توفیق بٹ نے اپنی والدہ کے جنازے کے دن اپنے والد سے کیا جھوٹ بولا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔چھ روز پہلے مجھے جب یہ پتہ چلا انہیں کورونا ہو گیا ہے۔ میں ان دنوں اٹک میں تھا۔ یہ خبر سن کر میرے دل کو عجب سی بے چینی لگ گئی۔ تب مجھے احساس ہوا مجھے اب

بھی ان سے محبت ہے۔ جب ان کے ایک گردے میں سرطان کی تشخیص ہوئی میں انہیں دیکھنے ان سے ملنے شریف میڈیکل سٹی رائے ونڈ ہسپتال گیا تھا۔ مجھے یاد ہے وہاں سے میں سیدھا حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار پر گیا، چند دیگیں مستحقین میں تقسیم کیں اور دعا کی اللہ قاسمی صاحب کو جلد از جلد صحت یاب فرمائے…. انہوں نے ابتدا میں میری بہت سرپرستی کی۔ میں نے بھی انہیں ہمیشہ بڑے بھائی کا درجہ دیا۔ اب میں خود کو کوستا ہوں میں کیوں اتنی کم ظرفی پر اتر آیا انہیں ناراض کر لیا۔ اور راضی کرنے میں کئی سال لگا دیئے۔ 2011ءمیں میری والدہ اور 2015ءمیں والد محترم کا انتقال ہوا۔ میں امی اور ابو کے جنازوں میں سب سے زیادہ جس شخصیت کا منتظر تھا وہ قاسمی صاحب تھے۔ امی کے انتقال کے روز رات کو والد صاحب نے مجھ سے پوچھا ”قاسمی صاحب آئے تھے؟“…. میں نے ان سے جھوٹ بول دیا۔ میں نے کہا ”جی ابو جی آئے تھے، آپ ذرا لیٹے ہوئے تھے، میں نے آپکو اٹھانا مناسب نہیں سمجھا“…. اس وقت انہوں نے قاسمی صاحب کو کچھ ایسی دعائیں دیں، مجھے جب پتہ چلا انہیں کورونا ہو گیا ہے، مجھے ابو جی کی وہ دعائیں یاد آ گئیں۔ مجھے یقین تھا کورونا ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ البتہ جیسی ہنس مکھ طبیعت کے وہ مالک ہیں۔ میں نے سوچا ، کورونا کہیں یہ نہ سوچ لے اس نے اب ہمیشہ قاسمی صاحب کے ساتھ رہنا ہے۔ جیسے اکثر لوگوں کی

ان سے ملنے کے بعد یہ خواہش ہوتی ہے کہ انہیں اب ہمیشہ ان کے ساتھ ہی رہنا ہے۔ پیر کو قاسمی صاحب سے ملنے کے بعد سیدھا امی ابو کی قبروں پر گیا۔ میں اصل میں ان سے معذرت کرنے گیا تھا کہ ان کی تربیت کے برعکس میں لوگوں کو ناراض کرنے میں جلدی کر دیتا ہوں ، اور ان کی تربیت کے مطابق لوگوں کو راضی کرنے میں دیر کر دیتا ہوں۔ منیر نیازی یاد آئے…. ”ضروری بات کہی ہو ، کوئی وعدہ نبھانا ہو۔ اسے آواز دینی ہو۔ اسے واپس بلانا ہو…. ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں…. مدد کرنی ہو اس کی۔ یار کی ڈھارس بندھانا ہو…. بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو…. ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں…. بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو۔ کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو…. ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں …. کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو۔ حقیقت اور تھی کچھ اس کو جاکے یہ بتانا ہو…. ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں…. قاسمی صاحب سے برسوں بعد ہونے والی ملاقات میں سب سے زیادہ جس ادبی شخصیت کو ہم نے یاد کیا وہ منیر نیازی تھے۔ اپنے کچھ مخالفین کی کچھ خوبیوں کا ذکر بھی انہوں نے بڑی محبت سے کیا۔ ان کے ساتھ ان کی دوریاں بھی اللہ کرے جلد ختم ہوں۔ وہ جب اپنے مخالفین کی کچھ خوبیوں یا ان کی کچھ خصوصیات کو یاد کر رہے تھے، مجھے لگا ایسے ہی میری غیر موجودگی میں

مجھے بھی وہ اچھے الفاظ سے یاد کرتے ہوں گے ، مجھے کوئی بتاتا نہیں ہو گا…. یہاں ایسے ہی ہوتا ہے۔ کوئی کسی کے خلاف بات کرے اسے چار باتیں پہلے سے ڈال کر لوگ بتاتے ہیں۔ اور کسی کی غیر موجودگی میں کوئی کسی کے حق میں کچھ کہے وہ اسے نہیں بتاتے۔ ہمارے اس رویے نے لوگوں کو ایک دوسرے کا ” دشمن“ بنا دیا ہے۔ بہرحال قاسمی صاحب کے مجھ پر بے پناہ احسانات ہیں ، سب سے بڑا احسان یہ ہے انہوں نے دل سے مجھے معاف کر دیا ہے….اب میں ایک اور شخصیت کی بات کرنے لگا ہوں جن سے زندگی میں میرا بڑا ذاتی و قلبی تعلق رہا۔ میں انہیں ہمیشہ ”بھائی جان“ کہہ کر بلاتا تھا۔ وہ بھی بہت محبت کرتے تھے۔ اس شب برات کو میں نے اس محبت کو بھی بحال کرنے کی کوششیں کی۔ یہ جناب ذوالفقار احمد چیمہ ہیں۔ مجھے اب صحیح طرح یاد نہیں ہماری اتنی نزدیکیاں اس قدر دوریوں میں کیوں بدلیں؟۔ اس میں بھی سارا قصور یقینا مجھ ایسے کم ظرف کا ہی ہو گا۔ ہماری نزدیکیوں کا یہ عالم تھا میں جب گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتا تھا ، میں نے ہم سخن ساتھی کے نام سے ایک ادبی و ثقافتی ادارہ قائم کیا۔ اس ادارے کے زیر اہتمام کوئی ادبی و ثقافتی تقریب ان کے بغیر مکمل نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ اکثر تقریبات ان کے مشورے سے ہوتی تھیں۔ اولڈ راوینز ایسوسی ایشن اور ہم سخن ساتھی کی تقریبات میں اکثر لوگ صرف انہیں سننے آتے تھے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *