوچ رہا تھا کہ انہوں نے مجھے کیا کہا تھا اور میں نے جواب میں انہیں جی ہاں کہا تھا۔دادا آپ چلے گئے لیکن میرے پاس کھڑے ہونے کے لئے آپ کے ‘‘تگڑے‘‘ کندھے موجود ہیں اور میں یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی میراث کو انشائ اللہ جاری رکھا جائے گا۔اٹ کھڑکے دکڑوجے تتا ہووے چلھا۔۔اون فقیر تے کھا کھاجاون راضی ہووے بلھا۔۔

Comments are closed.