توفیق بٹ نے حیران کن واقعہ بیان کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حکمران وقت نے حکمرانی سے قبل دورانِ سفر مجھ سے اچانک پوچھا ”وفادار اور مخلص میں کیافرق ہوتا ہے؟“….عرض کیا تھا ”اپنے کسی دُم ہلاتے ہوئے وفادار کو آپ یہ حکم دیں کہ یہ چِٹا دِن ہے تم اِسے رات کہہ دو

”وہ بلاسوچے سمجھے کہہ دے گا…. اور اگر یہی حکم آپ اپنے کسی مخلص ساتھی کو دیں وہ بِلا سوچے سمجھے آپ کے حکم کی تعمیل کرنے کے بجائے آپ کو قائل کرنے کی ہرممکن حدتک کوشش کرے گا کہ آپ درست نہیں فرمارہے“…. میری بات سُن کر وہ خاموش ہوگئے، کچھ تو¿قف کے بعد میں نے عرض کیا ”اللہ نے اگر آپ کو شرف حکمرانی بخشا آپ دُم ہلاتے ہوئے وفاداروں کے بجائے مخلص لوگوں کو اپنے قریب رکھئے گا، جوآپ کی ناراضگی کے خوف سے بالاترہوکر آپ کو سچ بتائیں “…. مفت کا یہ مشورہ اُنہیں پسند تو اُس وقت بہت آیا تھا، تین بار اُنہوں نے ” ان شاءاللہ“ کہا، اب جو حالات ہیں میں سوچتا ہوں پاکستان کی حکمرانی میں اللہ جانے کیا ایسی خرابی ہے اچھی سے اچھی سوچ رکھنے والا شخص بھی حکمران بدلنے کے فوراً بعد نہ سہی، کچھ ہی عرصے بعد ایسے بدل جاتا ہے عقل دنگ رہ جاتی ہے،…. ہمیں وہ زمانہ یاد ہے، کیا سنہری زمانہ تھا، حکمران وقت کی غیرضروری طورپر کوئی شخص تعریف یا خوشامد کرتا وہ شرما جاتے، کبھی کبھی غصے میں بھی آجاتے، اپنے مخصوص سٹائل میں اُس سے کہتے ”چُپ کرو، چُپ کرو، مجھے سب پتہ ہے“…. افسوس وزیراعظم بننے کے بعد اپنی اِس ”خصوصیت“ سے بھی وہ محروم ہوگئے، اب اُن کے اِردگرد زیادہ تر اُن کی خوشامد کرنے والے ہی دکھائی دیتے ہیں، اکثر تقریبات میں وہ سٹیج پر بیٹھے ہوتے ہیں اور اُن کی موجودگی میں اُن کے وزیر مشیر اور افسران مائیک پر آکر اپنے مخصوص” بھاگ لگے رین“ والے سٹائل میں اُن کی خوشامد کی انتہا کررہے ہوتے ہیں اور وہ مُسکرارہے ہوتے ہیں،…. بندہ پوچھے وہ آپ کے وزیر مشیر ہیں آپ کی تعریف یا خوشامد کرنا اُن بے چاروں کی مجبوری ہے، اُن کی ”نوکری“ کا مسئلہ ہے، وہ یہ نہیں کریں گے تو کیا کریں گے؟،…. اصل میں تو یہ دیکھنا چاہیے کسی کی غیرموجودگی میں کوئی اُس کے بارے میں کیا کہتا ہے؟”سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرافسانہ کیا….کہتی ہے تجھے خلقِ خدا غائبانہ کیا ….خلقِ خدا وہی کہہ رہی ہے جو ندیم افضل چن نے کہا ہے، بلکہ جو کچھ ندیم افضل چن نے ابھی تک نہیں کہا خلقِ خُداوہ بھی کہہ رہی ہے، کوئی سنے نہ سنے الگ بات ہے…. جہاں خُداکی کوئی نہ سنتا ہو، خلقِ خُدا کی کون سنے گا ؟۔ سُنا ہے وزیراعظم نے ندیم افضل چن کا استعفیٰ ابھی تک قبول نہیں کیا، اُنہوں نے تو ندیم افضل چن کو بھی ابھی تک قبول نہیں کیا،…. ایسے لوگوں کو قبول کرنا بھی نہیں چاہیے، جو حق سچ کا ساتھ دیتے ہوں، اپنے عہدے اپنے منصب کا غلط استعمال نہ کرتے ہوں، سیاست کو حقیقی معنوں میں عبادت سمجھتے ہوں، رشتوں کی اہمیت اور قدر سے آشنا ہوں، اخلاقی قدروں سے مالامال ہوں…. ایسے لوگوں کی ہماری سیاست اور حکومت میں اب گنجائش ہی کہاں ہے ؟؟؟!! 

Comments are closed.