توفیق بٹ کا وزیراعظم عمران خان کو زبردست مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان بہت کم اپنے وزیروں مشیروں سے اُن کے محکموں کی کارکردگی بارے پوچھتے ہیں، کسی محکمے میں اُس کے وزیر یا مشیر کی کارکردگی چاہے صفر ہی کیوں نہ ہو، وہ اگر اپوزیشن، خصوصاً شریف برادران کو ٹکا کر مغلطات دے لیتا ہے، بدزبانی کی انتہا کردیتا ہے،

نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اور ساتھ خان صاحب کے قصیدے بھی گا لیتا ہے، تو اُس کی یہ ”اعلیٰ ترین کارکردگی“ اُسے بطور وزیر مشیر برقرار رکھنے کے لیے کافی ہے،…. اِس پس منظر میں آج کل صرف ایک ہی کام ہورہا ہے ہمارے حکمران، اپوزیشن کو مغلطات وغیرہ دے کر ایمان کی حدتک اِس یقین میں مبتلا ہو چکے ہیں اگلے الیکشن میں وہ اپنی صرف اِسی ”کارکردگی“ کی بنیاد پر دوتہائی اکثریت بغیر کسی سہارے اور بیساکھیوں کے ہی حاصل کرلیں گے، …. سو اِن حالات میں جبکہ حکمرانوں کی ”ترجیحات“ صرف اور صرف اپنی کمزور حکومت بچانا اور اپوزیشنی سیاستدانوں سے لڑائی جھگڑا کرنا ہے چودھری عبدالرحمان کو شعبہ صحت کے حوالے سے مسائل کم کرنے یا ختم کروانے کے لیے اپنی ہمت سے زیادہ جدوجہد کرنا پڑے گی، ….” پامی“ کا صدر منتخب ہونے کے فوراً بعد اپنی پہلی بڑی پریس کانفرنس میں حکمرانوں کو مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں جو ”وارننگ“ اُنہوں نے دی وہ بالکل جائز ہے، بدقسمتی سے پاکستان اب ایسا ملک ہے ، یا یوں کہہ لیجئے اِس کی شناخت اب ایک ایسے ملک کے طورپر ہے جہاں اپنے حقوق کے لیے باقاعدہ لڑنا پڑتا ہے، قربانیاں دینا پڑتی ہیں، احتجاج کرنے پڑتے ہیں، یہ محاورہ ”جب تک بچہ روتا نہیں ماں بھی اُسے دودھ نہیں پلاتی“ کسی نے ایسے ہی نہیں بنایا، …. یہاں بات ”بچوں“ کی نہیں اُن ”بڑوں“ کی ہے جو بچے بنے ہوئے ہیں، البتہ ایک اعتبار سے وہ ”بچے“ نہیں کہ بچے آپس میں لڑتے ہیں تو

بہت جلد راضی ہو جاتے ہیں، جبکہ اِس ملک کے ”بڑوں“ کی لڑائی نے ملک توڑدیا، اور جو بچا کھچا ہے اُسے کمزور کرنے کے درپے ہیں، …. وزارت عظمیٰ کا حلف اُٹھانے سے دوروز قبل خان صاحب کی خدمت میں جو چند گزارشات بہت زور دے کر میں نے کیں، ایک گزارش اُن میں یہ بھی تھی” اپوزیشن خصوصاً اِس ملک کی اصل قوتوں کی اپوزیشن کو مغلطات وغیرہ دے کر، یا دھرنے وغیرہ دے کر جونتائج یا فوائد آپ کو حاصل ہونے تھے، ہوچکے …. اب آپ اپوزیشن کو بھول کر صرف تین شعبوں پر توجہ دے کر ایسے شاندار نتائج حاصل کرسکتے ہیں اگلے الیکشن میں اِس ملک کی اصلی قوتوں کے سہارے کے بغیر ایسے مقام پر پہنچ جائیں گے جہاں کوئی وزیراعظم اب تک نہیں پہنچ سکا، …. میں نے اُن سے کہا وزارت عظمیٰ کا حلف اُٹھاتے ہی آپ ہنگامی بنیادوں پر صرف تین شعبوں صحت، تعلیم، انصاف ٹھیک کرنے کا بیڑا اُٹھا لیں“ ،اُنہوں نے میری اس بات سے نہ صرف اتفاق کیا بلکہ مجھ سے وعدہ بھی کیا ایسا ہی ہوگا، …. اب میں سوچتا ہوں اُنہوں نے ”بیڑا اُٹھانے“ کو کہیں ” بیڑا غرق کرنا “ نہ سمجھ لیا ہو، افسوس ذاتی طورپر میرے ساتھ ملک وقوم کے مفاد میں کیا گیا کوئی وعدہ اُنہوں نے پورا کیا نہ اپنے طورپر الیکشن میں جو وعدے لوگوں سے کرکے وہ آئے تھے وہ پورے کئے، پتہ نہیں کب تک اپوزیشن کو وہ چور چور کو کہہ کہہ کر اپنی نااہلیوں اور حماقتوں پر پردہ ڈالتے رہیں گے؟ یا کب تک وہ اپوزیشن کو ”این آراو نہیں دوں گا“ کے بلند وبانگ دعوے کی آڑ میں اپنا بچاﺅ کرتے رہیں گے؟۔….باقی چیزوں کو تو ایک طرف رکھیں، دوائیاں مہنگی ہوگئی ہیں لوگوں کا جینا مشکل مرنا آسان ہوگیا ہے، کاش اِس ملک میں ہرکسی کے پاس کوئی نہ کوئی جہانگیر ترین ہوتا جو کوئی خرچا ہی نہ ہونے دیتا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *