توبہ ، توبہ ، توبہ، یااللہ اس تبدیلی سے ہم باز آئے ۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اس خبر نے تو رہی سہی جان بھی نکال دی ہے کہ آئی ایم ایف نے آٹے، چینی، بجلی، گیس اور دیگر اشیاء پر سبسڈی بالکل ختم کرنے کو کہا ہے۔ یہ تو شامدار والی بات ہے۔ ہمارے ہاں آئی ایم ایف نے جب سے یہ

حکومت آئی ہے، ایک ڈر سا پھیلا رکھا ہے۔ غلطی تو اس حکومت کے کارپردازان نے کی تھی، سزا پوری قوم بھگت رہی ہے۔ نہ کپتان یہ کہتے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے نہ یہ دن دیکھنے پڑتے۔ ہم نے سو پیاز اور سو جوتے کھانے والی بات سچ ثابت کر دی مگر اس کے باوجود آئی ایم ایف ہے کہ اسے ہمارے حال تر ترس نہیں آ رہا۔ ڈالر کو پر لگے ہوئے ہیں، آسمان کو چھو رہا ہے، اس کی وجہ سے پہلے ہی مہنگائی زوروں پر ہے اب آئی ایم ایف مزید مہنگائی کرنے کے لئے حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے پاس تو ہم ہمیشہ ہی جاتے ہیں مگر اس بار تو وہ ایسے آیا ہے جیسے لٹیرا آتا ہے، ہر طرف خوف کے مارے ہو کا عالم ہے اور آئی ایم ایف سنجیاں گلیوں میں دندناتا پھر رہا ہے۔ ایک غلطی کی اتنی بڑی سزا، آئی ایم ایف والو خدا کا خوف کرو، کپتان نے تو کئی باتوں پر یوٹرن لیا ہے اس بات پر بھی لے لیا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے اب اس بات کو بھول بھی جاؤ، اتنا بوجھ نہ ڈالو کہ لوگ سڑکوں پر آئی ایم ایف ہائے ہائے کے نعرے لگانے لگیں۔کیا زمانہ تھا جب ہمارے پیارے عمران خان شاندار باتیں کیا کرتے تھے۔ کشکول توڑنے اور قرض نہ لینے کے دعوے کرتے تھے۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے کو ایک لعنت سمجھتے تھے، پھر سب نے دیکھا کسی سے

ہار نہ ماننے والا کپتان آئی ایم ایف سے ہار گیا۔ اس کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے، بس پھر کیا تھا آئی ایم ایف نے حکومت کے ساتھ وہی سلوک کیا جو ہارے ہوئے آدمی سے فاتح کرتا ہے۔ اپنی شرائط پر قرضہ دیا، شرائط بھی اتنی کڑی رکھیں کہ تین سال ہو گئے مجال ہے حکومت عوام کو کوئی ریلیف دے سکی ہو۔ ٹیکس ہی ٹیکس، قیمتوں میں مسلسل اضافہ، ایک کے بعد دوسرا دھاوا ، سنا ہے آج سے پٹرول کی قیمت مزید پانچ روپے بڑھ رہی ہے۔ حکومت کو پنجابی میں کہتے ہیں انھے واہ فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں اور اس میں سارا کیا دھرا آئی ایم ایف کا ہے۔ اس آئی ایم ایف کا جو ہمیں دنیا کے سامنے عبرت کی مثال بنا کے پیش کرنا چاہتا ہے کہ دیکھو جو ہمیں چھوڑنے کی غلطی کرتا ہے تو اس کا ہم حشر کیا کرتے ہیں، اس حکومت کو ناکوں چنے چبوا دیتے ہیں اور عوام کو ہائے ہائے کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ اب تو لوگ نوازشریف اور اسحاق ڈار کو کوئی ماورائی مخلوق سمجھنے لگے ہیں، جو اسی آئی ایم ایف کے ساتھ ایسے معاہدے کرنے کے باوجود عوام کو مہنگائی سے بچائے ہوئے تھے، ڈالر اور چینی کے ریٹ کو قابو میں رکھے ہوئے تھے۔ اس کا جواب یہ حکومت یہ دیتی آئی ہے کہ معیشت کو گروی رکھ کر قومی اثاثے ضمانت میں دے کر قرض لئے جاتے رہے اور ملک چلایا گیا۔ مگر اب تو یوں لگتا ہے حکومت نے آئی ایم ایف

