توفیق بٹ نے مایوس ہر کر حیران کن بات کہہ دی

 لاہور (ویب ڈیسک) یہ پہلی حکومت ہے جس نے آبادی کم کرنے کی پالیسی بلکہ ”کامیاب پالیسی“ یہ اپنائی ہے ہر شے مہنگی کردی، خصوصاً روٹی اتنی مہنگی کردی لوگ بھوک سے مرمرکر یہ ثابت کردیں سرکار کی مہنگائی زیادہ کرکے آبادی کم کرنے کی پالیسی واقعی کامیاب رہی ہے،

نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ جہاں تک غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کا تعلق ہے، اِس ملک کے ساتھ جو کچھ ہم سب نے مل ملا کر کیا، اُس کے نتیجے میں ، کم ازکم میں یہ کہنے میں عارمحسوس نہیں کرتا اپنی اپنی طرز کے ہم سب ” غدار“ ہیں۔ میرے سمیت چوبیس کروڑ عوام پر غداری کی ایف آئی آردرج ہونی چاہیے ،اپنے اپنے طریقوں سے اِس ملک کو برباد کرنے ہر کسی نے کوشش کی، سوائے ہمارے موجودہ وزیراعظم کے، اِس وقت وہ اکیلے محب وطن ہیں، کیونکہ اِس وقت اُن کی حکومت ہے، ہم اُن کے ساتھ عشق کے درجے پر فائز تھے، ہم تب بھی اُنہیں ”محب وطن“ ہی سمجھتے رہے جب دھرنے میں کنٹینر پر کھڑے ہوکر وہ بجلی کے بل جلاتے تھے، لوگوں کو ہنڈی حتیٰ کہ سول نافرمانی پر اُکساتے تھے، اُن کے عشق میں گرفتاری سے ہرگز ہمیں رہائی نہ ملتی گر وہ اقتدار میں نہ آتے، ہماری بس آنکھیں ہی بندرہ گئی تھیں، اُن کے اقتدار میں آنے کے بعدوہ بھی کھل گئیں، اب اپنے اندر سے اُٹھنے والے ایک سوال کا جواب ہمیں نہیں مِل رہا، ماضی میں بجلی کے بِل جلانے، یا سول نافرمانی پر لوگوں کو اُکسانے کے عمل کو ہم نے غداری نہیں سمجھا تو اب کچھ سیاستدانوں کی محض اتنی سی بات پر غدار کیسے سمجھ لیں کہ ”قومی اداروں کو وہی کردار ادا کرنا چاہیے جو آئین کے تحت اُن کا بنتا ہے؟“ وزیراعظم خان صاحب نے اپنے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں فرمایا ” مجھے کوئی شک نہیں اپوزیشن خصوصاً نواز شریف کے حالیہ بیانیے یا جارحانہ رویے کے پیچھے ہندوستان ہے“ …. خان صاحب نے گندی سیاست کو فروغ دینے کے لیے، یا اُس میں اپنا مزید حصہ ڈالنے کے لیے ایسے کہا تو اور بات ہے، لیکن اگر یہ درست ہے، اِس کے شواہد یا ٹھوس شواہد اُن کے پاس ہیں اور اِن شواہد کی تفصیلات وہ عوام کے سامنے نہیں لاتے پھر ایک ایف آئی آر اِس الزام کے تحت اُن کے خلاف بھی درج ہونی چاہیے کہ ایک ”تصدیق شدہ غدار“ کی غداری کے شواہد سامنے لانے میں نہ صرف اُنہوں نے غفلت برتی بلکہ اُس کے خلاف درج ہونے والی غداری کی ایف آئی آر سے لاتعلقی کا اظہاربھی کردیا …. یقین کریں ایک زمانہ تھا اپنے بزرگوں کی تربیت اور دین کے مطابق جھوٹ بولنے سے ڈرلگتا تھا، اب سچ بولنے سے ڈرلگتاہے کہ کہیں غداری کا کوئی الزام ہم پر بھی نہ لگ جائے …. ”سچ بولے گا قلم تیرا سر ہوجائے گا ….جھوٹ بول، زیادہ معتبر ہو جائے گا “ ….سو اِس معاشرے میں ”زیادہ معتبر“ ہونے کے لیے میں یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا ” خان صاحب کی حکومت ہر معاملے میں پچھلی تمام حکومتوں سے بہتر جارہی ہے“!!

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *