توفیق بٹ کی انوکھی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ملک کے مایہ ناز ٹی وی کمپیئر انگریزی ادب کے اُستاد، معروف کالم نگار اور شاعر دلدار پرویز بھٹی کی اچانک وفات کے بعد اُن کی فیملی کی مالی معاونت کے لیے ادارہ ہم سخن ساتھی کے زیراہتمام

ایک ”دلدار شو“ کا ہم نے اہتمام کیا تھا، الحمرا ہال لاہور کے ہال ون میں منعقد ہونے والے اِس شو میں ماضی کی مقبول ترین شخصیت اور آج کے وزیراعظم عمران خان بھی موجود تھے۔ نصرت فتح علی خان، عابدہ پروین، اے نیر، ثریا خانم، شوکت علی، عطا اللہ عیسیٰ خیلوی اور عنایت حسین بھٹی سمیت بہت سے معروف گلوکاروں نے اپنے فن کا مفت مظاہرہ کیا، اِس شو کی فنڈ ریزنگ کے لیے ذوالفقار احمد چیمہ نے ہماری بہت مدد کی تھی، اُنہوں نے اپنے بے شماردوستوں سے کہا اِس شوکے دعوتی کارڈ خریدیں، اس تقریب سے اُنہوں نے خطاب بھی کیا تھا، میرے مرحوم دوست دلدار پرویز بھٹی کی فیملی پر اُن کے اِس احسان کو میں اپنی ہی ذات پر ایک احسان سمجھتا ہوں جو مجھے نہیں بھُولنا چاہیے تھا، دلدار شو کی فنڈ ریزنگ کے لیے بہت سے اور دوستوں نے بھی مدد کی۔ میں اِس موقع پر اُن کا ذکر بھی کرنا چاہتا ہوں، میرے دوست سجاد احمد بھٹہ اُن دنوں لاہور میں اے ڈی سی جی (سٹی) تھے، اُنہوں نے بھی کمال کردیا، وہ میرے ساتھ چل کر سیٹھ عابد حسین (مرحوم) کے پاس گئے۔ اُنہوں نے ہمیں پچاس ہزار روپے دیئے جو 1994ءمیں ایک بڑی رقم تھی، لالہ عطا اللہ عیسیٰ خیلوی، سہیل احمد (عزیزی) سمیت کچھ اوردوستوں کی محنت اور محبت سے اِس شو کے لیے ہم نے ساڑھے سات لاکھ روپے اکٹھے کرکے دلدار پرویز بھٹی مرحوم کی اہلیہ عقیدہ بھابی کے سپرد کردیئے، اللہ میرے اِن تمام دوستوں کو اجرعظیم عطا فرمائے۔ اِس ضمن میں موجودہ وزیراعظم عمران خان کی ”مالی کنٹری بیوشن“ بھی نہ بُھولنے والی تھی۔ اور وہ یہ تھی وہ اِس شو میں اِس شو کا دعوت نامہ خریدکرآئے تھے جس کی قیمت صرف ایک ہزار روپے تھی۔ جیسی اُن کی طبیعت ہے اُن کے یہ ایک ہزار روپے بھی اِس لیے ہمارے لیے قابلِ قدرتھے کہ شو سے جاتے ہوئے اپنے یہ ایک ہزار روپے اُنہوں نے ہم سے واپس نہیں مانگ لیے تھے، دلدار پرویز بھٹی اُنہی کے ساتھ شوکت خانم میموریل ہسپتال کی فنڈ ریزنگ کے لیے امریکہ گئے تھے، جہاں اُن کا انتقال ہوگیا، اب شوکت خانم ہسپتال میں ایک وارڈ شاید مرحوم دلدار پرویز بھٹی کے نام پر ہے، میری تو خواہش تھی جس طرح خان صاحب نے بے شمار لوگوں سے شوکت خانم ہسپتال کے لیے پیسے اکٹھے کئے، اُسی طرح اپنے واقف کار کچھ دولت مندوں سے کچھ پیسے اکٹھے کرکے اپنے دوست دلدار پرویز بھٹی مرحوم کی بے گھر فیملی کے لیے چھوٹے سے ایک گھر کا بندوبست کردیتے، یہ اس لیے بھی مرحوم کا حق بنتا تھا کہ اُس نے شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر کے لیے ہرحوالے سے اُتنی ہی کوششیں کیں جتنی خان صاحب نے خود کیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.