سے چھ ارب ڈالر لے کر پورا ملک ہی گروی رکھ دیا ہے۔ ہر شرط مان لی ہے ایسے گھٹنے ٹیکے ہیں، کہ بس ہو گئی ہے ۔ مان لیتے ہیں جی ایک نہ ایک دن تو ایسا ہونا ہی تھا، یہ حکومت نہ ہوتی تو کوئی اور ہوتی، تب بھی کب تک قرضے پہ قرضہ لے کر ملک چلایا جا سکتا تھا۔ لیکن یکدم یہ کیا ہوا کہ آئی ایم ایف خوامخوا درندہ بن گیا اور عوام پر وار کرنے لگا۔ حکومت بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے اور وہ اس کی کوئی بات تک سننے کو تیار نہیں۔ امریکہ کو انکار کرنے والی حکومت کوئی ایک انکار تو آئی ایم ایف کو بھی کرے۔ یہاں تو اقرار ہی اقرار ہے، سرِ تسلیم خم ہے اور مزاج یار برہم ہے۔ عوام کی حالت کی حکومت کو کوئی فکر ہی نہیں نجانے یہ کس دنیا میں رہ رہی ہے۔ ادھر عوام ہیں کہ وہ بھی خاموشی سے ہر ظلم برداشت کئے جا رہے ہیں۔ دو وقت کی روٹی سے ایک وقت کی روٹی پر آ گئے ہیں، مگر اف تک نہیں کر رہے۔ آئی ایم ایف کو اس کی کوئی پروا نہیں کہ وہ جو شرطیں منوا رہا ہے ان کے اثرات کیا ہوں گے، ملک کیسے چلے گا، عوام کی حالت کیا ہو گی، مہنگائی کیا عذاب ڈھائے گی، محدود آمدنی والے کروڑوں پاکستانی جسم و جاں کی ڈور کیسے برقرار رکھیں گے، یہ تو ایسا لگ رہا ہے کہ ایک معصوم پرندہ کسی جنگلی درندے کے ہاتھ آ گیا ہے۔

جس کی جان اب اس کے رحم و کرم پر ہے۔ پاکستان بائیس تیئس کروڑ انسانوں کا ملک ہے، جس میں کروڑوں افراد خطِ غربت سے بھی نیچے زندگی گزارتے ہیں، ان پاکستانیوں کا واحد سہارا وہ سبسڈی ہوتی ہے، جو حکومت دے کر بعض ضروری اشیاء کی قیمتیں کم رکھتی ہے مگر آئی ایم ایف کو یہ گوارا نہیں، وہ چاہتا ہے لوگ جان سے جاتے ہیں تو جائیں انہیں سبسڈی دے کر زندہ نہ رکھا جائے اور یہ کام حکومت اب تو بے چوں و چراں کرنے لگی ہے، پہلے تو کچھ مزاحمت بھی دکھاتی تھی، پہلے اسی آئی ایم ایف نے سات سو ارب کے بلواسطہ ٹیکسوں کا نفاذ کرایا، پچھلا بجٹ ٹیکسوں کا سونامی ثابت ہوا جس کے اثرات اب ظاہر ہو رہے ہیں۔ ہر شے مہنگی ہو گئی ہے اور مہنگائی کے اشاریے اٹھارہ سے بیس فیصد تک چلے گئے ہیں، سال بہ سال اسی طرح ٹیکسوں کے حجم میں اضافہ ہوتا رہا تو پھر غریب کی کھال ہی باقی بچے گی۔ باقی تو سب کچھ آئی ایم ایف لے جائے گا۔ بجلی، گیس، پٹرول تو پہلے ہی آسمان پر جا رہے تھے، اب ضروری اشیاء بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں خود حکومت کا محکمہ شماریات اس کی گواہی دے رہا ہے۔ اب ایسے میں اگر حکومت اس بار بھی آئی ایم ایف کی بات مان لیتی ہے اور رہی سہی سبسڈی بھی ختم کر دیتی ہے تو اس ملک کا غریب موت کو سینے سے لگائے گا یا پھر وارداتیں کر ے گا

تاکہ زندہ رہ سکے۔آئی ایم ایف کی نظر بھی اس بات پر آٹکتی ہے کہ اس ملک میں غریبوں کو سبسڈی کس کس چیز پر مل رہی ہے۔ وہ کبھی سرمایہ دار طبقے کو دی جانے والی مراعات واپس لینے کی بات نہیں کرتا۔ وہ کبھی براہ راست ٹیکسوں پر زور نہیں دیتا، اس کا سارا دباؤ جی ایس ٹی کے لئے ہوتا ہے۔ اس جی ایس ٹی کے لئے جس کا تماتر بوجھ غریب لوگوں پر پڑتا ہے۔ اس وقت کوئی مجھ سے پوچھے کہ اس حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج کیا ہے تو میں کہوں گا غریب عوام کو زندہ رکھنا اس حکومت کا سب سے بڑا ٹاسک ہے آئی ایم ایف تو ہرگز نہیں چاہے گا غریب عوام کو کوئی ریلیف ملے۔ مگر حکومت کو یہ دیکھنا ہے اس وقت عوام کی قوتِ خرید کس حد تک گر چکی ہے اور ان کے لئے دن گزارنا کتنا بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ یہ وقت ہے حکومت کم از کم ضروری اشیاء پر جیسے تیسے سبسڈی دے کر عوام کو ریلیف دے، یہ صرف سیاسی مقبولیت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ کروڑوں افراد کی زندگی کو عذاب سے نکالنے کی ایک ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف کے سامنے حکومت جرأت کا مظاہرہ کر کے معیشت کو حقیقی تصویر رکھے اور عوام کی معاشی حالت کا مقدمہ لڑے، صرف غلامانہ انداز سے ہر بات مان لینا عوام پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ اس وقت عوام کو مزید سبسڈی دینے کے بارے میں سوچے نہ کہ ان سے رہی سہی سبسڈی بھی واپس لے لے جو موجودہ حالات میں حکومت کی بہت بڑی غلطی ہو گی۔

Comments are closed.