تو اسکے بعد انکے برے دن کیوں شروع ہو گئے اور یہ برے دن ختم کیسے ہوئے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد بلال غوری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ ایک بڑا کارنامہ کرکے ڈی آئی جی اللہ نواز خان ترین ایوب خان کے منظور نظر بن گئے ، اللہ نواز ترین ان دنوں سیاست کے اہم کردارجہانگیر ترین کے والد تھے ۔ایوب خان نے اپنی کتاب Diaries of Field Marshal Ayub Khanکے

صفحہ نمبر 98,99 پر نہ صرف اس واقعہ کی تفصیل بیان کی ہے بلکہ ڈی آئی جی اللہ نوازترین کی تعریف بھی کی ہے۔ایوب خان لکھتے ہیں کہ ’’ڈی آئی جی ترین اور ان کے ساتھیوں نے زبردست کام کیا جبکہ نیول انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی سو ئی رہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم انٹیلی جنس کے کام میں ابھی طفل مکتب ہیں۔‘‘ڈی آئی جی اللہ نوازترین کی زمین تربیلا کے مقام پربننے والے ڈیم کی زد میں آگئی تو حکومت نے لودھراں میں متبادل زمین الاٹ کردی۔جب ایوب خان کی جگہ تازہ دم ڈکٹیٹر یحییٰ خان نے عنان اقتدار سنبھالی تو ڈی آئی جی اللہ نوازترین کے برے دن شروع ہوگئے۔جن 300سرکاری افسروں کو برطرف کرنے کا فیصلہ ہوا،ان میں ترین کا نام بھی شامل تھا۔اللہ نوازترین نے ریٹائرمنٹ کے بعد کاشتکاری شروع کردی۔ان کا ہونہار بیٹا جہانگیر ترین میدان سیاست کےبڑے ناموں کا ہم عصر تھا۔مثال کے طور پر جہانگیر ترین 4جولائی1953 ء کو پیدا ہوئے تومیاں شہبازشریف نے 1951ء میں جنم لیاعمران خان 1952ء میں پیدا ہوئے ،اعجاز الحق نے اسی سال یعنی 1952ء میں آنکھ کھولی،،چوہدری نثار 1954ء میں پیدا ہوئے ،ہمایوں اختر خان کی پیدائش 1955ء میں ہوئی جبکہ جہانگیر ترین کے سب سے بڑے سیاسی حریف شاہ محمود قریشی جہانگیر ترین کی پیدائش کے 8سال بعد دنیا میں آئے۔جہانگیر ترین کو ان کے والد نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کی خاطر امریکہ بھیجا جہاں انہوں نے نارتھ کیرولینا یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا ۔پاکستان واپس آکر جہانگیرترین نے پنجاب یونیورسٹی میں بطور لیکچرر ملازمت اختیار کرلی

اور پھر ایک بینک اکائونٹس آفیسر کے طور پر کام کرنے لگے۔ایک دن اس نوکری سے دل اُکتا گیا تو لودھراں جا کر باپ سے کہا کہ میں کاشتکار ی کروں گا ۔باپ نے پوچھا ،تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ؟کسی سے لڑائی ہوئی ہے کیا؟ظاہر ہے امریکہ سے پڑھ کر آنے والا بچہ نوکری کرنے کے بجائے فارم ہائوس سنبھالنے کی بات کرے تو حیرت ہوتی ہے۔باپ نے بہت سمجھانے کی کوشش کی لیکن بیٹے کی ضد کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑے۔والد کے 400ایکٹر کے زرعی فارم سے کاشتکاری شروع کی ۔اس دوران محکمہ جنگلات نے لودھراں اور بہاولپور میں زمینیں فوج کو دیدیں تو یہ رقبہ فوجی افسروں کو الاٹ ہونے لگا۔جب کوئی الاٹمنٹ کے بعد ویران اور بیابان رقبہ دیکھنے میں آتا تو جہانگیر ترین اونے پونے داموں یہ زمین خرید لیتے۔اس دوران رحیم یار خان کے مخدوم خاندان میں جہانگیر ترین کا رشتہ ہوگیا اور وہ مخدوم احمد محمود کے بہنوئی بن گئے۔برادرِ نسبتی سے ملکر کاروبار کرنے پر ایک مرتبہ باپ سے ناراضی بھی ہوئی مگر جہانگیر ترین کی کاروباری سلطنت بتدریج پھیلتی چلی گئی۔1997ء میں شہبازشریف وزیراعلیٰ پنجاب بنے تو جہانگیر ترین کو پنجاب ٹاسک فورس آن ایگری کلچر کا چیئرمین بنادیا ۔لیکن تب تک کسی کو معلوم نہ تھا کہ جہانگیر ترین ایک روز سیاست کے بادشاہ گر بنیں گے۔جس طرح اللہ نوازترین کی قسمت کا ستارہ ایوب خان کے دور میں چمکا تھا اسی طرح جنرل پرویز مشرف کے دور میں جہانگیر ترین کی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔مخدوم احمد محمود ڈگری کی شرط کے باعث الیکشن نہ لڑ سکے تو جہانگیر ترین کو رحیم یار خان سے ایم این اے بنوادیا گیا۔مشرف دور میں جہانگیر ترین صنعت و پیداوار کے وزیر بن گئے۔2011ء میں انہوں نے ایک الگ دھڑا بنایا ،اپنی پارٹی بنانے کا سوچ رہے تھے مگر پھر کچھ سوچ کرپی ٹی آئی میں آئے اور چھاگئے۔طویل اتار چڑھائو کے بعد ان کے تعلقات عمران خان سے کشیدہ ہیں ۔ان کے والد زندہ ہوتے تو یقیناً نصیحت کرتے کہ محکوموں اور مجبوروں پر انحصار کرنے کا یہی نتیجہ ہوتا ہے۔میاں محمد بخشؒ کے الفاظ مستعار لیں تو۔۔۔نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے نئیں پایا۔۔کیکر تے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایا

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *