توفیق بٹ کی شاندار تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) بے شمار پرندوں اور جانوروں کے حوالے سے ایک اور بات یا اُن کی ایک اور ”خصوصیت“ جوخاص طورپر میں نے محسوس کی کہ بے شمار انسانوں کی طرح وہ لالچی یا ہوسی نہیں ہوتے، کسی پرندے یا جانورکا کوئی ”بینک اکاﺅنٹ“ نہیں ہوتا، کسی کی کوئی جاگیر کوئی پلاٹ کوئی زرعی زمین نہیں ہوتی،

نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی پلازہ، کوئی مارکیٹ کوئی کالونی کوئی ہاﺅسنگ سوسائٹی نہیں ہوتی، جہاں سے مِل گیا کھا لیا، جہاں جگہ ملی قیام کرلیا، ان جانوروں یاپرندوں نے ہماری طرح گندم یا چاولوں کے ذخیرے کے لیے”بھرولے“ نہیں بھرے ہوتے، نہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے فکرمند ہوتے ہیں، نہ ہی اُن کے لیے وہ حرام اکٹھا کرتے ہیں کہ دوسروں کے گھونسلوں سے اُٹھا اُٹھاکر اپنے گھونسلے بھرلیں، وہ ہم بے شمار انسانوں کی طرح جس تھالی میں کھاتے ہیں اُس میں سوراخ بھی نہیں کرتے، شیرجنگل کا بادشاہ ہوتا ہے، اُس کی بھوک جب مٹ جاتی ہے اُس کے آگے چاہے اُس کی کتنی ہی مرغوب غذا کیوں نہ ڈال دی جائے وہ نہیں کھاتا، ایک ہم انسان ہیں ہماری بھوک ہی ختم نہیں ہوتی، کسی نے کیا خوب کہا ہے”میں نے کم کھانے کی وجہ سے کسی کو دم توڑتے نہیں دیکھا ، میں نے ہمیشہ زیادہ کھانے کی وجہ سے لوگوں کو بیمار ہوکر دم توڑتے دیکھا “،…. مجھے اِس وقت ایک بہترین انسان ملک معراج خالد( سابق نگران وزیراعظم مرحوم) یاد آرہے ہیں، ایک بار میں نے ان سے پوچھا” ملک صاحب آپ پچاسی برس کے ہوگئے، آپ کو نظر کی عینک تک نہیں لگی، میں نے کبھی نہیں سنا آپ کبھی بیمار ہوئے، آپ کی اتنی اچھی صحت کاراز کیا ہے؟“….وہ مسکرائے اور بولے ”میری اتنی اچھی صحت کا راز یہ ہے میں نے ساری زندگی سب کچھ کھایا مگر کم کھایا“ ….پرندے اپنے گھونسلے بھی چھوٹے چھوٹے بناتے ہیں، اُن کی بے شمار خوبیاں اُنہیں بے شمار انسانوں سے ممتاز کرتی ہیں، 

Comments are closed.