توخان صاحب نے کیا حیران کن جواب دیا ؟ رؤف کلاسرا کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) سینیٹ کا مقصد تھا‘ وہ لوگ ‘جو بہت پڑھے لکھے ہوں لیکن وہ الیکشن نہیں جیت سکتے‘ انہیں سینیٹ میں لایا جائے تاکہ وہ ٹیکنوکریٹ کی جگہ سنبھال سکیں۔ یہاں ٹیکنوکریٹس کی جگہ بھی وفادار ذاتی ملازم سینیٹ میں لائے گئے۔ آپ خواتین کی مخصوص سیٹوں پر دیکھ لیں‘

نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ بڑے سیاسی شرفا جو ماں‘ بہن‘ بیٹیوں کو گھر سے باہر نہیں نکلنے دیتے تھے لیکن جونہی جنرل مشرف نے خواتین کی مخصوص سیٹیں متعارف کرائیں‘ اپنے ہی گھر سے ایم این ایز چن لیں‘ کیونکہ تگڑی تنخواہ ملتی تھی اور مفت اندرون اور بیرون ملک سفر‘ مفت علاج‘ لاکھوں کے الاؤنسز‘ کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز اور سیاسی اثرورسوخ الگ ۔ پیپلز پارٹی دور میں بہت سی خواتین ایم این ایز نے اپنے کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز لکی مروت کے ٹھیکیداروں کو بیچے۔ ایک کروڑ پر بیس لاکھ روپے کمیشن نقد۔ یہ سکینڈل میں نے 2012-13ء میں فائل کیا تھا ۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) نے صرف لاہور سے پچاس کے قریب خواتین کو مخصوص سیٹوں پر نامزد کیا۔ تحریک انصاف نے تو لاہور کے ایک حلقے سے پندرہ خواتین کو اسمبلیوں کا ممبر بنا دیا۔اب یہ سب لیڈرز چاہتے ہیں کہ وہ اپنے وفاداروں‘ ارب پتیوں اور ذاتی دوستوں کوسینیٹ میں لائیں اورکوئی سوال نہ پوچھے۔ ارشد شریف نے ایک انٹرویو میں عمران خان صاحب سے پوچھا :یہ زلفی بخاری کون ہیں؟ جواب دیا کہ وہ لندن کے ایک بڑے بزنس مین ہیں۔ارشد نے پوچھا کہ کاروبار کیا کرتے ہیں؟عمران خان نے جواب دیا کہ یہ تو میں نہیں جانتا۔ جس کے کاروبارتک کا علم نہ تھا وہ پاکستان کا وزیر بن گیا کیونکہ وہ ذاتی دوست ہے۔ اعظم سواتی کے خلاف سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی کی پانچ رپورٹیں پیش کی گئیں وہ بھی سینیٹر اور وزیر ہیں۔

وجہ سب جانتے ہیں۔ ایک صاحب امریکہ سے دلوالیہ ہوکر بھاگے اور خان صاحب کے اہم وزیر بن گئے کیونکہ وہ چندہ اکٹھا کر کے دیتے تھے۔ اب شاید سوچا جارہا ہے کہ ایسے ذاتی دوستوں کو سینیٹ میں لایا جائے جن کے کاروبار کا خود عمران خان کو بھی علم نہیں لیکن نوازشات بہت ہیں۔ کوئی ایم این اے یا ایم پی اے اگر کسی ارب پتی اجنبی کو ووٹ نہیں دینا چاہتا تو اس کو باندھ دیا جائے گا کہ وہ اس اے ٹی ایم کو ضرور ووٹ دے کیونکہ وہ صاحب پر بڑا پیسہ خرچ کرچکا ہے۔چونکہ ایسے لوگوں کو خطرہ ہے کہ انہیں ووٹ نہیں پڑے گا اور کہیں پارٹی کے ارکان بغاوت نہ کر جائیں‘ لہٰذا سب سے ہاتھ کھڑا کرایا جائے گا۔ خطرہ وہی ہے کہ کہیں ایم پی ایز اور ایم این ایز اپنے ووٹ ماضی کی طرح کسی اور کو نہ بیچ دیں‘ لہٰذا شو آف ہینڈز کیا جائے تاکہ ذاتی یار دوستوں اور ارب پتیوں کو کھپایا جاسکے جیسے ماضی میں ہوتا رہا۔سوال یہ ہے کہ یہ سربراہان ایسے لوگوں کو ہی کیوں سینیٹ میں لاتے ہیں جو انہیں مال کھلاتے ہیں یا بیرون ملک خدمت کرتے ہیں؟ آپ نام دیکھنا شروع کردیں تو کچھ قابل احترام سینیٹرز کے علاوہ پتہ چلے گا کہ اکثریت ان کی ہے جنہوں نے پارٹی سربراہوں پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ ماضی میں ایک سینیٹ ٹکٹ کا ریٹ پانچ سے دس کروڑ روپے تک لگتا رہا ہے۔ کچھ امیدوار خود ووٹ خرید لیتے تھے جیسے خیبر پختونخوا میں ہوتا تھا‘

جہاں پی ٹی آئی کے بیس ارکان نے ووٹ بیچ دیا تھا۔ ان سب ایم پی ایز نے سوچا ہوگا کہ جو پارٹی امیدوار ہمارے صاحب کو کروڑوں دے کر ٹکٹ خرید لائے ہیں وہ خود کیوں نہ اپنا الیکشن کا خرچہ نکال لیں ‘لہٰذا انہوں نے لاکھوں میں ووٹ بیچے۔سوال یہ ہے کہ اگر ووٹ ہاتھ اٹھا کر دینے ہیں تو بہتر ہے جیسے پارٹی لیڈر مخصوص نشستوں پر اپنی اپنی پسند کی خواتین کے نام الیکشن کمیشن کو بھیج دیتے ہیں کہ فلاں فلاں کو ایم این اے یا ایم پی اے کا درجہ دے دیں ویسے ہی سینیٹ کا کر لیں۔ مرضی کے دوستوں کے نام الیکشن کمیشن کو بھیج دیں‘ یہ شو آف ہینڈز کا بھی تکلف کیوں کررہے ہیں۔ اگر ان سیاسی حکمرانوں نے میرٹ پرسینیٹ کی ٹکٹیں دی ہوتیں تو یقینا سب اس فیصلے کی تعریف کرتے‘ لیکن کیا کریں ماضی میں چند ایسے کرداروں کو سینیٹ کی ٹکٹیں جن بنیادوں پر دی گئیں وہ سوچ کر ہی جھرجھری آتی ہے اور اب بھی ایسے ہی ارب پتی دوستوں کی فہرست تیار ہے۔ اب سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ خود پارٹی فنڈ یا عطیہ کے نام پر کروڑوں روپے لے کرسینیٹر بنوائیں گے یا ایم پی ایز کو موقع دیں گے کہ وہ لاکھوں لے کر ووٹ بیچیں‘ لہٰذا اب ہاتھ کھڑے کرنا ہوں گے۔ بہرحال یہ طے ہے کہ کروڑوں روپے اب بھی ایک ایک ٹکٹ پر خرچ ہوں گے‘ لیکن وہ پیسے اب ایم پی ایز کے بجائے آپ تو جانتے ہی ہیں کس کی جیب میں جائیں گے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.