توفیق بٹ کی ایک جذباتی تحریر ، دل کی بھڑاس نکال ڈالی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ گزشتہ دودنوں سے میں سرپکڑ کر بیٹھا ہوا ہوں۔ سوشل، الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا کے پاس صرف ایک ہی موضوع ہے کہ چند ارکان اسمبلی نے سینٹ کے گزشتہ الیکشن میں اپنا ووٹ یا ضمیر کروڑوں میں بیچ دیا، ایسے لالچی وبدبخت

لوگوں کو ضرور ایکسپوز ہونا چاہیے مگر جن بے شمار ارکان اسمبلی نے اپنے ضمیر نہیں بیچے اُنہیں خراج تحسین افواج پاکستان یا کسی اور ادارے نے تو ظاہر ہے نہیں کرنا …. گزارش بس اتنی ہے جہاں خرابیوں کو روشن کرنے کے لیے اپنے حصے کا چراغ جلانا ہم فرض سمجھتے ہیں وہاں کسی کی خوبیوں کے حوالے سے اپنے حصے کے چراغ جلاتے ہوئے ہمیں موت کیوں پڑتی ہے؟ …. اِس ملک کا کون سا شعبہ بچ گیا ہے جو خرابیوں سے مکمل طورپر پاک ہو؟، صرف یہ ہے کہ کچھ شعبوں کی خرابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ہمارے کٹے ہوئے پر جلتے ہیں۔ اُن کے بارے میں لب کشائی کرتے ہوئے ہماری جان جاتی ہے، بعدازاں جو واقعی چلی جاتی ہے، …. میں کتنے عرصے سے بھونکی جارہا ہوں ہماری سیاست کو انتہائی مذموم مقاصد کے لیے بدنامی کے مقام تدفین پر لے جایا جارہا ہے۔ چند گندے سیاستدانوں کو جواز بناکر پوری سیاست کو غلاظت کا اک ڈھیر بناکر پیش کیا جارہا ہے، …. سینٹ کے الیکشن میں جن چند ارکان اسمبلی نے اپنے ووٹ یا ضمیر بیچ کر کروڑوں اربوں روپے کمائے ان کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے پر دوسرے شعبوں سے وابستہ ”فرشتے“ جب کمیشن بناتے ہیں، لُوٹ مارکرتے ہیں، جن کی چوری پر بات کرنا تو دورکی بات ہے سوچنا بھی ”جُرم “ ہے۔ اُن کی بھی کچھ ویڈیوزشاید ہوں، ہے کسی میں اتنی جرا¿ت ان ویڈیوز کو ویسے وائرل کرے جیسے چند سیاسی بدمعاشوں کی بدعنوانی و دیگر اخلاقی خرابیوں کی ویڈیوز وائرل ہوجاتی ہیں؟ اور اس کے فوراً بعد ہمارا میڈیا ہمارا سوشل میڈیا اس موضوع ایسے جھپٹ پڑتا ہے عرض کرنے کا مقصد یہ ہے اِس ملک کے صرف سیاستدان ہی چور اور بدعنوان نہیں، وہ بس ہمارا ”سافٹ ٹارگٹ ہیں، اِس ملک کو تباہی کے اس مقام پر لے جانے میں ہم سب نے اپنا حصہ ڈالا۔ یہاں بدعنوانی کے خلاف اسی فی صد لوگ وہ ہیں جنہیں بدعنوانی کے مواقع نہیں ملتے۔ !!

Comments are closed.