توفیق بٹ کی انوکھی مگر سبق آموز تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔میں یہ کہنے میں کوئی عارمحسوس نہیں کرتا اس رویے اس کلچر، خصوصاًعدم برداشت کی آگ پر جتنا تیل موجودہ حکمرانوں نے ڈالا شاید ہی اور کسی نے ڈالا ہوگا۔ اب اِس کا خمیازہ مختلف صورتوں میں وہ خود بھی بھگت رہے ہیں، ….

اب بھی وقت ہے تحمل اور برداشت کی فضا قائم کی جائے، ایک دوسرے کی بات کو سنا جائے، نظریاتی اختلاف کو ذاتی دشمنیوں میں تبدیل نہ کیا جائے۔ ایک دوسرے سے مشاورت کے عمل کو پھر سے زندہ کیا جائے، …. مجھے اِس بات کی خوشی ہے ٹی ایل پی کے ساتھ حکمرانوں کے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں جس کے نتیجے میں مزید بدامنی رک گئی، میں نے خود بھی وزیراعظم سے گزارش کی تھی ملک بھر کے جید علمائے کرام سے ذاتی طورپر وہ یہ اپیل کریں کہ وہ اِس آگ کو بجھانے کے لیے ملک وقوم کے مفادمیں ہماری کچھ غلطیوں کو نظرانداز کرکے آگے بڑھیں، وزیراعظم نے اس حوالے سے قوم سے اپنے خطاب میں علمائے کرام سے جو اپیل کی اس کے اچھے اثرات ہی مرتب ہوئے، کشیدگی کچھ کم ہوئی، البتہ ایک المیہ اب تاریخ کا حصہ بن جائے گا دونوں فریقین کے غیرضروری ”اکڑاﺅ“ میں جو بے گناہ لوگ ہلاک یا زخمی ہوئے، بے شمارپولیس ملازمین بھی اُن زخمیوں میں شامل ہیں اُن کے ساتھ ہونے والے ظلم کا ذمہ دار کون ہے؟، اُنہیں کون انصاف دے گا؟، محض دوچار گلدستے یا کچھ ”مذہبی لوریاں“ ان کے زخم بھر سکیں گی ؟، جو دنیا سے چلے گئے اُن کا خون کس کے کھاتے میں لکھا جائے گا؟، اُن کے ملزمان کون ہیں؟ …. میں ایسے ہی یہ نہیں کہتا ”اللہ کو پتہ تھا دنیا میں لوگ ایک دوسرے کو سچا انصاف نہیں دے سکیں گے شاید اِسی لیے اللہ نے اپنا ایک ” یوم حساب“ مقرر کیا، اُس روز سب کے کھاتے کھل جائیں گے۔ اُن کے بھی جو دین کے نام پر دین کا کاروبار کرتے رہے، جو آپ کی ناموس کا جھنڈا پکڑ کر آپ کی تعلیمات کے برعکس کردار ادا کرتے رہے، اور ان کے بھی جو مدینے کی ریاست کی آڑ میں اپنے اُلو سیدھے کرتے رہے، …. آخر میں ایک شعر…. ”میں حرف حق بھی زباں پہ نہ لاسکا….دروغ گوئی کمال حیات ٹھہری ہے“….

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *