توفیق بٹ کے سوال کا آصف زرداری نے کیا جواب دیا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ہمارے اکثر سیاستدان دس پندرہ گھنٹوں ، دس پندرہ دنوں ، دس پندرہ مہینوں یا برسوں کی قید یہ سمجھ کر کاٹ رہے ہوتے ہیں وہ جب باہر آئیں گے انہیں باقاعدہ طور پر ”ایک ہیرو“ قرار دیا جائے گا۔

چاہے وہ کسی بڑے سے بڑے شرمناک یا سنگین ثابت شدہ جرم میں ہی قید کاٹ کر کیوں نہ باہر آئے ہوں۔ یہاں یہ بھی ہوا شرمناک جرائم میں قید کاٹنے کے ”انعام“ کے طور پر ہمارے بے شمار سیاستدانوں کو بڑے بڑے عہدے ملے۔ مجھے تو لگتا ہے ایک وقت آئے گا جب لوگ اپنے امیدواروں ووٹ دیتے ہوئے دیکھا کریں گے کہ اس نے قید کاٹی ہوئی ہے یا نہیں؟۔ ایک شخص تو قید کاٹنے کے انعام کے طور پر صدر مملکت بھی بن گیا تھا…. وہی شخص (زرداری) اب مجھے یاد آ رہا ہے۔ ایوان صدر میں ان کی خواہش پر ان کے ساتھ میری ون ٹو ون ملاقات کا اہتمام ہوا۔ انہوں نے جو بات زور دے کر کہی وہ یہ تھی کہ ”میری پارٹی کے بے شمار لوگ جنرل مشرف کو بی بی کے کیس میں ہ دار سمجھتے ہیں۔ وہ مجھے مختلف طریقوں سے مجبور کرتے ہیں میں جنرل مشرف سے اس کا بدلہ لوں۔ میں ان سے کہنا ہوں پاگلو بدلہ تو میں نے لے لیا ہے۔ جس طاقتور ترین شخص نے محض اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل نہ ہو سکنے پر کئی برسوں تک مجھے قید میں رکھا۔ حالانکہ وہ جانتا تھا ”شریفوں “ نے مجھ پر غلط اور ناجائز کیسز بنائے تھے ، اب وہی طاقتور ترین شخص گھر میں بیٹھ کر انتہائی بے بسی کے عالم میں صدر مملکت کی کرسی پر مجھے بیٹھا ہوا دیکھتا ہو گا ۔ اس پر کیا گزرتی ہو گی؟۔ یہ بدلہ نہیں تو اور کیا ہے؟…. وزیر اعظم عمران خان کو بھی بار بار میں نے سمجھایا ۔

ان کے وزیر اعظم بننے سے لے کر اب تک ہونے والی ہر ظاہری وخفیہ ملاقات ان کے آگے ہاتھ جوڑ کر گزارش کی کہ اقتدار کی ہوس میں مبتلا چور سابق حکمرانوں کو ان کے کئے کی سب سے بڑی سزا یہ مل گئی وہ اب اقتدار میں نہیں ہیں۔ اب آپ انہیں اور ان کے کیسزکو متعلقہ اداروں اور عدالتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اپنی توجہ صرف اور صرف عوامی مسائل کے حل کی طرف دیں۔ اگلے الیکشن میں لوگوں نے آپ کو اس بات پر ووٹ نہیں دینے کہ آپ سابق حکمرانوں کو برا بھلا کہتے رہے۔ ووٹ صرف کارکردگی کی بنیاد پر ملنے ہیں ، جو ابھی تک صفر ہے۔ آپ خود کو وزیر اعظم نہ سمجھیں۔ آپ خود کو وزیر تعلیم ، وزیر صحت اور وزیر انصاف سمجھیں۔ ان تین شعبوں میں کوئی بہتری آپ لے آئے آپ کے اقتدار کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوئی جرا¿ت بھی نہیں کرے گا…. افسوس انہیں مفت کا یہ مشورہ پسند نہیں آیا۔ انہوں نے عوام کے مسائل حل کرنے کا قدرے مشکل راستہ اختیار کرنے کے بجائے محض اپوزیشن کو مغلطات دینے کا آسان ترین راستہ چنا…. اب اسی آسان ترین راستے پر ان کا چلنا دشوار ہوا پڑا ہے۔ اقتدار بچانے کے لئے اب وہ ٹامک ٹوٹیاں مار رہے ہیں۔ اپنی تقریروں وغیرہ سے وہ لاکھ یہ ظاہر کریں وہ بڑے مطمئن ہیں یا اپوزیشن سیاستدانوں کی انہیں کوئی پروا نہیں ہے۔ پر ان کا اترا ہوا چہرہ ، ان کا غصہ ، خصوصاً ان کے لہجے میں روز بروز بڑھتی ہوئی کرختگی کچھ اور ہی پیغام دے رہی ہوتی ہے۔ ان کے کچھ امپورٹڈ ترجمانوں کے غیر ضروری ردعمل سے بھی یہی ظاہر ہو رہا ہوتا ہے ان کے ذہن پر صرف اپوزیشن سوار ہے۔ عوامی مسائل کی طرف ان کا کوئی دھیان ہے، نہ انہیں حل کرنے کا کوئی پلان یا اہلیت ان کے پاس ہے۔ بغیر کسی تقاضے کے ازخود اعتماد کا ووٹ لینے کے علاوہ وہ اور ان کی نااہل ٹیم لاکھ اپنی ”اخلاقی برتری“ قرار دے ۔ پر حقیقت یہی ہے یہ گھبرائے ہوئے لوگوں کا ایک عمل تھا ۔ پہلے ہمارے محترم وزیر اعظم اپنے عوام سے کہتے تھے ”گھبرانا نہیں ہے“…. اب یہی بات عوام ان سے کہہ رہے ہیں ۔

Comments are closed.